Al-Risala · February 2021

انجام کی تلاش

Al-Risala, February 2021, pp. 39–47

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت کی تلاش کا تیسرا جزء اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے، وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلے میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے، مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات (feelings) ہیں جو دنیا میں بری طرح پامال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کر سکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔ ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود اس کے مقابلے میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے، یعنی دو لاکھ ارب سال (200 ٹریلین اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی، اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جس کو ہم ستارے، سیارے، اور نیبولا (nebula) کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے مہیب گولے کی شکل میں نامعلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے۔ تقریباً دو ارب سال پہلے ایسا ہوا کہ کائنات کا کوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا، جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں، اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان برپا ہوا، زبردست لہریں پیدا ہوئیں، جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں، اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوت کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے۔ یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی میں سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام (objects) بنے۔ اس وقت یہ سب ٹکڑے

سورج کے گرد گھوم رہے ہیں، اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔

زمین ابتدا میں ایک شعلے کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔ مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروڑوں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہو گئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑرہی تھی، جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے، اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھاگئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگر چہ ٹھنڈا ہو گیا تھا، مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا، اور وہ باہر نکلنے کے لیے بے قرار ہو گئیں۔ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ بڑے بڑے شگاف پڑ گئے، اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے ۔ ان ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر کہلاتے، اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی ۔ بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھیں سی بن گئیں، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب 23 کروڑ سال ہوئے، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی ۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے، جو پانی کے کنارے وجود میں آئے ۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف جانور رہے۔ کے بعد سمندری پودے نمودار ہوئے اور خشکی پر بھی گھاس اگنا شروع ہوئی ۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لیے حالات سازگار ہوئے اور زمین پر انسان پیدا ہوا۔

اس نظریے کے مطابق ، انسان کی ابتدا پچھلے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے ۔ یہ مدت بہت ہی وقت کے جو فاصلے کائنات نے طے کیے ہیں، ان کے مقابلے میں انسانی تاریخ پلک جھپکنے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط

سو سال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعے کو سامنے رکھیے، اور پھر اس حقیقت پر غور کیجیے کہ کائنات میں انسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔ زمین و آسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے، اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ ہمارا وجود جن مادی اجزاء سے مرکب ہے، ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو، اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں۔ مگر ان مادی اجزاء کی یکجائی سے جو اعلیٰ ترین وجود بنتا ہے، وہ صرف سو برس زندہ رہے ۔ جو کائنات کا حاصل (finest product) ہے، وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے۔ تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لیے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لیے پیدا کر کے ختم کر دیا جائے۔ زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے، جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جا گرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، انسان کی نسل اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرۂ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیا ئیں اتنے بڑے حادثے کو ایک معمولی واقعے سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ انسانی نسل کی قبر ہے، جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔ کیا انسان کی قیمت بس اسی قدر ہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلائیے، کچھ بھی کیجیے، وہ ختم نہیں وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے، کیا اس کے لیے

یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا (culmination) بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن میں چند دنوں کے لیے پیدا ہو، اور پھر فنا ہو کر رہ جائے۔ تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں، اور کائنات اسی طرح باقی رہ جائے گو یا انسانی نسل کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔

اس سلسلے میں دوسری چیز جو صریح طور پر محسوس ہوتی ہے، وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے، جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ہر انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیا میں ہر پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے۔ مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ کچھ چاہتے ہیں، یہ کائنات اس کے لیے بالکل محدود معلوم ہوتی ہے، وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور نا کام لوٹا دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا انسان غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک کر آ گیا ہے، جو دراصل اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی، اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ ہمارے تمام جذبات و خیالات اور ہماری تمام خواہشیں غیر حقیقی ہیں، جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں، اور ہمارے ذہنوں میں بالکل ال ٹپ طریقے سے پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہو رہی ہے، اور جن کو اپنے سینے میں لیے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہو جاتی ہے کہ وہ انھیں حاصل نہ

کر سکی، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یوں ہی پیدا ہورہے ہیں، جن کے لیے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے، اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔ ساری کائنات میں صرف انسان ایسا وجود ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو بہتر بنانا اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چیونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں، یا بیا (Baya) گھونسلے بناتا ہے۔ مگر ان کا یہ عمل غیر شعوری طور پر محض عادتاً ہوتا ہے۔ ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انھیں خوراک جمع کر کے رکھنا چاہیے تا کہ کل ان کے کام آسکے یا ایسا گھر بنانا چاہیے، جو موسموں کے رد و بدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہیے، جانوروں کے لیے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کل نہیں رکھتے، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف کل کا تصور جو انسان میں پایا جاتا ہے، اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے۔ انسان ”کل“ چاہتا ہے مگر اس کو صرف ”آج“ دیا گیا ہے۔ اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو ایک خلا (vacuum) کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے، جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے، اور اس کی ہر چیز اپنے مقرر راستے پر چلی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے، جیسی کہ اسے ہونا چاہیے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا۔

ہم صریحی طور پر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے، اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے، اور دوسرا مظلوم۔ کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جاسکتا ہے۔ ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا

شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے، اور لوگوں کو اکسپلائٹ کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی زندگی نہایت عیش و عشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیا اسی حال میں ختم ہو جائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے، اور اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کر لیتی ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں وہی قوم نیک نام رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کے پاس نشر و اشاعت کے ذرائع ہیں، اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف کیوں کہ اس کی آہ کے لیے دنیا کے کانوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی۔

دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلے پر اختلاف ہوتا ہے، اور زبردست کش کش تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو برحق کہتے ہیں، اور ایک دوسرے کو انتہائی برا ثابت کرتے مگر دنیا میں ان کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے، جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر سکے۔ موجودہ دور کو ایٹمی دور کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو دوسری کا دور کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے، خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ ہر شخص غلط کار ہے، مگر ہر شخص پوری قوت کے ساتھ آواز لگا کر اپنے کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکمرانوں کے بیانات دیکھیے ۔ انتہائی جسارت کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتا ہوا نظر آئے کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔

یہ صورت حال واضح طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک ایسی دنیا چاہیے، جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔ مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے، اس کو پر کرنے کے اسباب موجود ہیں۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ایک زبردست خلا ہے۔ جس قدرت نے مادی دنیا کو مکمل حالت میں ترقی دی ہے، کیا اس کے پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو

بُرا سمجھتا ہے۔ ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ اس کو ہونا چاہیے، اور کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ اس کو نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرغم وہ سب کچھ یہاں ہو رہا ہے، جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے۔ انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی یہ معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ یہاں باطل کے بجائے حق کو غالب آنا چاہیے۔ پھر کیا حق ظاہر جو چیز مادی دنیا میں پوری ہو رہی ہے، کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔ یہی وہ سوالات ہیں، جن کے مجموعے کو میں نے او پر انسانیت کے انجام کی تلاش“ کہا ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے، جو اس وقت نظر آ رہی ہے تو یہ کس قدر لغو زندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا گویا سب کچھ صرف اسی کے لیے ہے، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی ناکام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سوال کے سلسلے میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑنا فضول ہے۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمہیں حاصل ہے اس کو پر مسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صحیح ہے یا غلط ، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس جواب کے بارے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے، وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں، انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا، وہ مجاز (illusion) کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں ۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہوگئے ہیں۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے لیے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرے ، مگر نادان انسان روشنی کے بجائے اس کے سائے (shadow) کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کی مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میں اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل

دنیا کی ضرورت نہیں۔ حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہیے۔ مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں، اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ حالاں کہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے، جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آ کر رہے گا، اور کسی کا اس سے غافل ہونا، اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کر سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو گھل زندگی سمجھنا، اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطہ نظر کی لغویت فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ ایسا فیصلہ وہی کر سکتا ہے، جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھ بند کر لے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کر دے۔ یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہیے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ ایک چلانے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہونا چاہیے، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈکے ہوئے ہیں، اور مجسم شکر و سپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں، جس کے آگے اپنی عقیدت کے جذبات کو شمار کر سکیں۔ مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم اس کائنات کے اندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں۔ ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے، جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔ مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو، اور انسان جو کائنات کا خلاصہ (finest product) ہے، اس کی عمر صرف چند فطرت ہم کو بے شمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے، مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔ پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے، جو مادی دنیا اور انسانی دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مادی دنیا انتہائی طور پر مکمل ہے۔ اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا

انسان کی حالت ساری مخلوق سے بد تر نظر آتی ہے۔ ہماری بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کا کوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے۔ انسان دوسرے انسان کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

Printed page