21 دسمبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر بات کو سمجھنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ اگر عقل کو استعمال نہ کیا جائے تو کوئی بات بھی سمجھ میں نہیں آسکتی، حتی کہ قرآن وحدیث کی بات بھی نہیں۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ قَالَهَا ثَلَاثًا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2670) ۔ یعنی شدت کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ یہ بات تین بار فرمائی۔
اگر ان الفاظ کو سادہ طور پر بالکل ظاہری معنی میں لے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہر چیز جس میں شدت کا پہلو ہو وہ ہلاکت کا سبب ہے، اس لیے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ مثلاً گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا۔ مہنگائی کے وقت جانور کی قربانی دینا، وغیرہ۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اس میں ایک لفظ کا اضافہ کرنا ہوگا۔ یعنی اس کو اس طرح کہنا ہوگا: ”هَلَكَ الْمُتَنَطُّعُونَ“ اى المشددون فى غير موضع التشديد (وہ لوگ ہلاک ہو گئے جو شدت نہ کرنے کی جگہ پر شدت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں) ۔ 23 دسمبر 1985 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں آیا ہے: جَاءَ أَخُوْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حَوْيِصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكِبْرَ الْكِبْرَ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4520)۔ یعنی کچھ بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ تو ان کے چھوٹے نے بولنا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: اپنے بڑے کو بولنے دو، اپنے بڑے کو بولنے دو۔
یہ صرف ادب کی بات نہیں بلکہ حکمت کی بات ہے۔ جو شخص عمر میں زیادہ ہو اس کا علم اور تجربہ بھی زیادہ ہوگا۔ وہ دوسروں سے زیادہ سنجیدہ ہوگا۔ ایسی حالت میں چھوٹوں کو جاننا چاہیے کہ ان کے بڑے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ بولیں۔ یہ ایک اہم اصول ہے جس کا تعلق ایک خاندان کے افراد سے بھی ہے اور پوری قوم سے بھی۔