12 دسمبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
اردو زبان ایک لٹریری زبان کی حیثیت سے مغل دور میں دہلی کے آس پاس علاقے میں 1835 میں جب فارسی بطور آفیشیل لیتھوایج کے ختم ہو گئی تو اس کے بعد اردو نے تیزی سے ترقی کرنا شروع کیا۔
یہ زمانہ اتفاق سے وہی ہے، جب کہ دوسری قوموں نے مسلمانوں سے ان کا pride چھینا تھا، اور وہ ان سے لڑنے بھڑنے میں مصروف تھے۔ قدرتی طور پر اس صورت حال کا reflection اردو زبان پر ہوا۔ اردو زبان ’’ٹکراؤ‘‘ کی زبان بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان میں کنفرٹیشن (confrontation) کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے بے شمار الفاظ ہیں مگر ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کے مفہوم کو بتانے کے لیے کوئی ایک بھی بامعنی لفظ نہیں۔
آدمی الفاظ کے ذریعے سوچتا ہے۔ جس زبان میں سوچنے کے لیے adjustment کے ہم معنی لفظ ہی نہ ہو، وہ کیوں کر زیادہ صحت کے ساتھ adjustment کی پالیسی پر غور کر سکتا ہے۔ اسپیکنگ کمیونٹی کی یہی بنیادی کمزوری ہے، جس کی بنا پر وہ ہر جگہ اپنے پڑوسیوں سے لڑ رہے ہیں، خواہ وہ پڑوسی مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
(مَنْ يُوصَفُ بِالْخَلِيفَةِ)
اسلام میں خلیفہ کے تقرر کا کوئی ایک متعین اصول نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
حضرت ابو بکر کی صفات (اہلیت) کا پورا علم تھا۔ مگر آپ نے حضرت ابو بکر کو صراحتہ خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔
حضرت ابو بکر کو عمر کی صفات (اہلیت) کا علم تھا تو آپ نے عمر کو خلافت کے لیے نامزد کر دیا اور اس معاملے میں خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس کے بعد عمر آئے تو انھوں نے تیسرا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے اپنے آخر وقت میں چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنا دی اور اس سے کہا کہ تم لوگ میرے بعد کسی کو خلیفہ بنا کر اس کے نام کا اعلان کر دینا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان امور میں کوئی ایک ہی مقرر اور متعین طریقہ نہیں ہے۔ چیز مصلحتِ اسلام ہے، نہ کہ کوئی متعین ڈھانچہ۔