Al-Risala · February 2021

مقصد کی تلاش

Al-Risala, February 2021, pp. 28–39

By Maulana Wahiduddin Khan

اس عظیم کائنات کو دیکھتے ہی سب سے پہلا سوال جو ایک سنصیر (sincere) انسان کے ذہن میں آتا ہے، وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو چلا رہا پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی ان دیکھی طاقتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر اب یہ نظریہ ترک کیا جا چکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے، نہ کہ زندہ نظریہ۔ موجودہ زمانے کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں، اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں۔ وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کار فرمائی نہیں ہے، بلکہ ایک اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے، اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجاۓ تو اس کے سبب سے کچھ دوسرے واقعات بھی وجود میں آئیں گے۔ اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے، اور یہی سلسلہ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک، اتفاق اور دوسرا، قانون علت (law of causation)۔ یہ توجیہہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریبا دو لاکھ ارب (دو سو ٹریلین) سال پہلے کائنات کا وجود نہ اس وقت ستارے تھے، اور نہ سیارے، مگر فضا (space) میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا۔ بلکہ اپنے ابتدائی ذرے یعنی برقیے (electrons) اور پروٹونوں کی شکل میں پوری فضائے بسیط (vast space) میں یکساں طور پر پھیلا ہوا تھا۔ گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس سے کائنات بھری ہوئی تھی۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ ریاضی کے نقطہ نگاہ سے یہ توازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا سا بھی خلل (interruption) ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجیے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم

ریاضی کے ذریعے ثابت ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادے کے اس بادل میں خفیف سا خلل (minutest disruption) واقع ہوا، جیسے کسی حوض کے پانی کو کوئی ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پرسکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جن میں سے بعض کو ہم ستارہ، بعض کو سیارہ اور بعض کو نیبولا (nebula) کہتے ہیں۔ کائنات کی یہ توجیہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ توجیہہ نہایت کمزور تو توجیہہ ہے، خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہوسکا۔ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی۔ اس کے باوجود اتھیسٹ لوگوں (atheists) کا دعوی ہے کہ انھوں نے کائنات کے محرک اول کو معلوم کر لیا ہے، اور اس محرک اول کا نام ان کے نزدیک اتفاق ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب وغریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا، جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے، اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے ۔ اس توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعے سے پہلے ایک واقعے کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے، جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعے کا سبب بن سکے۔ مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعے سے ہوتی ہے، جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے، جس پر کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریے کی پوری عمارت کھڑی کر دی گئی ہے۔

پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طور پر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے، جو انھوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا تھا۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہونے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے، بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے، اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ

موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔

آخر وہ کون سی منطق تھی، جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامتناہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھر انا شروع کر دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظامِ شمسی کو وجود دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جس سے ہمارے کرۂ ارض پر وہ عجیب وغریب تبدیلیاں ہوئیں، جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا، اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بے شمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں بھی معلوم نہیں کیا جا چکا ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جو ایک خاص مرحلے پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ اس بات کی کوئی معقول تو جیہہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی، اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔

پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نے کائنات کے ایک چھوٹے سے رقبے میں حیرت انگیز طور پر وہ تمام چیزیں پیدا کر دیں، جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لیے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے، جو ان حالات کو ہمارے لیے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آجانا، اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسنِ ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں، اور اربوں اور کھربوں سال تک ان کا تسلسل جاری رہے، اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ اس بات کی کوئی واقعی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آنے والے واقعے میں لزوم کی صفت کہاں سے آگئی، اور اتنے عجیب و غریب طریقے پر مسلسل ارتقا کرنے کا رجحان اس میں کہاں سے پیدا ہو گیا۔

یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے۔ وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقے پر حرکت دے رہا اس تو جیہہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیا گیا ہے، اسی کو کائنات کا حاکم نہیں قرار دیا یہ تو جیہہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکتِ اول کی تو جیہہ کے

لیے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے، مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہا اس کی توجیہہ کے لیے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔

اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اصولِ تعلیل (principle of causation) پیش کیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکت اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایک کے بعد ایک تمام واقعات پیش آتے چلے جارہے ہیں۔ اسی طرح جیسے بچے بہت سے اینٹیں کھڑی کر کے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تمام اینٹیں خود بخود گرتی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے، اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے، بلکہ ناقابلِ تسخیر قوانین کے تحت حالات ما قبل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے، اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے۔ اس طرح کائنات میں علت اور معلول کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ جس صورت میں تاریخ عالم کا آغاز ہوا، اس نے آئندہ سلسلہ واقعات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے۔ ابتدائی صورت ایک دفعہ متعین ہو گئی تو قدرت صرف ایک ہی طریقے سے منزلِ مقصود تک پہنچ سکتی تھی۔ گویا کائنات جس روز پیدا ہوئی اس کی آئندہ تاریخ بھی اسی دن متعین ہو چکی ہے۔ اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا سترہویں صدی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کو ایک مشین ثابت کیا جائے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینئروں کا تھا، جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں۔ اسی زمانے میں جرمن ماہر طبیعیات ہیلم ہولٹز [1821-1894] Helm Holtz) نے کہا تھا کہ تمام قدرتی سائنس کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کر لینا ہے۔ اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنسدانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی، مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہو سکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے، اور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہو جائے گا۔

ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصولِ تعلیل کی ہر توسیع اور قدرت کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے انسانی اختیار اور ارادے پر یقین کرنا محال بنا دیا۔ کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے ۔ جب یہ دریافت ہوا کہ جاندار خلیہ (living cell) بھی بے جان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فورا سوال پیدا ہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم و دماغ بنے ہوئے ہیں، کیوں کر اصولِ تعلیل کے دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں۔ یہ گمان کیا گیا، بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعوی کر دیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے۔ تک کہا گیا کہ نیوٹن (1727-1642] [Isaac Newton)، باخ (Johann Sebastian [1685-1750 Bach] اور مائیکل انجلو [1564-1475] Michelangelo) کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے، اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔

مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصولِ تعلیل (principle of causation) کی اب قائل نہیں ہے۔ نظریہ اضافیت اصولِ تعلیل کو دھو کے (elusion) کے لفظ سے یاد کرتا انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوتِ کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے، جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل انجلو کے خیالات کا اعادہ کر سکے۔ مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہرا سکتی۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے، جو اول روز سے علت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابد تک کے لیے معین ہو چکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طور پر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے، جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی

میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر میکانکی حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف لیے جا رہا ہے۔

کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارے میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے، اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی، بلکہ اور کمزور کر دیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریے کی تردید کر رہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے، جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا نیا سفر شروع کیا تھا۔ معبود کی تلاش یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔ اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ میرا معبود کون ہے“۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں صریح طور پر ایک خلا (vacuum) محسوس مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ اس خلا کو کیسے پر کرے۔ یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے ”معبود کی تلاش“ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔ اپنے وجود اور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبات ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا، شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا، کمزوری اور عجز کا۔

ہم اپنی زندگی کے جس گوشے میں بھی نظر ڈالتے ہیں، ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر دینے والے کے لیے ہمارے اندر بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کر سکیں۔ ہمارے لیے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے، بلکہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ یہ سوال محض ایک خارجی مسئلہ کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے، اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔

غور کیجیے، کیا کوئی سنجیدہ آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعے کی حیثیت سے موجود ہے ۔ حالاں کہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔

اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پارہا ہے، جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کر سکتا۔ حالاں کہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب و غریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں، جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں۔ حالاں کہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے، اور نہ وہ کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے، بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کر سکے۔ پھر اپنے جسم کے باہر دیکھیے۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بنا سکیں۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہو، اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے۔

مثال کے طور پر آواز کو لیجیے، جس کے ذریعے سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش (wave) بن کر دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابل فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے۔ اس کے لیے ہمارے اندر اور باہر بے شمار انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے، جس کو ہم ہوا کہتے ہیں۔ ہم جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بے آواز لہروں (waves) کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں، جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں، اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے۔ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے، مگر میری آواز نہ سنیں گے۔ طور پر شیشے کے ایک بند برتن کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائے تو اس کی آواز صاف سنائی لیکن اگر اس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا جائے ، اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے

تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھینگے ، مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی ۔ کیوں کہ گھنٹی کے بجنے سے جو لہر پیدا ہوتی ہے، اس کو آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لیے شیشے کے برتن میں ہوا موجود نہیں ہے۔

مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے ۔ کیوں کہ ہوا کے ذریعے ہماری آواز پانچ سیکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لیے کارآمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لیے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے۔ یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل وائرلیس (wireless) پیغامات میں اسی طریقے سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کوئی اسپیکر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائیکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائیکروفون آواز کو جذب کر کے اسے برقی رو میں تبدیل کردیتا ہے، اور تار کے ذریعے اسی کو ٹرانس میٹر تک بھیج دیتا ہے۔ کے پہنچتے ہی فضا میں بہت ہی طاقت ور لہریں پیدا کر دیتا ہے۔ اس طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں دولاکھ میل کی رفتار حاصل کرلیتی ہے، اور لمحے بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وائرلیس موجیں (wireless waves) ہیں، جن کو ہمارے ریڈیوسٹ کی آواز گیر مشین قبول کر کے بلند آواز میں ان کا اعادہ کردیتی ہے، اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔ اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل موجودہ دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا سسٹم ہے۔ یہ ان بے شمار انتظامات میں سے ایک ہے، جس کو میں نے بیان نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لیے کروڑوں صفحے درکار ہوں گے، اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا۔

یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی فائدہ اٹھارھا ہے، اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لیے مہیا کیا

ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبہ شکر امڈتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا، اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو منذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اور کائنات پر غور کرتا ہے، اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبے کا کوئی جواب کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے، جس کے اندر امڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لیے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے، جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا جہاں جذبہ ہے، مگر جذبے کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔

یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس اسپیس کا تصور کیجیے جس میں ہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً 25 ہزار میل ہے۔ اور وہ ناچتے ہوئے لٹو کی مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا ہو جاتا گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔

اتھاہ اسپیس میں اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا وجود قائم رکھنے کے لیے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازے کے مطابق رکھا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان کنکریوں کی مانند ہو جائے، جو کسی تیزی سے گھومتے ہوئے پہیے پر رکھ دیے گئے ہوں۔ اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے، اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہوا کے ذریعے جو دباؤ پڑ رہا ہے، وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیا گیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو

خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔

پھر ذرا سورج پر غور کیجیے۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتا ہوا سمندر ہے، جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کروڑ میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں، اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلے پر آ جائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہو جائے۔ یہی سورج ہے، جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ مقصد کے لیے اس کو ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دور چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے، اور قریب آ جائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہو جائیں۔

پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھیے، اور اس قوت کشش پر غور کیجیے، جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کارخانہ ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ ماہرین فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے، مگر پوری کائنات کے مقابلے میں اس کی کوئی کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے ستارے اتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپر ایک چھوٹے بال کی طرح رکھا جا سکتا ہے۔ جو قوتِ کشش ان بے شمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجیے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، اور اس کی وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، یہ غیر مرئی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں، اسی طرح دھاتی تاروں سے کرہ ارض ڈھک جاتا۔

ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہے، جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ زندگی کے لیے دنیا میں جو انتظامات ہیں، اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، وہ انتہائی اعلی پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ ان کو وجود میں لانے کے لیے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ موجودات کے لیے جو طریق عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتا ہے، جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کر رہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو، جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتا ہے، جو کائنات کی قوتوں سے بالاتر ہو، اور جس کی پناہ میں آجانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ و مامون تصور کر سکے۔

اس جذبے کو معبود کی تلاش کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ معبود کی تلاش دراصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے، جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے، اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے، جو ساری کائنات کو کنٹرول کرتی ہو۔ کا جواب کسی جغرافیائی خطے میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں ایک سماج کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں۔ انسان کی تلاش معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں۔ اس کے لیے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لیے ایک ایسا وجود چاہیے، جس نے کائنات (universe) کو اپنے سہارے کے لیے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے، جو کائنات کے اوپر با اختیار حکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا، اس کا خلا (vacuum) بدستور

باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پر (fill) کرنے والی نہیں بن سکتی۔

Printed page