Al-Risala · February 2021

انسان کی نارسائی

Al-Risala, February 2021, pp. 47–48

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ سوالات ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ وہ اندر سے بھی اہل رہے ہیں، اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی، مگر اس کی حقیقت ہمیں نہیں بتائی گئی ہے۔

اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اور اپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربے کے دائرے سے اس سلسلے میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے، اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کر سکتے، اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرے میں محدود ہے، جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ (five senses) ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور کالک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفوف کا باریک کیڑا جو سفوف کے ذروں ہی کے برابر ہوتا ہے، اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے، وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے، اس کے مشاہدے کے پیمانے میں خاکستری سفوف کوئی چیز نہیں۔

نوع انسانی کی زندگی اُس مدت کے مقابلے میں جب کہ یہ کرہ ارض وجود میں آیا، اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی، اور خود کرہ ارض کائنات کے اتھاہ خلا میں ایک ذرے کے برابر بھی

ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارے میں جو خیال آرائی کرتا ہے، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہو جاتی ہے، جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ سورج، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.603 بلین سال سے موجود ہے۔ اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.543 بلین سال ہے، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کروڑ سال گزر چکے ہیں۔ کے مقابلے میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں، اس طویل زمانے کا ایک بہت حقیر (tiny) جزء ہے، جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لیے درکار ہے۔ کائنات کے بے حد طویل ماضی اور نا معلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے، جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کو عاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لامودود ہے، اور اس کو سمجھنے کے لیے ہماری عقل اور ہمارے تجربے بالکل ناکافی ہیں۔ ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعے کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اب تک کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔

اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لا کر چھوڑ دیتے ہیں، جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں۔ ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب چاہتے ہیں۔ جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں کر سکتے۔ ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ اور وہ ذہن ہمیں حاصل نہیں ہے، جو براہ راست حقیقت کا ادراک کر سکے۔ [ یہ مضمون ’’حقیقت کی تلاش‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے، افادیت کے پیش نظر جزئی ترمیم کے بعد دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے ]

Printed page