Al-Risala · January 2021

Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi

Al-Risala, January 2021, pp. 8–16

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوامی پورن جی سے کہا کہ آپ کے نزدیک سچائی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سچائی کوئی ایک معلوم چیز نہیں۔ میں نے کہا کہ جب سچائی کوئی ایک معلوم چیز نہیں تو آپ اپنے سفروں میں کس چیز کا پرچار کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں لوگوں کو یہ نہیں بتاتا کہ سچائی کیا ہے۔ بتاتا ہوں کہ وہ کون سا پراسس ہے جس کو فالو (follow) کر کے تم سچائی تک پہنچ سکتے ہو۔ میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا کہ سچائی اگرچہ آپ کے نزدیک معلوم چیز نہیں مگر آپ کے بیان کے مطابق سچائی کا پراسس ضرور ایک معلوم چیز ہے۔ جبھی تو آپ اس کا پرچار کرتے ہیں۔ پھر آپ کے نزدیک وہ کرائیٹرین (criterion) کیا ہے، جس پر جانچ کر ہم یہ معلوم کر سکیں کہ آپ کا تجویز کردہ پراسس درست ہے۔ سوامی جی اس کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔ کچھ دیر گفتگو آخر میں ان کو الرسالہ انگریزی پیش کیا گیا۔

انڈیا کے ایک عالم دین لندن کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ وہ لندن جاتے ہوئے مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ پاکستان کے فلاں عالم صاحب بہت بڑے عالم جزئیات فقہ پر ان کی نظر جتنی وسیع تھی شاید ہی ہندو پاک میں کسی دوسرے عالم کی ہو۔

جزئیات دین کے عالم ہونے کا نام عالم ہے، اساسات دین کا عالم ہونے کا نام عالم نہیں۔ فقہ جب ابتداءً بنی تو اساسات دین کے مطالعہ کے لیے نہیں بنی بلکہ مسائل دین کے مطالعہ کے لیے بنی۔ اسی طرح فقہ پر جزئیاتی ذہن غالب آگیا۔ اسی فقہ پر ہمارے موجودہ مدارس کی بنیاد قائم ہمارے مدارس میں جزئیاتی مسائل پر زبردست بحثیں ہوتی ہیں۔ حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ جزئیاتی مسائل کے عالم ہونے کا نام عالم ہے۔ اس طریقہ تعلیم نے ملت کو زبردست نقصان موجودہ زمانے کے دینی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مدارس کا تعلیمی نظام فقہ پر قائم ہے۔ اگر مدارس کا نظام قرآن وحدیث پر قائم کیا جائے تو اس قسم کے جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔

اخوان المسلمون کی تحریک کو مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں زبردست مقبولیت حاصل اخوانی تحریک کے مختلف شعبے تھے۔ ان میں سے ایک فوجی شعبہ تھا جس کو جناح عسکری کہا اخوان کے جناح عسکری کے سربراہ حسن دوح [2001-1921] (Hasan Dauh) موجودہ زمانے میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں ان سب کا یہی حال رہا ہے۔ کسی میں جناح عسکری عملاً قائم تھا، اور کسی میں صرف ذہنی طور پر وہ پایا جاتا تھا۔

تحریکوں کی اس عسکری جدوجہد (armed struggle) کا سبب یہ ہے کہ مفروضہ دشمنان اسلام“ کے ردعمل میں اٹھیں۔ کوئی یہودیوں کے خلاف، کوئی انگریزوں کے خلاف، کوئی فرانسیسیوں یہی وجہ ہے کہ ان سب میں مشترک طور پر نفرت اور تشدد کا ذہن پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کی ان تحریکوں میں سے کسی تحریک میں ’’جناح دعوتی‘‘ نہ تھا۔ اگر یہ تحریکیں حقیقی معنوں میں دعوتی محرک کے طور پر اٹھتیں تو نہ صرف ان کے یہاں جناح دعوتی موجود ہوتا بلکہ ان کے یہاں دعوت ہی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی۔ اور پھر ان کا مزاج نفرت اور تشدد کے بجائے محبت اور امن کا بنتا۔

دعوت کا کام دلوں کو جیت کر اور ذہنوں کو مطمئن کر کے ہوتا ہے، اس لیے داعی کے اندر دوسروں کے لیے محبت، اور خیر خواہی کی نفسیات پیدا ہوتی ہیں۔

پانی پت کی جنگ (1526) میں بابر کو ہندوستانی راجاؤں کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح کا راز بابر کا توپ خانہ تھا جس کو رومی ترک چلاتے تھے۔ بابر نے یہ توپ رومی ترکوں سے حاصل کی تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ بابر کی اولاد اس واقعہ کو بالکل بھول گئی۔ ان کی سمجھ میں کبھی یہ نہ آیا کہ توپ سازی کے فن کو ترقی دینے کے لیے باقاعدہ تجربہ گاہیں بنائی جائیں۔ مغلوں اور ہندوستانی نوابوں کی یہی پس ماندگی تھی، جس نے انگریزوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی برتر تکنیک کے ذریعے ہندوستان پر قابض ہو جائیں۔

انگریزوں نے فن جہاز رانی کو زبردست ترقی دی مگر ہندوستان کے مغل حکمراں جہاز رانی کے فن سے بالکل بے خبر رہے۔ رابرٹ کلائیو اور نواب سراج الدولہ کی فوجوں میں مقابلہ ہوا تو رابرٹ کلائیو کی فوج کو زبردست کامیابی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کلائیو کی اسپرنگ دار (flint locks) بندوقوں، رائفلوں اور توپوں کی بناوٹ اتنی اعلیٰ تھی کہ سراج الدولہ کی فتیلہ سوز (match locks) بندوقیں ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان دور جدید میں سائنس کے علوم میں پیچھے ہو گئے اور یہی موجودہ زمانے میں ان کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی بہت سی جماعتیں ہیں مگر تقریباً سب کی سب رد عمل کی پیداوار مسلمانوں کی ایک جماعت اور دوسری جماعت میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو لیڈر اینٹی ہندو ٹون (anti-Hindu tone) میں بولتا ہے اس سے مسلمان خوش ہو جاتے ہیں اور جو پرو ہندوٹون (pro-Hindu tone) میں بولتا ہے اس سے ناخوش۔

قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ (anti-establishment) آوازوں کو

پسند کرتی ہیں اور پرو اسٹیبلشمنٹ (pro-establishment) آوازوں کو عوام کے اندر پسندیدگی حاصل نہیں ہوتی۔

ہندوستان میں اس نفسیات پر مزید اضافہ یہ ہوا کہ مختلف اسباب سے مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف منفی سوچ پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ سے کوئی ایسی تحریک ان کے درمیان مقبول نہیں ہوتی جو ہندوؤں سے ایڈ جسٹمنٹ (adjustment) کی باتیں کرتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی تقریباً نصف صدی کی پر شور مسلم سیاست کے باوجود مسلمانوں کے حصہ میں احتجاج کے سوا اور کچھ نہ آیا۔ شیخ محمد سلیمان القائد (لیبیا) 23 اگست 1984 کو روانڈا کی راجدھانی کیگالی (Kigali) سے دہلی آئے تھے، اور یکم ستمبر 1984 کو واپس گئے۔ وہ اردو زبان بالکل نہیں جانتے۔ بات ہے کہ انھوں نے میرے مشن کو جتنی گہرائی کے ساتھ سمجھا ہے، شاید کسی اور نے نہیں سمجھا۔ انھوں نے میری عربی کتابیں بار بار پڑھی ہیں۔ میرے ساتھ طرابلس میں تقریباً دو مہینہ رہے ہیں۔ اردو کے عربی ترجمے خود کروا کر پڑھے ہیں۔

دہلی میں انھوں نے مولانا حمید اللہ ندوی اندوری سے کہا اگر آپ نے شیخ وحید الدین کے مشن کو واقعہ پوری طرح سمجھا ہے تو آپ میرے بعد دوسرے شخص ہوں گے۔

شیخ محمد سلیمان القائد افریقہ میں زبردست تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ مگر وہ اپنے کام کو ہمارے کام ہی کی شاخ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا— دہلی مرکز تفجیر الثورة الفکرية ہوگا، اور یہاں سے سارے عالم میں اسلامی دعوت پھیلے گی۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس نیک تمنا کو واقعہ بنادے۔ پاکستان کے ایک معروف عالم دین دہلی آئے اور ہمارے یہاں ٹھہرے۔ میں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی دریافت کیا ہے۔ انھوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا: قرآن حکیم میں امت مسلمہ سے خطاب کا کلائمکس سورہ حدید ہے۔ سورہ حدید کی پہلی چھ آیات میں ذات

باری تعالیٰ کی صفات کا اعلیٰ ترین سطح پر بیان نقطہ عروج پر ہے۔

عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی شخص قرآن میں دعوت کو نہیں پاتا۔ دوسری ہر چیز آدمی پالیتا ہے مگر کسی کو قرآن میں دعوت نہیں ملتی۔ حالاں کہ امت کی سرفرازی کا تعلق دعوت سے ہے نہ کہ کسی اور چیز سے۔

علامہ اقبال (1938-1877) کا ایک شعر ہے:

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو خوفِ باطل کہ کیا ہے غارت گرِ باطل بھی تو اس قسم کے اشعار لوگ بہت جوش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ نہیں سوچتا کہ اس قسم کے اشعار جو ذہن بناتے ہیں وہ سراسر غیر قرآنی ذہن ہے۔ مطابق، خاشاکِ غیر اللہ کو جلانا اور باطل کو غارت کرنا خدا کا کام ہے، نہ کہ انسان کا کام۔ اس قسم کے اشعار سے صرف جھوٹا فخر پیدا ہو سکتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی کار آمد ذہن۔ مومن کا اصل کام یہ ہے کہ وہ دنیا والوں کا خیر خواہ (well-wisher) ہو۔ لوگوں کے لیے اس کے دل میں محبت کے چشمے جاری ہو جائیں۔ وہ لوگوں کو آخرت کی دعوت دینے کا حریص بنے، نہ کہ انھیں شعلوں کی نذر کرنے کا حریص۔ اہلِ ایمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حق کا اعلان کرنے والے بنیں ۔ اس اعلان کا اصل جذبہ خیر خواہی ہونا چاہیے، جس کو قرآن میں نصح کہا گیا ہے (الاعراف، یہ داعیانہ جذبہ ہی صحیح ایمانی جذبہ ہے۔ اس ناصحانہ دعوت کے نتیجے میں یا تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ حق کے راستے کو قبول کر لیتے ہیں یا وہ اس کا انکار کر کے سزا کے مستحق بنتے ہیں۔ تاہم اس سزا کا فیصلہ کرنے والا اور اس کو نافذ کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔ عرب ممالک کے سفر کے دوران اگست 1982 میں میری ملاقات ایک مصری نوجوان سے ہوئی تھی۔ ان کا نام ڈاکٹر محمد سعید مراد ہے۔ انھوں نے مصر کے انور سادات (1981-1918)

کے بارے میں بتایا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں ان اخوانیوں پر رحم نہیں کروں گا۔ انور سادات نے اسکندریہ کے شیخ المحلاوی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور اس کے بعد تقریر کرتے ہوئے، محمد سعید مراد کے الفاظ میں، کہا: قال السادات عنه في خطبة عندما كان يتحدث عن الجماعات الاسلامية اعتقللها "وهناك رجل من الاسكندرية كان يهاجم النظام ولكنه الآن مرمى فى السجن مثل الکلب" يقصد الشيخ المحلاوى۔ وکان السادات يقول فی خطابه تکرار آانالم ارحم (اسکندریہ میں ایک آدمی ہے، وہ حکومت سے ٹکراؤ کرتا ہے، لیکن اب وہ جیل میں کلب کی مانند بند ہے۔ ان کی مراد شیخ المحلاوی تھے۔ اور سادات اپنی تقریروں میں بار بار کہا کرتے تھے کہ میں ان جماعتوں پر رحم نہیں کروں گا)

انور سادات کے یہ الفاظ بہت سخت معلوم ہوتے ہیں۔ مگر اس میں پچاس فی صد غلطی اگر انور سادات کی ہے تو پچاس فی صد غلطی ان حضرات کی جو حکومت ٹکراؤ کی سیاست کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی ادارہ ہو۔ اگر وہاں کوئی شخص ادارے کے صدر کا مخالف بن جائے تو اس کے ساتھ بقدر استطاعت ادارے کے لوگ وہی سلوک کریں گے، جو اپنی استطاعت کے دائرے میں انور سادات نے اپنے مخالفوں سے کیا۔ انور سادات اور ان کے جیسے حکمرانوں کے ظلم کی داستان سنانے والے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ یہ وہی سلوک ہے جو خود اپنے اداروں میں ہورہا ہے: این گناہیست که در شهر شما نیز کنند سارے قرآن میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں فطرت کے مظاہر کی ایسی توجیہہ کی گئی ہو، جس سے سائنسی تحقیقات کی نفی لازم آئے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ملتا جو چرچ کی تاریخ میں "گلیلیو" کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسلام میں اس کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی کہ علمی نظریات کے لیے کسی کی پکڑ دھکڑ کی جائے یا اس کو سزا دی جائے۔

نظریاتی احتساب کی مثالیں اسلامی تاریخ میں خالص مذہبی لوگوں کے یہاں نہیں پائی جاتیں۔ صرف معتزلہ کے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ معتزلہ کٹر مذہبی لوگ بلکہ یہ وہ لوگ تھے، جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتے تھے، اور آزادیٔ فکر کے علم بردار تھے۔ معتزلہ نے عباسی حکمرانوں کی مدد سے اپنے نظریاتی مخالفین کا زبردست احتساب کیا۔ احتساب کی ایک مثال امام احمد بن حنبل ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو زبردست سزائیں دی گئیں۔ صرف اس لیے کہ وہ خلقِ قرآن“ کے مسئلے میں معتزلہ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل کو مسلسل مارا گیا۔ مارنے والے ایک جلاد نے بعد میں اس ضرب کی شدت کے بارے میں کہا تھا: ضربت أحمد بن حنبل ثمانين سوطا، لو ضربته فیلا لهدمته (المنهج الأحمد لأبي اليمن العليمي، ج 1 ص 107)۔ یعنی میں نے احمد بن حنبل کو اسی کوڑے مارے، اگر میں اس طرح کسی ہاتھی کو مارتا تو اس کو گرا دیتا۔

ایک مجذوب تھے۔ وہ گندی حالت میں سڑکوں پر پڑے رہتے تھے۔ لوگ ان سے کچھ کہتے تو ان کا جواب ہمیشہ صرف ایک ہوتا تھا: حرام کھاؤ، چوری کرو، ماں پر سوؤ۔ لوگ حیران رہتے کہ مجذوب صاحب اس قسم کی الٹی بات کیوں کہتے ہیں۔ صاحب نے کبھی اس کی تشریح نہیں کی۔ کوئی شخص ان الفاظ کا مطلب پوچھتا تو وہ بگڑ جاتے۔ اسی طرح کہتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

مجذوب صاحب کے ایک معتقد سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں برسوں تک مجذوب صاحب کے الفاظ پر سوچتا رہا۔ آخر کار میری سمجھ میں آ گیا کہ وہ کیا کہتے تھے۔ ان کا مطلب تھا: غصہ کھاؤ، چھپ کر عبادت کرو، زمین پر سوؤ۔

اسلام توہم پرستی کو مٹانے آیا تھا مگر بعد کے زمانے میں خود مسلمان طرح طرح کے توہمات میں مبتلا ہو گئے۔ انھیں میں سے ایک ”مجذوب“ کا عقیدہ بھی ہے۔ شریعت میں مجذوب کوئی چیز

مگر لوگ جب کسی کو غیر معمولی حالت میں دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کوئی مجذوب (پہنچے ہوئے شخص) ہیں، اور اس کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔

مہاتما گاندھی نے آزاد ہندوستان کے کانگریسی حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ خلیفہ ابو بکر اور خلیفہ عمر کے نمونہ کی پیروی کریں:

We have to follow the example of Abu Bakr and Umar اسلام کے ابتدائی دور میں زندگی کا جو نمونہ ظہور میں آیا وہ ساری انسانی تاریخ کا ایک انوکھا خلیفہ ابو بکر اور خلیفہ عمر اپنے وقت کی انتہائی وسیع اور عظیم سلطنت کے حکمران تھے۔ کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ دیکھنے والے ان کو عام شہری سمجھتے تھے۔ حق کو قائم کرنے اور باطل کو مٹانے میں کوئی جذبہ ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔

ان لوگوں کی زندگیاں ساری انسانیت کے لیے معیاری نمونے ہیں۔ جو لوگ اسلام کو بطور عقیدہ کے نہیں مانتے وہ بھی اگر سنجیدہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو مجبور پائیں گے کہ اپنے حکمرانوں کو ابوبکر و عمر کی مثال دے کر کہیں کہ تم ان کی تقلید کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے پاس دوسرا کوئی نمونہ نہیں جس کو وہ کامل معیار کے طور پر پیش کر سکیں۔

لاش نس (Loch Ness) اسکاٹ لینڈ کی ایک بڑی جھیل ہے۔ 1975 میں ایک امریکی قانون داں نے زمیں دوز کیمرے کے ذریعے اس جھیل کے اندرونی فوٹو لیے۔ ان فوٹوؤں میں جھیل کے اندر کے کچھ مناظر دکھائی دیتے تھے۔ یہ مناظر بادل کے دھبوں کی شکل میں تھے۔ دھبوں کا مطالعہ شروع کیا گیا۔ یہاں تک کہ ان دھبوں پر قیاس کا اضافہ کر کے سمجھ لیا گیا کہ یہ زندہ جانوروں کی تصویریں ہیں۔ کہا گیا کہ اسکاٹ لینڈ کی اس جھیل کے اندر انتہائی قدیم زمانے کے بعض بہت بڑے بڑے جانور موجود ہیں، جو نظریہ ارتقاء کے مطابق قدیم زمانے میں افراط کے ساتھ

زمین پر پائے جاتے تھے۔ اس قیاس پر ماہرین کو اتنا یقین تھا کہ اس کا ایک مفروضہ نام پلی ساسور (Pleisosaurs) رکھ دیا گیا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ مفروضہ بالکل غلط تھا۔ یہ دھبے چٹانوں کے تھے، نہ کہ زندہ جانوروں کے۔

انسانی علم میں ہمیشہ اس قسم کی غلطیوں کا انکشاف ہوتا رہا ہے، پہلے بھی اور آج بھی۔ میں آج تک اس قسم کی کسی غلطی کا انکشاف نہ ہوسکا۔ حالاں کہ قرآن ہر قسم کے موضوعات کو ٹچ (touch) کرتا ہے۔ یہی ایک واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، وہ کوئی انسانی کلام نہیں۔ اگروہ انسانی کلام ہوتا تو یقینا اس کے اندر بھی وہی کمیاں پائی جاتیں جو تمام انسانوں کے کلام میں بلا استثنا پائی جاتی رہی ہیں۔

ایس ایم عارف ندوی نے ایک واقعہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ قرول باغ (دہلی) میں حکیم اجمل خاں نے طبیہ کالج قائم کیا۔ اس کا بہت بڑا کیمپس تھا۔ مگر انھوں نے اس کے اندر مسجد نہیں تقسیم ملک کے بعد اس کا بڑا حصہ شر نار تھیوں کی قیام گاہ بن گیا۔ 1970 کے بعد یہاں کے مسلمانوں کو خیال ہوا کہ کالج کے کیمپس میں ایک مسجد بنائیں ۔ انھوں نے بنانا شروع کیا۔ مگر جب دیواریں کھڑی ہو گئیں تو مقامی غیر مسلموں نے اعتراض کیا، اور کہا کہ یہاں جب پہلے مسجد نہیں بنائی گئی تو اب آپ کو یہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی جائے ایک مسلمان نے اس کے بعد ایک تدبیر کی۔ اس نے خاموشی سے ایک پتھر تیار کرایا۔ پر کندہ کر کے لکھا ہوا تھا:

Printed page