Al-Risala · February 2021

قرآن سے دعوت

Al-Risala, February 2021, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی اشاعت پورے دور میں قرآن کے ذریعے ہوئی۔ قرآن کو پڑھتا ہے، وہ پا تا ہے کہ قرآن مذہبی کتابوں میں ایک مختلف کتاب (different قرآن ڈائریکٹ طور پر اللہ رب العالمین کی طرف سے انسان کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن کا اندازِ کلام یہ ہوتا ہے کہ اے انسان، اے بنی آدم، وغیرہ۔ یہ ایک نہایت خصوصی انداز ہے۔ یہ انداز انسان کو متاثر کرتا ہے۔ وہ پا تا ہے کہ خدا براہ راست طور پر اس سے ہم کلام ہے۔ قرآن میں انسان کے مقصدِ حیات کے بارے میں بے حد تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ کلام صرف قرآن میں ملتا ہے۔

حتی کہ قرآن کی عربی زبان ایک معجزاتی زبان ہے۔ قرآن کی قرات (recitation) اپنے آپ میں ایک بے حد مؤثر قرأت ہے۔ جو آدمی قرآن کی عربی زبان کو ایک قاری کے ذریعے سنتا ہے، وہ صرف سماعت کے ذریعے اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں راقم الحروف کا چشم دید واقعہ ہے۔ یہ واقعہ راقم الحروف کے سفرنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کا متعلقہ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔ یہ واقعہ ایک انٹرنیشنل سیمینار کا ہے، جو لیبیا میں 1976 میں منعقد ہوا تھا۔ عنوان تھا: ندوة الحوار الا سلامی المسیحی (اسلام اور عیسائیت کے درمیان ڈائیلاگ)۔ اس سیمینار کا خاتمہ انجیل اور قرآن کی تلاوت پر ہوا۔ دونوں تلاوتیں ایک عیسائی عالم نے کی۔ نے انجیل (متی باب 25) عربی میں پڑھی۔ پڑھنے والا پادری نہایت خوش الحان تھا، اور خالص عربی لہجے میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد اس پادری نے قرآن (سوره البقرة اور سورہ العلق) کی کچھ آیات دونوں تلاوتیں اس نے تجوید اور قرأت کے تمام قواعد کے ساتھ کیں۔ قرآن کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کیا، اور آخر میں صدق اللہ العظیم کہا۔

اصل انجیل بلاشبہ ایک خدائی کتاب تھی۔ مگر اس کا موجودہ عربی ترجمہ ظاہر ہے کہ انسان کے قلم سے ہے۔ اس کے برعکس، قرآن کی زبان الہامی زبان ہے۔ جب دونوں کتابوں کے حصے ایک

دوسرے کے ساتھ پڑھے گئے، تو یہ گویا خاموش اعلان تھا کہ یہ انسانی کلام ہے، اور وہ خدائی کلام۔ انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود وہ عظمت پیدا نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، قرآن حیرت انگیز طور پر ایک عظیم کلام کی مانند ہال کے اندر گونج رہا تھا۔ اس کی مجرد ساعت ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے، نہ کہ کوئی انسانی کلام۔

کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام لوگ ایک بڑے ہال میں چائے پینے کے لیے اس وقت کانفرنس کے آخری پروگرام کا اثر ابھی تمام لوگوں کے ذہنوں پر موجود تھا، جب کہ انجیل کی آواز پر قرآن کی آواز چھا گئی تھی، جیسے قرآن نے اس کو نگل لیا ہو۔ اس وقت میں جس میز پر بیٹھا تھا، اتفاق سے اس کی دوسری جانب ایک نوجوان پادری تھے، جو ویٹیگن کے دوسرے وفد کے ساتھ آئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں، قرأت کے تاثر کے تحت (اس وقت) ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا سفرنامہ غیر ملکی اسفار، جلد اول، صفحات 18-17)۔

Printed page