Al-Risala · May 2022

اظہارِ آیات کا دور

Al-Risala, May 2022, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے نزول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ انسانی ترقی ابھی سائنس کی دریافتوں تک نہیں پہنچی تھی۔ دنیا میں ابھی امن کا زمانہ نہیں آیا تھا، دنیا میں ابھی دورِ شمشیر باقی تھا۔ اس وقت قرآن میں مستقبل کے بارے میں ایک تاریخی پیشین گوئی کی گئی تھی۔

قرآن کی ایک متعلق آیت کے الفاظ یہ ہیں: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہ آیت ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس پیشین گوئی پر ہزار سال سے زیادہ کی مدت گزر چکی اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کی یہ پیشین گوئی ساتویں صدی کے بعد کے زمانے میں یقینی طور پر ظہور میں آنی چاہیے۔ اس لیے اب یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ تبیین حق کا یہ دور کب آیا۔ تبیین حق کا معاملہ تبیین آیات (کائناتی نشانیوں کے ظہور) سے پہلے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ آیات کی تبیین کے بعد کا معاملہ ہے۔ اور ماڈرن سائنس نے کائناتی نشانیوں کو ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر کائناتی سطح پر وقوع میں آنے والا تبیین حق، یعنی حق کے اظہار کا ایک درجہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں باقی تھا، یہ مستقبل میں ظاہر ہونے والا تھا۔ اور یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اب، سائنسی دور میں وہ ظاہر ہو چکا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، قرآن کی ایک تبیین وہ ہے جو نزولِ قرآن کے زمانے میں ہوئی۔ لیکن ایک اور تبیین باقی تھی، جو بعد کے زمانے میں پوری ہوئی۔ یعنی سائنسی ڈسکوریز کی بنیاد پر ہونے والی تبیین (manifestation)۔ راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، آیت میں جس تبیین حق کا اعلان ساتویں صدی عیسوی

کے نصف اول میں کیا گیا تھا، وہ اب یقینی طور پر ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اس لیے اب یہ دریافت کرنے کا وقت ہے کہ اس تبیین حق سے مراد کیا ہے تا کہ اس کو اپنے علم کا حصہ بنایا جائے۔ تفسیر قرآن لکھی جائے، جو سلف کے استنباط اور تشریحات پر مبنی نہ ہو، بلکہ دورِ حاضر کی دریافت شدہ معلومات پر مبنی ہو۔

جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر میں قرآن کے تقاضوں کا جاننا ممکن نہ ہوگا۔ دورِ حاضر کے سوالوں کا جواب علمائے سلف کی کتابوں میں نہیں ملے گا، بلکہ اس کا جواب جب بھی ملے گا، وہ دورِ حاضر کے اہل علم کی کتابوں میں ملے گا۔ قیاساً اس میں وہ غیر مسلم افراد یا اقوام شامل ہیں، جن کے بارے میں حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ دین کی تائید کریں گے (اِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ) المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640 ۔ اس روایت کے مطابق، جو لوگ اس حقیقت کو کھولیں گے، وہ غیر اہل ایمان ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر سائنسی اندازے کے مطابق، تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ایک عظیم کائناتی اس عظیم دھماکے کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کی ڈسکوری سیکولر اہل علم نے کی ان کے مطابق، یہ عظیم دھماکہ ہماری کائنات کا آغاز تھا۔ غالباً یہی کا ئناتی واقعہ ہے، جس کا قرآن میں ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان رتق کی شکل میں تھے۔ مطلب ہےمنضم الاجزاء (joined together) یعنی انتہائی شدت کے ساتھ باہم جڑے ہوئے۔ پھر اللہ نے ان کا فتق کیا، یعنی یہ تمام اجزاء ایک دوسرے سے الگ الگ کر دیے گئے۔ اب اس سے غافل ہونا، مجرمانہ فعل ہوگا، اور یہ بھی کہ جن ایشوز کو لے کر ساری دنیا کے مسلمان بڑے بڑے مظاہرے کر رہے ہیں، وہ سب نہ صرف بے سود بلکہ غیر متعلق ہیں۔ اب کرنے کا صرف ایک کام ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تبیینِ حق کا جو موقع دیا ہے، اس کو استعمال کیا جائے۔

Printed page