Al-Risala · May 2022

قدیم دور، جدید دور

Al-Risala, May 2022, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

راکیش شرما (پیدائش 1949) پہلے ہندوستانی خلا باز تھے، جنھوں نے 1984 میں چاند پر قدم رکھا اُن دنوں ہندوستان میں یہ گفتگو کا موضوع بنا ہوا تھا۔ چنانچہ اس حوالے سے انڈیا کے انگریزی روزنامہ دی ٹائمس آف انڈیا (20 اپریل 1984) میں ایک دلچسپ لطیفہ نقل کیا گیا تھا: "Rakesh's journey into space" says the narrator, was tabled for discussion in our house. Every member of the family was expressing his or her opinion on the subject. Then my youngest daughter asked: "Dad, can I become the first Indian spacewoman?" "Yes dear" replied the grandmother, "you will be the first Indian spacewoman. I will consult Pandit Girdhar Vyas and see what is in store for you in your kundali." My eldest son, Arun, interjected. "Mom, you should consult the Russian leader, not astrologers."

" خلا میں راکیش (شرما) کا سفر" گھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ گھر کا ہر فرد اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کر رہا تھا۔ ایک دن کھانے کی ٹیبل پر، جب کہ گھر کے سب لوگ جمع تھے، میری چھوٹی بیٹی نے پوچھا: "پاپا، کیا میں پہلی ہندوستانی خلا باز خاتون بن سکتی ہوں؟ دادی نے پیار سے جواب دیا، "یقیناً تم پہلی ہندوستانی خلا باز خاتون بن سکتی ہو۔ میں میں پنڈت گردھر ویاس کو تمھاری جنم پتری دکھا کر ان سے پوچھوں گی کہ تمھاری کنڈلی میں کیا لکھا ہوا ہے۔ " یہ سن کر میرے بڑے بیٹے ارون نے مداخلت کرتے ہوئے کہا" دادی ماں، آپ کو روسی لیڈر سے مشورہ کرنا چاہیے، جو تشیوں سے نہیں۔

یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ وہ کیا فرق ہے ، جو دورِ قدیم اور دورِ جدید کے درمیان ہے۔ میں علم نام تھا قیاسات کا ، مگر موجودہ زمانے میں علم نام ہے مطالعہ اور تجربہ کے ذریعے دریافت شدہ حقیقت کا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان خلا (space) کے سفر کے معاملے کو جوتشی سے پوچھنے کے بجائے خلائی سائنس کے ماہرین سے پوچھنے پر زور دیتا ہے۔

جدید انسان کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کے لیے اس فکری تبدیلی کا لحاظ کرنا بہت اسلام اگرچہ پوری طرح ایک سائنٹفک مذہب (scientific religion) ہے۔ اس کو پیش کرنے والے ، مذکورہ دادی ماں (grandmother) کی طرح ، غیر سائنسی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ جو الزام حقیقتِ داعی کے سر آنا چاہیے تھا ، وہ غیر ضروری طور پر اسلام کے سر آجاتا ہے۔

Printed page