24 دسمبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 41–42
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک قول یہ ہے : ما من شاب أكرم شيخاً لسنه إلا قيض الله له عند شيبته من يكرمه (المنتقى من مسموعات مرو للمقدسی، حدیث یعنی جو نو جوان کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کے وقت عزت کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے شخص کو مقدر کر دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے کی عمر میں اس کی عزت کرے۔ اصل یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل سے سماج کے اندر روایت (tradition) قائم کرتا ہے۔ اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت نہ کریں تو ماحول میں بوڑھوں کی بے عزتی کی روایت قائم ہوگی۔ کے برعکس، اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت کریں تو اس سے ماحول میں بوڑھوں کی عزت کرنے کی روایت قائم ہوگی۔ جس طرح آدمی اپنی بوئی ہوئی فصل کو کاٹتا ہے۔ اسی طرح لوگ اپنے ماحول میں جس قسم کی روایت قائم کریں اس کا ایک حصہ انھیں خود بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ 25 دسمبر 1985 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک روایت ان الفاظ میں آتی ہے: مَا أَكْرَمَ النِّسَاءَ إِلَّا كَرِيمٌ وَلَا أَهَانَهُنَّ إِلَّا لَئِيمٌ (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 13، صفحہ 313)۔ عورت کی عزت وہی کرتا ہے جو شریف ہو اور عورت کی بے عزتی وہی کرتا ہے جو کمینہ ہو۔
انسان کی شرافت کا معیار وہ سلوک نہیں ہے، جو وہ طاقت ور کے ساتھ کرتا ہے، بلکہ شرافت کا معیار وہ سلوک ہے، جو وہ کمزور کے ساتھ کرتا ہے۔ عورت چوں کہ کمزور مخلوق ہے، اس لیے اکثر حالات میں وہ کسی کے شریف یا غیر شریف ہونے کا پیمانہ بن جاتی ہے۔