26 دسمبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
تنقید کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے دلیل کی بنیاد پر تنقید، اور دوسری بے دلیل الزام۔ بنیاد پر تنقید کا حق ہر شخص کو ہے، مگر بے دلیل الزام کا حق کسی کو نہیں۔ ایک شخص اگر کسی کے خلاف بے دلیل الزام لگائے تو وضاحت کے بعد اس کو کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیے ۔ بے دلیل الزام لگانا اگر غلطی ہے تو وضاحت کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، اور سرکشی اللہ تعالیٰ کے یہاں نا قابلِ معافی جرم ہے۔ 27 دسمبر 1985 سموئل گولڈون (1879-1974 ,Samuel Goldwyn) امریکا کا مشہور فلم پروڈیوسر اس کی کمپنی پیرا ماؤنٹ پکچرز کارپوریشن کو 1960 میں 13 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کا
1913 میں اس نے اپنے دوشریکوں کے ساتھ مل کر اپنی پہلی فلم اسکواوین (The Squaw Man) بنائی تو اس کے پاس اپنے کارکنوں کو اجرت ادا کرنے کے لیے کافی رقم نہ تھی۔ گولڈون اور اس کے ساتھیوں کو جب مالی کمی نے بہت زیادہ پریشان کیا تو انھوں نے طے کیا کہ ان کی فلم کے لیڈنگ ایکٹر ڈسٹن فرنَم (1874-1929 ,Dustin Farnum) کو اس پر راضی کیا جائے کہ وہ اپنی ایکٹنگ کی اجرت لینے کے بجائے کمپنی میں حصّہ دار بننے پر راضی ہو جائے۔ گولڈون یہ سوچ کر ڈسٹن فرنَم کے پاس گیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے اپنی تجویز پیش کی، اس نے فوراً مطالبہ کیا کہ پوری مدتِ عمل کے لیے میری تمام تنخواہ پیشگی ادا کردی جائے ورنہ میں اس کمپنی میں کام نہیں کروں گا۔ ایکٹر کی یہ رقم کل پانچ ہزار ڈالر ہوتی تھی، جو کہ کمپنی کے اُس وقت کے کل سرمایہ کا 25 فی صد تھی۔
اگر ڈسٹن فرم کو معلوم ہوتا ہے کہ ’’پانچ ہزار ڈالر‘‘ کی قربانی اس کو ایک ایسے کاروباری ادارے میں 25 فی صد کے بقدر حصہ دار بنادے گی، جس کی آمدنی آدھی صدی کے بعد چودہ کروڑ ڈالر سالانہ ہو جائے گی تو یقیناً وہ اجرت مانگنے کے بجائے مذکورہ پیش کش کو بخوشی قبول کر لیتا— مگر انسان مستقبل کو نہیں جانتا، اس لیے وہ اتنے دور اندیشی کے فیصلے بھی نہیں کر سکتا۔ 28 دسمبر 1985 ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے۔ مگر استعمال سے اس میں وسعت یا فرق پیدا ہوتا رہتا یہ ہر زمانہ میں ہوتا ہے۔
مثلاً عربی کا ایک لفظ فتح ہے۔ یہ لفظ جب اشیاء کے لیے بولا جائے تو اس کے معنی سادہ طور پر صرف کھلنے کے ہوں گے۔ مثلاً فتح الباب (دروازہ کھولا)۔ مگر جب یہ لفظ حیوانات کے لیے بولا جائے تو معنی میں فرق پیدا ہو جائے گا۔ اب اس کے معنی صرف کھلنے کے نہ ہوں گے بلکہ کھل کر اچانک نکل پڑنے کے ہوں گے۔ مثلاً ٹڈیوں کا دل کسی گوشہ سے نکل پڑے تو کہیں گے: فتحت الجراد۔
الفاظ میں استعمال کے اعتبار سے جو وسعت پیدا ہوئی ہے، اس کو جو لوگ نہ جانیں، وہ کسی عبارت کو سمجھنے میں عجیب عجیب غلطیاں کر سکتے ہیں۔