Al-Risala · October 2021

30 دسمبر 1985

Al-Risala, October 2021, pp. 43–51

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کا ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر یہ فقرہ لکھا ہوا ہوتا ہے: مسلک اکابر کا ترجمان یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں کہا گیا ہے: اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ (9:31)۔ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا۔ کوئی شخص ایسا اخبار نہیں نکالتا جس کے اوپر یہ لکھا ہوا ہو کہ ’’مسلک صحابہ کا ترجمان‘‘۔ حتیٰ کہ یہ جملہ اگر کسی سے کہا جائے تو اس کو وہ اجنبی معلوم ہوگا۔ البتہ وہ اس قسم کے الفاظ بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ’’مسلک اکابر کا

ناکامی سے کامیابی کو نچوڑنا سیکھیں (مولانا وحید الدین خاں کی مثبت فکر، ایک جائزہ)

یہ مادی دنیا، جس میں انسان اپنی زندگی گزار رہا ہے، یہاں جب تک انسان کی سانسیں باقی ہیں اسے ہر لمحہ ولحظہ امتحان واختبار سے گزارا جا رہا ہے۔ یہ ایسا قدرتی عمل ہے جس کو ہر سنجیدہ انسان اپنی زندگی میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔ پریشانیوں اور غم واندوہ کے لمحات ہر انسان پر آتے ہیں۔ اب زندگی گزارنے کی ایک صورت یہ ہے کہ پریشانی یا دکھ غم کو زندگی کا وقتی حصہ سمجھ کر اسے اگنور کیا جائے، اور آگے کا سفر طے کیا جائے تاکہ نئے راستے اور نئی منزلیں مل سکیں ۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ ان حزن وغم کے لمحات کو وقتی سمجھ کر اگنور کرنے کے بجائے انہی کے دائرہ میں اپنی زندگی کاٹی جائے اور امید اور روشنی کے سارے راستوں کو بند سمجھا جائے۔ اس دوسرے قسم کے انسان کی زندگی فقط افسوس اور حسرتوں کی زندگی ہوگی، ایسا انسان حقیقت پسندانہ زندگی نہیں گزار اس حوالہ سے سب سے جامع اور مکمل رہنمائی رسول اللہ کی زندگی میں ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ چالیس سال بعد 610 عیسوی میں آپ کو نبوت ملی، 622 عیسوی کو آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمایا، اور 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا یہ سارا دعوتی سفر عزم و یقین سے بھر پور ایک داستان حیات ہے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام، اور آپ کا ساتھ دینے والے بنی ہاشم کو 7 نبوی 615ء میں مکہ والوں کی طرف سے مکمل معاشرتی مقاطعہ (social boycott) کا سامنا کرنا پڑا اور یہ معاشرتی پابندی (10 محرم) نبوت کے دسویں سال تک جاری رہی۔ یعنی تین سال تک رحمتہ للعالمین اور آپ کے خاندان کو اور آپ کے اصحاب کو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رکھ کر بنیادی حقوق اور ضروری سہولتوں (fundamental and basic rights) سے محروم رکھا گیا، اور سخت بھوک، پیاس اور تنگ حالی کی شدت میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ مگر اس مشکل اور کٹھن دور میں بھی رسول خدا ہمیشہ مثبت روش پر قائم رہے، یعنی صابرانہ عمل پر۔ اس دعوتی سفر میں پیش آنے والی مشکلات و

مصائب، آپ کے عزم میں کبھی رکاوٹ نہ بنیں اور نہ ہی آپ کو پیغمبرانہ مشن سے ہٹا سکیں ۔ اس کی کئی اہم وجوہات میں سے ایک اہم وجہ پیغمبرِ اسلام کا ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ رہنا تھا۔ اسی طرح ہجرت کا موقع آپ کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ اس وقت قریش نے آپ کو جان سے مارنا چاہا تھا اور آپ کی مخبری پر سو اونٹ کا انعام مقرر کیا تھا۔ اس مشکل گھڑی میں بھی آپ کی فکر مثبت دائرے میں تھی، اور آپ ہر لمحہ پرامید(hopeful)رہے۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر سب سے کٹھن لمحہ وہ ہے جب کہ آپ حضرت ابو بكر رضى اللہ عنہ کے ساتھ غار ثور میں پناہ لیے ہوئے تھے، اور قریش کے لوگ جو آپ کو قتل کرنے کے لیے آپ کی تلاش میں سرگرداں تھے، ننگی تلوار لیے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق نے جب ان کے قدموں کو دیکھا تو ان کو تشویش ہوئی۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو بتایا کہ قریش مکہ غار کے منہ تک پہنچ گئے اس مشکل ترین اور اعصاب کو شکست سے دوچار کرنے والے لمحے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرامید اور حوصلہ مند رہے ۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق سے فرمایا: مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اَللّٰه ثَالِثُهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4663؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر (2381) ۔ یعنی اے ابو بکر ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں، جب اللہ ہمارے ساتھ ہو تو خوف و حزن کی کیا بات ! قرآن حکیم نے اس امید بھرے جملے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40) یعنی غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود مثبت رہتے تھے، بلکہ دوسروں کو بھی امید دلاتے جب آپ غار ثور سے نکل کر مدینہ جا رہے تھے تو آپ کی ملاقات دو اشخاص سے ہوئی، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے۔ آپ نے ان دونوں سے نام پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے قبیلے والے ہم دونوں کو ایک ہی نام سے پکارتے ہیں: اَلْمُهَانَانِ (دو بے عزت آدمی) ۔ فرمایا: نہیں، تم دونوں با عزت آدمی ہو (اَلْمُكَرَّمَانِ ) ۔ مسند احمد، حدیث نمبر : 16691 (بحوالہ مولانا زندگی میں بھی عزم و یقین کا سفر وہی لوگ کر پاتے ہیں جو مکمل طور پر مثبت (optimistic)

خیالات کے حامل ہوں۔ عزم ویقین کا یہ سفر زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق ہے۔ علم کے میدان میں آج تک جتنی کامیابیاں ہمیں نظر آتی ہیں وہ سب اسی امید بھری مسلسل محنت کی وجہ سے ہیں۔ اس سفر میں شبہ یقین (semi-conviction) کے ساتھ کوشش زیادہ اور دیر پا فائدہ نہیں دے گی۔ دائمی یقین سے آگے بڑھتے رہنا ہے۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے: ﴿وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ (15:99)_ یعنی اللہ کی عبادت کرتے رہو، یہاں تک کہ تمھارے پاس یقین آچائے۔ اس یقین اور امید کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر طائف میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ جب آپ طائف پہنچے، اور وہاں کے لوگوں کو دعوت دین دینا شروع کیا اور سب کو ایک اللہ کی عبادت کے لیے کہا تو طائف کے لوگ بھڑک اٹھے۔ انھوں نے اپنے شہر کے لڑکوں کو اکسایا کہ وہ آپ کو پتھر مار کر شہر کے باہر کر دیں۔ آپ طائف سے باہر ایک باغ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ روایت کے مطابق، اس وقت خدا نے پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے پاس بھیجا۔ الجبال نے آپ سے کہا کہ طائف والوں نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کو خدا نے دیکھا۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں طائف کے اطراف میں واقع پہاڑوں کو ایک دوسرے میں ملا دوں۔ تا کہ طائف کے لوگ اس میں دب کر ختم ہو جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے کہا کہ نہیں۔ طائف کی موجودہ نسل نے اگرچہ میری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا) صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3231 ، (بحوالہ مولانا وحید الدین خاں، الرسالہ جولائی 2021، ص 27)۔

اگر پہاڑوں کا فرشتہ اہل طائف کو روند ڈالتا تو آج طائف فقط عبرت کی جگہ ہوتی۔ رحمتہ للعالمین نے جس مثبت سوچ اور امید کا اظہار کیا، اسے اللہ نے بعد میں پورا فرمایا۔ طائف فتح مکہ (8 ھ) کے بعد اسلام لے آئے۔ اس کے بعد یہ لوگ ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کی خدمت میں لگے رہے۔ مثلاً صحابی رسول حضرت ابو عبید مسعود ثقفی طائف کے رہنے والے تھے۔ نے حضرت عمر کے زمانہ میں مسلم فوج کی قیادت کرتے ہوئے فارس (ایران) کے خلاف جہاد کیا اور

ہاتھیوں کی فوج کے خلاف زبردست جانبازی دکھائی، اور بعد میں جنگ کرتے ہوئے قتل ہوئے۔ ان جنگوں نے ایران میں مذہبی جبر کا خاتمہ کیا، اور وہاں اسلام تیزی سے پھیلا۔ غزوہ احد (3ھ) میں آپ کے چچا حمزہ کو قتل کر کے ان کا کلیجہ (liver) نکال کر چبایا گیا، مگر آپ نے حضرت حمزہ کے قاتل اور کلیجہ چبانے والی عورت دونوں کو معاف کر دیا، یہاں تک کہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے ۔ آپ کو اپنے محبوب نواسہ حسین کے قتل کی خبر دنیا میں دی گئی (مسند احمد، حدیث نمبر 26524 )۔ مگر آپ نے صبر و استقلال اور برداشت کی ایسی مثال قائم کی ، جو ہمیشہ بعد والوں کو رہنمائی اور ہدایت کا سامان بہم پہنچاتی رہے گی۔

مولاناا وحیدالدین خاں نے اپنی کتاب "مطالعہ سیرت" (صفحہ 8) میں پیغمبر اسلام کے مثبت ایکٹوزم کا خلاصہ ایک برطانی مستشرق اى۔ کلیٹ کے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے— پیغمبر اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں : He faced adversity with the determination to wring success out of failure. اگر محفوظ تاریخ (recorded history) کو کھنگالنا شروع کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں سب سے زیادہ تکلیفیں اور مشکلات پیغمبر اسلام کو پیش آئیں ۔ آپ کو بہت ستایا گیا اور ہر طرح سے آپ کو نا کام بنانے کی کوششیں کی گئیں مگر آپ کبھی مایوس نہیں ہوئے اور بلند ہمتی سے اپنے سفر کو کامیابی کے نقطہ عروج (culmination) تک پہنچایا۔

مولانانے بھی ساری زندگی سیرت رسول کو اپنے سامنے رکھ کر زندگی گزاری۔ آپ کی تمام تحریریں اس کی گواہی دیتی ہیں۔ مولانا سنت حدیبیہ کو ایک غیر معمولی اور ناگزیر مثال کے طور پر بیان کرتے رہے، جس سنت حدیبیہ کی عملی روح کو امت تقریباً بھول چکی تھی۔ مولانا نے اس کوری ڈسکور کیا اور موجودہ زمانے میں اس معاہدہ کے عملی انطباق کی طرف امت کی رہنمائی کی۔

مولان خود اس پر یوں رقم طراز ہیں : حدیبیہ کے اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص سنت معلوم ہوتی ہے، اور وہ ہے— حالات سے غیر ضروری طور پر ٹکراؤ نہ کرنا۔ معاملے کو عزت و وقار کا سوال نہ بنا کر اس کو سادہ حقیقت کے طور پر دیکھنا۔ جذبات سے اوپر اٹھ کر

معاملے کو سمجھنا اور فریق ثانی کی رعایت کرتے ہوئے مسئلے کو حکیمانہ طور پر حل کرنا۔ اس کے بعد مولانا عصر حاضر کے تقاضوں سے باخبر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اب ہم دور جدید کے مواقع سے کیسے اور کیوں کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مولانا کے مطابق ، اس طریق کار کو مثبت سٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) کہا جا سکتا ہے۔ مثبت سٹیٹس کو ازم یہ ہے کہ آدمی وقت کے نظام سے ٹکراؤ نہ کرے، بلکہ وہ یہ کرے کہ وقت کے نظام میں موجودہ مواقع کو دریافت کر کے اُسے استعمال کرے۔

مولانا پر اللہ کا خصوصی کرم یہ تھا کہ مولانا مشکل ترین فکری مرحلوں اور عملی زندگی کی پیچیدگیوں میں بھی مثبت سوچ پر قائم رہتے تھے، مثبت واقعہ رونما ہونے کی امید رکھتے تھے۔ اس پر بہت سی مثالیں مولانا کی زندگی سے عیاں ہوتی ہیں ، مگر یہ مضمون اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مولانا کی زندگی کی آخری اور یونیک (unique) دریافت بھی مثبت خیال و فکر تھی۔ امام و داعی اسلام مولانا وحید الدین خاں اپنی آخری دریافت کا بیان یوں کرتے ہیں: اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس دنیا میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی وفات سے امت مسلمہ ایک فکری وعملی داعی وامام سے محروم ہو گئی آپ نے خلوص سے علمی اور حقیقی معنوں میں دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے میں اپنی ساری زندگی صرف کی۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو اپنے قرب خاص سے نوازے اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازے اور مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں داعیانِ اسلام بننے کی توفیق عطا فرمائے، جو آج دور جدید کی اہم ضرورت ہے۔ یا اللہ ہمیں اپنی موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کے لیے زادراہ کے طور پر دعوت دین کے کام کو تمام عالم میں منظم انداز سے پہنچانے کی توفیق اور مولانا کے اہل وعیال کو صبر کی توفیق دے اور انھیں الرسالہ مشن کو وسعت دینے کی صلاحیت سے مالامال فرما۔ (نجم الدین ہمدانی ، گلگت بلتستان)

دعوت اور معرفت عصر حاضر میں مسلمانوں کی دعوتى ذمہ دارى معرفت ربانی کا ایک علمی اور فکری مطالعہ مولانا وحید الدین خاں ربانی اصول پر انسانی شخصیت کی تعمیر اپنے آپ کو پہچان مولاناوحید الدین خاں دعوتی اور تعارفی مضامین اسلام کا تعارف مولانا وحید الدین خاں حیاتِ جبری کا ربانی طریقہ ذکر و دعا کے ربانی اصول مولانا وحید الدین خاں خدا کی شعوری دریافت کے رہنما اصول مولاناوحید الدین خاں مولاناوحید الدین خاں تعبیر کی غلطی اسلام کی سیاسی تعبیر کا علمی اور فکری جائزہ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں Call: 011 41827083 October-December 2021 ● Rs. 30 زندگی غفلت کا کارخانہ نہیں، زندگی ہوشیاری کا امتحان ہے۔

Printed page