1985 دسمبر 17
Al-Risala, October 2021, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
مستشرقین نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک نوع کی کتابیں وہ ہیں جو اسلامی قوموں کے مطالعہ پر لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں استدلال کا طریقہ بڑا عجیب و غریب ہوتا ہے۔ بعض غیر متعلق واقعات کو لے کر دکھایا گیا ہے کہ بعض قوموں (مثلاً الجزائر کے مسلمان) کا اسلام جانور پرستی، شجر پرستی اور ستارہ پرستی سے قریب ہے۔ حتیٰ کہ اسلام اور بت پرستی میں کوئی قابلِ ذکر بلکہ اسلام بت پرستی ہی کا تتمہ ہے۔
ان مستشرقین کی اکثریت عربی زبان سے برائے نام واقف تھی۔ اس لیے انھوں نے اسلام کو سمجھنے میں نہایت احمقانہ قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم خود مستشرقین کے حلقے میں سے گہر ا علم رکھنے والے لوگوں نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔
پروفیسر Alain نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انھوں نے ان مستشرقین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر میں اپنے قلم کو مخاطب کر کے یہ کہوں کہ اے میرے محبوب قلم، اور اس جملہ کو علم الاجتماع کے یہ ماہرین اپنی تحقیق میں شامل کر لیں تو وہ اس جملہ کوروحانیت سے منسوب کر دیں گے اور یہ کہیں
گی کہ میں نے اپنے قلم میں ایک چھوٹا دیو تا دیکھ لیا تھا۔ ”اس ملک میں عربی اور فارسی کو کلاسیکی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت ان کی ترقی پر کافی رقم خرچ کرتی ہے۔ یہاں کی تقریباً 20 یونی ورسٹیوں میں عربی کا شعبہ موجود ہے۔ کالجوں کی تعداد درجنو تیک پہنچتی ہے، جہاں عربی تعلیم کا انتظام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بہت بڑے بڑے دارالعلوم (بالفاظ دیگر دینی مدارس) قائم ہیں۔ ان کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہے۔ کامل آزادی کے ساتھ عربی زبان اور دینی علوم کی اشاعت کا کام کررہے ہیں۔ حکومت کے خرچ پر ایک عربی ماہ نامہ شائع ہوتا ہے۔ ریڈیو میں عربی کا پورا یونٹ قائم ہے۔ یہاں کی وزارتِ تعلیم عربی مدارس کو معقول امداد دیتی ہے۔ ان مدارس میں رہ کر کوئی شخص کسی عربی مخطوطہ کو ایڈٹ کرنا چاہے یا کسی عربی موضوع پر ریسرچ کرنا چاہے تو اس کو تین سو روپیہ ماہوار کا وظیفہ دو سال تک دیا عربی اور فارسی کے دو دو ممتاز عالموں کو حکومت ہر سال سند امتیاز دیتی ہے۔ اوپر کی عبارت ایک اقتباس ہے۔ یہ باتیں اگر یورپ کے کسی ملک کے بارے میں کہی جائیں تو مسلمانوں کو بہت اہم معلوم ہوگی۔ مگر مسلمانوں کو یہ باتیں اس وقت بے وقعت معلوم ہونے لگتی ہیں، جب انھیں بتایا جائے کہ یہ ہندوستان کی بات ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب یورپ یا امریکا جاتا ہے تو وہاں وہ بالکل غیر مزاحم (passive) بن کر رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں کے مواقع سے فائدہ اٹھا پاتا ہے اور اس کی اہمیت کو سمجھ لیتا ہے۔ مگر ہندوستان میں مسلمان شکایت اور احتجاج کے ذہن کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیے یہاں انھیں طرح طرح کی مشکلوں سے سامنا پیش آتا ہے۔ وہ ہندوستان کے مواقع کی قدر کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔
قرآن (6:12) میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ رکھا ہے (کتب علی
نَفْسِهِ (الرَّحْمَةَ) ۔ موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو حرمت اور عدل کا پابند نہیں کیا ہے، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے۔ مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف ایک اللہ کے پاس ہوگا، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے۔ اس لیے آخرت کی دنیا سراپا خیر ہوگی۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو حق کے اعتبار سے ہونا چاہیے، اور وہ نہ ہو سکے گا جو حق کے اعتبار سے درست نہ ہو۔ آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے۔