11 دسمبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
خیرالدین پاشا باربروسہ (Hayreddin Barbarossa, b. 1466) سمندری جہازرانی کا بہت بڑا ماہر تھا اور نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس کو امیر البحر کہا جاتا تھا۔ عیسوی میں ترکی کے عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کا اصل ہیرو یہی شخص کہا جاتا ہے کہ خیرالدین باربروسہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا امیر البحر تھا۔ اس کی مہارت اور بہادرانہ کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے مغرب تک ترکی بیڑے کا راج قائم ہوگیا۔ خیرالدین باربروسہ نے تقریبا اسّی سال کی عمر میں جولائی 1546 میں وفات پائی۔ بشک طاشی (Beşiktaş) میں دفن کیا گیا۔ اس کی قبر پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں ـــــــ مات امیر البحر
یعنی وہ شخص جو امیر بحر تھا اس کا انتقال ہو گیا۔ یہ ایک واقعی بیان ہے۔ یہ چار سو سال پہلے مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کوئی مسلمان مرے تو اس کی قبر پر لکھنے کے لیے اس قسم کے واقعی الفاظ کو نہیں ملیں گے۔ بلکہ وہ غیر واقعی قصیدہ خوانی کریں گے، اور کہیں گے کہ مثلاً امیر فضا اس دنیا سے چلا اگر چہ وہ حقیقت کے اعتبار سے ویسا نہ ہو۔ کتنا فرق ہے مسلمانوں کے حال میں اور مسلمانوں کے ماضی میں۔