فری انکوائری
Al-Risala, May 2022, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں انسان پہلے مذہب یا سماجی روایت کے ٹریپ میں پھنسا ہوا ہر چیز مذہب کی جانچ پڑتال (scrutiny) میں چلی جاتی تھی۔ جہاں ہر چیز کو جائز ناجائز ، حلال و حرام کے فریم ورک میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کوئی فکری ترقی (intellectual development) نہیں ہو پاتا تھا۔ مگر سائنس نے ہر چیز کو فری انکوائری کا سبجکٹ بنا دیا۔ زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا کہ کچھ اہل علم بیٹھیں ، جن میں کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں شراب کی بوتل ہو ، مگر مجلس کے لوگ اس کو نظر انداز کر کے کسی موضوع پر ڈسکشن کریں۔ مذہب میں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سائنسی دور نے یہ کیا کہ ذاتی چیزیں انسان کا اپنا فعل ہے ، اور حقائق (facts) ایک الگ چیز ہے۔ اس کو کوئی بھی ڈسکور کر سکتا ہے ، خواہ وہ ذاتی اعتبار سے کیسا بھی انسان ہو۔ مثلاً پہلے کوئی معیار (criterion) نہیں تھا ، جس کی بنیاد پر لڑائی کو بند کیا جائے۔ کیوں کہ قدیم زمانے میں لڑائیاں مذہب کے نام پر لڑی جاتی تھیں۔ اس وجہ سے وہ مقدس بنی ہوئی تھیں۔ اس تقدس کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ جہاد بن گئی ، اور عیسائیت میں اس کو کروسیڈس کا نام دیا گیا۔ اور جو آدمی اس کے لیے لڑ کر مر جائے ، اس کو شہید کہتے تھے۔
تقدس کے اس تصور کی وجہ سے جنگ کی روک تھام نہیں ہو پاتی تھی۔
ریشنل ایج میں یہ ممکن ہو گیا کہ کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر چیزوں کی فری انکوائری کی جائےگا۔ ریشنل ایج کی وجہ سے یہ سوچ کمزور ہو گئی ہے کہ عقیدہ کی بنیاد پر کسی چیز کے حرام یا حلال ہونے کا فیصلہ ریشنل ایج میں جو بات ہوئی، وہ یہی تھی کہ فری انکوائری کا حق انسان کو مل گیا۔ طور پر قدیم دور میں مذہب کو فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی، پھر مذہب کے نام پر بادشاہ اور مذہبی پیشوا کو فیصلہ کن حیثیت مل گئی۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ قانون تھا۔ اس وجہ سے جو بھی اختلاف کرتا، اس کی سزا موت تھی۔ اس قسم کا محاورہ اسی دور کی ترجمانی کرتا ہے — جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ دور جدید نے اس اجارہ داری (monopoly) کو ختم کر دیا ہے۔ اب ایسی کوئی رکاوٹ اب فری انکوائری ہر انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔