Al-Risala · May 2022

دورِ جدید کا ایک عطیہ

Al-Risala, May 2022, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دور کیسے پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم حجری دور (stone age) میں ایک بار دو آدمیوں کے درمیان کسی بات پر شدید اختلاف پیدا ہو گیا ۔ اختلاف یہاں تک بڑھا کہ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے۔ اسی سنگ باری کے درمیان ایک واقعہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کا پتھر دوسرے آدمی کے پتھر سے ٹکرا گیا۔ اس وقت دونوں پتھروں کے درمیان چمک دکھائی دی۔ چمک دیکھ کر دونوں اپنی لڑائی بھول گئے، اور دونوں نے اپنے اپنے پتھروں کو لے کر سوچنا شروع کر دیا کہ کہاں سے روشنی آئی ۔ ابتدائی طور پر یہ دریافت ہوا کہ عام معنوں میں یہ روشنی نہیں تھی، بلکہ دونوں پتھروں کے درمیان سے نکلنے والی وقتی چنگاری تھی۔ اس سوچ کو بغیر کسی قید کے آگے بڑھنے کے لیے جس چیز کی ضرورت تھی، وہ فری انکوائری کا یہ فری انکوائری کا ماحول قدیم دور میں ممکن نہیں تھا، بلکہ اس کا آغاز جدید دور میں ہوا اس دور کو جمہوریت کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہے دوسروں کو قبول کرنا : Democracy means acceptance of others. اختلاف کا مسئلہ دورِ جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار

اختلاف کو دور کرنے کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اور رائے کے اختلاف (dissent) کو رائے تک محدود رکھ کر نزاع (conflict) کو ختم کرنے کے دور کا آغاز ہوا ہے۔ قدیم زمانے میں جب اختلاف پیدا ہوتا تھا، تو اس کا خاتمہ صرف تلوار کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔ قدیم عرب کا یہ محاورہ اسی حقیقت کی ترجمانی ہے ـــــ الْقَتْلُ أَنْفَى لِلْقَتْلِ (قتل، قتل کے لیے سب سے بڑا روک ہے)۔ مگر اب یہ فریم ورک (framework) بدل چکا ہے۔

موجودہ دور میں اختلاف کے خاتمہ کا سپورٹنگ اسٹرکچر (supporting structure) بدل گیا ہے۔ اب عمومی تباہی کے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔ دو عالمی جنگ خصوصاً جاپان کی تباہی نے تمام دنیا کو اس سے روک دیا ہے کہ وہ اختلاف کا خاتمہ بذریعہ جنگ کریں: Weapons of Mass Destruction (WMD) do serve as a deterrent to a global conflict. The destructive capabilities of the WMD were on full display over Japan at the end of World War II, and no one wants to go through something like that again. اختلاف بذریعہ جنگ کا دور اب ختم ہو گیا ہے، اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو "تلوار" کی بنیاد پر فیصلے کا بدل مل گیا ہے، اور وہ ہے ڈسنٹ (dissent)، یعنی اختلاف رائے کو اعتدال کے دائرے میں رکھنا، اس کونفرت اور نزاع تک نہ پہنچنے دینا۔ انسان کی عقل نے یہ ریلیز (realize) کر لیا ہے کہ اختلاف رائے کی بنیاد پر پیدا ہونے والے نزاع کو ریزن کی سطح پر پہنچ کیا جا سکتا ہے۔ زمانے میں حالت یہ تھی کہ اختلاف کو بزور طاقت سختی کے ساتھ دبایا جاتا تھا۔ یورپ کے حوالے سے اس کی تفصیل ڈریپر (وفات 1882ء) کی کتاب "معرکہ مذہب و سائنس" میں دیکھی جاسکتی ہے: History of the Conflict Between Religion and Science, 1875, London, pp. 373 مگر یہ صرف یورپ کا مسئلہ نہیں تھا، ساری دنیا میں یہی طریقہ رائج تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ دور میں بات چیت کی سطح پر اختلاف کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ یہ وہی دور ہے، جس کو ایک حدیث رسول میں "لا اله الا اللہ کے ذریعہ قلعہ فتح کرنا" کہا گیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2920)۔ یعنی پیس فل انداز میں ڈائیلاگ کے ذریعہ اختلاف کو پہنچ کر کے مقصد حاصل کرنا۔

Printed page