حکمت کا طریقہ
Al-Risala, May 2022, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
17 جون 2019 کو مصر کے سابق منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال ہو گیا۔ بوقت وفات ان کی عمر 67 سال تھی۔ میڈیا کے مطابق محمد مرسی ایک کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت کے کمرہ میں موجود تھے، جیسے ہی عدالتی کارروائی ختم ہوئی وہ بے ہوش ہو کر گرپڑے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ راستہ ہی میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر محمد مرسی 30 جون 2012 کو مصر کے صدر منتخب ہوئے۔ پھر فوج سے ان کا اختلاف پیدا اسکائی نیوز عربیہ کی 26 جون 2013 کی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے ایک تقریر میں خود یہ کہا تھا: اصبت احیاناً، واخطات احیاناً اخری (کبھی میں نے درست کام کیا، اور کبھی میں نے غلطی کی)۔ یہ تقریر یوٹیوب پر ڈاکٹر محمد مرسی کی اپنی آواز میں عربی زبان میں موجود ہے، جب کہ وہ صدارت کی کرسی پر موجود تھے۔ اس کے بعد صدر محمد مرسی اور ان کے مخالفین کے درمیان ٹکراؤ کے واقعات پیش آئے، اس کا کلمینیشن (culmination) اس طرح ہوا کہ 3 جولائی 2013 کو فوج نے ان کی حکومت ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف اس کے بعد لمبے عرصے تک عدالت میں مقدمہ چلتا رہا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں وہ حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ اس معاملے میں حکمت کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے یہ دریافت کیا جائے کہ وہ غلطی کیا تھی، جو خود اپنے اعتراف کے مطابق، صدر ڈاکٹر محمد مرسی سے سرزد ہوئی۔ اس لیے کہ ڈاکٹر مرسی جمہوری نظام کے جمہوری نظام میں ایک رولنگ پارٹی ہوتی ہے، اور دوسری اپوزیشن پارٹی۔ جمہوری نظام میں غلطی کرنا بے حد نازک (risky) ہوتا ہے۔ کیوں کہ اپوزیشن پارٹی فوراً اس کو اپنے حق میں استعمال کرتی جمہوری نظام میں غلطی کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ جمہوری نظام میں اگر حکومت کا کوئی فرد غلطی کرے تو یہ ناممکن ہوتا ہے کہ اس کے انجام سے وہ اپنے کو بچا سکے۔ اسی لیے جمہوری نظام میں صاحب اقتدار غلطی کرنے کے بعد اکثر استعفیٰ دے کر حکومت سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس قسم کا استعفیٰ گویا صاحب اقتدار کے لیے چھوٹی برائی (lesser evil) کو اختیار کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔
اس معاملے میں غلطی کا اعتراف کرنے کے بعد ڈاکٹر مرسی کو جو پہلا کام کرنا تھا، وہ یہ تھا کہ وہ اپنی غلطی کے انجام سے بچنے کی تدبیر کریں۔ جمہوری نظام میں اس طرح کی غلطی کرنے کے بعد صرف دوسرے کو الزام دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ غلطی کی نوعیت کو سمجھا جائے، اور جمہوری روایات، اور قانونی تقاضے کی روشنی میں اس کا حل دریافت کیا جائے۔
اب جب کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے تو ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کو یہ کام انجام دینا چاہیے۔ ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فوجیوں کو برا بھلا کہیں ۔ اگر وہ ایسا کریں گے، تو وہ یہ دریافت نہ کر پائیں گے کہ غلطی کہاں ہوئی، اور جمہوری نظام یا قانونی نظام کے دائرے میں اس کا حل کیا ہے۔ خدا کی کنٹری میں انگلینڈ کے ایک صاحب اپنی کار سے سوئزر لینڈ گئے ۔ اُن کے اپنے ملک میں بائیں چلو (left-hand drive) کا ٹریفک رول تھا، مگر وہ اس دوسرے ملک میں بھی بائیں چلو کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑا رہے تھے، جب کہ وہاں دائیں چلو (right-hand drive) کا اصول رائج تھا۔ مخالف سائڈ میں کار چلاتے دیکھ کر وہاں کی ٹریفک پولس نے ان کو روکا۔ کار کا نمبر دیکھ کر پولس میں سمجھ گیا کہ یہ آدمی کس ملک سے آ رہا ہے۔ اُس نے مذکورہ شخص سے کہا۔ جناب، آپ اس وقت سوئزرلینڈ میں ہیں، جہاں دائیں چلو کا اصول ہے، نہ کہ انگلینڈ میں جہاں بائیں چلو کا اصول ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کے تخلیقی پلان کا ہے۔ خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا کے حکموں پر چلے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ خدا کی دنیا میں خدا کے اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے دن بطور سزا ابدی کوڑاخانے کے مستحق قرار پائیں گے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورے معنوں میں ایک با معنی کائنات ہے۔ ایسی ایک با معنی کائنات، بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔ ضروری ہے کہ اس دنیا کا ایک تخلیقی منصوبہ ہو، اور اس تخلیقی منصوبے کے مطابق ، دنیا کا خالق اس کے بارے میں ایک منصفانہ فیصلہ کرے۔