Al-Risala · February 2021

قرآن کی اشاعت

Al-Risala, February 2021, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس درمیان اللہ نے اپنے کچھ بندوں کو توفیق دی کہ وہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں تیار کریں۔ ایسا ترجمہ جو لوگوں کے لیے قابل فہم زبان (understandable language) میں ہو، اور ان تراجم کا مطبوعہ شکل (printed format) میں اور ڈیجیٹل شکل (digital format) میں ایڈیشن تیار کر کے ہر قوم میں منظم طور پر پہنچانے کا عمل شروع کیا جائے۔ ہمارے ادارے کے ذریعے اللہ کے فضل سے قرآن کے ڈسٹری بیوشن کا کام برابر کیا جاتا ہے۔ تقریباً تمام مہجر زبانوں میں قرآن کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے، اور دنیا کے مختلف حصوں میں برابر اس کے ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے، جو میرے مطالعے کے مطابق، امت مسلمہ کا نمبر ایک کام ہے۔ امت مسلمہ کی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام زبانوں میں قابل فہم ترجمہ (understandable

translation) تیار کرے، اور اس کو اچھی طباعت کے ساتھ لوگوں تک پہنچائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی آخری تقریر فرمائی۔ اس میں آپ نے ایک بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا : کیا میں نے تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ بلند آواز سے کہا کہ ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ اس کے بعد آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا: اے اللہ تو گواہ رہ کہ میں نے لوگوں کو پہنچادیا (اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالَ: اَللّٰهُمَّ اشْهَد) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1679۔

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَأُوْحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ یعنی اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اس سے آگاہ کروں، اور وہ بھی (آگاہ کریں) جن کو یہ قرآن پہنچے۔ اس ریفرنس سے معلوم ہوا کہ امت کی ذمے داری خدائی پیغام کو انسانوں تک پہنچانا ہے، اور برابر اس مشن میں لگے رہنا ہے۔ امت کی ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ تمام لوگوں کو کلمہ پڑھوائے۔ پہنچانے کے بعد ذمے داری ان لوگوں کی ہوجاتی ہے، جن کو اللہ کا پیغام پہنچا ہے (يس، 36:7)۔ پہنچانے کے بعد امت کی ذمے داری نارمل حالات کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ اس کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا (القصص، 28:56)۔

یہ امت کی مزید ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان سننے اور سنانے کے ماحول کو برقرار رکھیں (الانعام، 6:108)۔ اس معاملے میں امت کو شدت سے یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان مدعو فرینڈلی (madu-friendly) ماحول برقرار رہے۔ امت یہ کام مطلوب درجے میں اس وقت کر سکتی ہے، جب کہ وہ مدعو سے نفرت مکمل طور پر چھوڑ دے، اللہ کے پیغام کو قابل فہم زبان میں مدعو تک پہنچائے۔ مدعو فرینڈلی ہیبیویئر (madu-friendly behaviour) کو قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا کہ پیغام کو پہنچانا۔ اس معاملے میں فقہ کا یہ مسلمہ اصول اپلائی ہوتا ہے : مَالَايَتِمُّ الْوَاجِبُ دُونَهُ فَهُوَ وَاجِب (الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی، جلد 1، صفحہ 125)۔ یعنی جس کے بغیر کوئی واجب چیز پوری نہ ہو، وہ واجب ہے۔

Printed page