حج بدل کا مسئلہ
Al-Risala, May 2022, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
جمہور فقہاء کی رائے ہے کہ جو شخص مر جائے اور اس پر حج فرض رہا ہو تو اس کے وارث پر واجب ہے کہ میت کی طرف سے حج کرے یا اس کی طرف سے کسی کو حج کروائے، خواہ مرے ہوئے شخص نے حج کی وصیت کی ہو یا وصیت نہ کی۔ امام مالک کا قول ہے کہ میت کی طرف سے حج اس وقت ضروری ہے جب کہ اس نے وصیت کی ہو، ورنہ نہیں۔ کیوں کہ حج ان کے نزدیک بدنی عبادت ہے، اس میں نیابت نہیں (جمهور الفقهاء يرى ان من مات و عليه حجة الاسلام وجب علی ولیه ان يحج عنه او یجھز من يحج عنه من ماله، سواء اوصیٰ الميت بالحج ام لم يوص ـ وقال الامام مالک، يجب الحج عن الميت ان كان قد اوصى بذلك۔ اما اذا لم يوص بالحج فلا يجب الحج عنه۔ لان الحج عنده عبادة بدنية لا تقبل النيابة)۔ اس مسئلہ کی بنیاد صحیح البخاری کی ایک روایت پر ہے، جس میں ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ میری ماں نے حج کی نذر کی تھی۔ مگر وہ حج کیے بغیر کیا میں اس کی طرف سے حج کروں۔ آپ نے فرمایا: ہاں (إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا) صحيح البخاري، حدیث نمبر 1852۔ میں اس آدمی کا ذکر ہے جس نے اُس اعتبار سے حج کی نیت کر رکھی ہو، جس میں حج فرض ہو جاتا ہے، مثلاً نذر ماننا، وغیرہ۔ مگر ادائیگی سے پہلے اس کی وفات ہو گئی۔ دوسری ایسی کوئی روایت نہیں جس میں میت کی طرف سے عمومی طور پر حج کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی ہو۔
میرے نزدیک اس معاملہ میں امام مالک کا مسلک صحیح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صرف مالی قرض ایک ایسی چیز ہے جس میں استثنائی طور پر یہ حکم ہے کہ میت کی طرف سے ہر حال میں اس کو ادا کیا جائے ۔ عبادتی امور میں صرف نیت کا اعتبار کیا جائے گا۔ بخاری کی مذکورہ روایت میں دَین (قرض) کا لفظ ہے، مگر وہ مجازی معنی میں ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ اس سے مالی قرض پر قیاس نہیں کیا جا سکتا (ڈائری، 22 ستمبر 1983)۔