خواتین میں دعوت
Al-Risala, February 2021, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کام کے لیے کسی شخصیت کو اپنا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ مثلاً کوئی ابن تیمیہ کو اپنا ماڈل بنا لیتا ہے اور کوئی غزالی کو اپنا ماڈل سمجھ لیتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھ لیتے ہیں۔ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا گول ان کے معیار کے مطابق اچیو بل (achievable) نہیں ہے تو وہ نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کر سکتے۔ الرساله مشن نے اس معاملے میں ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ مز فہمیدہ خان (پیدائش 1964) ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون ہیں۔ وہ فیض آباد میں رہتی ہیں، اور سی پی ایس کی ممبر ہیں۔ میری کتابوں کا مطالعہ کرتی ہیں، اور میری تقریریں سنتی ہیں۔ کچھ دنوں کے لیے ان کا دلی آنا ہوا۔ دوران انھوں نے میری سنڈے کلاسز اٹینڈ کیں۔ یہ ان کی زندگی کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت اس کلاس کے بعد ان کو یہ احساس ہوا کہ وہ دعوت کا کام پوری طرح نہیں کر پا رہی ہیں۔ اندر زبردست جذبہ پیدا ہوا کہ انھیں دعوت کے لیے اور کوشش کرنی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اللہ سے بہت زیادہ دعا کی۔ اس کے بعد ان کے ذہن ایک نیا آئیڈیا آیا۔ انھوں نے سی پی ایس کی خواتین ممبرس سے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس میں انھوں نے الرسالہ مشن کی آئیڈیالوجی کے مطابق آپس میں ڈسکشن شروع کیا۔
اس خواتین واٹس ایپ گروپ میں نہ صرف انڈیا بلکہ انڈیا کے باہر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ روزانہ آپس میں دین اور آدابِ زندگی کے تعلق سے پہلے ایک سوال رکھتی ہیں، جو ان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آیا ہو، یا جس پر ان کو clarity نہ ہو۔ پھر اس پر وہ آپس میں ڈسکشن کرتی ہیں۔ ڈسکشن قرآن وحدیث اور الرسالہ کے مضامین پر میں کرتا ہے، یا ذاتی تجربات پر۔ اس سے ان کے بہت سے کنفیوزن دور ہوتے ہیں۔ اور دین کے بہت سے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں، اور برابر ان کا انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر سفینہ تبسم (سہارن پور) نے یہ تاثر دیا: ” آج میں
ڈسکشن میں زیادہ حصہ نہیں لے پائی، مگر سارے میسجر پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آج کا میرا اٹیک اوے یہ ہے کہ میں اپنی اور اپنی فیملی میں ایجوکیشن اور انٹلیکچول ڈیولپمنٹ پر فوکس کروں گی، اور اس کام کو اس طرح آگے بڑھاؤں گی کہ وہ اگلی نسل تک چلتا رہے۔ مز عارفہ نصیر (دہلی) لکھتی ہیں: ”میں ہر دن بہت سی نئی باتیں سیکھتی ہوں، اور پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ میں جو کچھ سیکھتی ہوں اس کو پریکٹس میں بھی لارہی ہوں۔ بعض دفعہ تو مولا نا اور آپ سب لوگوں کے لیے اللہ سے رورو کر دعائیں کرتی ہوں۔ “ مز راضیہ خان لکھتی ہیں: ”مولانا صاحب جیسے اسکالر سے اللہ نے لرننگ کا موقع دیا۔ ہر دن اس گروپ کے ذریعے مولانا صاحب کو سنتی یا پڑھتی پھر اس پر ڈسکشن ہوتا ہے، جس سے نئے نئے پوائنٹ سامنے آتے ہیں۔ اس سے ذہن کھلتا ہے، سنبھلنے اور اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میں نے جب سے یہ گروپ جوائن کیا ہے، میری ٹینشن کم ہوئی ہے۔ “ ’سی پی ایس لیڈیز گروپ‘ میں پوری دنیا کی سو سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جو اس کے ذریعے اپنی معرفت کا دائرہ بڑھاتی ہیں، اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ دعوت کے کام کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ پھر اس کو اپنے تعلقات والی خواتین کے ساتھ شیئر (share) کرتی ہیں۔ یہ واقعہ جب میں نے سنا تو مجھے ایک حدیث رسول یاد آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پوری زمین کو میرے لیے، اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنا دیا گیا ہے (لِي وَلأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا) مسند احمد، حدیث نمبر 22137_ توسیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب ایسا زمانہ آنے والا ہے، جب کہ میری امت کے لوگ جس طرح مسجد میں آزادی کے ساتھ عبادت کا کام کرتے ہیں، اسی طرح آزادی کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ دعوت اور عبادت کا کام کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ کی ورچول دنیا (virtual world) میں بھی، یعنی فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ۔ سی پی ایس خواتین کا یہ کام بلاشبہ ایک قابل تعریف کام ہے۔ اس طرح خواتین موجودہ دور میں دینی مشن کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں یہ سی پی ایس لیڈیز گروپ گلوبل لیول پر دعوت کا بہت بڑا کام کرے، اللہ ان کی کوششوں کو قبول کرے، اور ان کی حفاظت کرے، آمین۔