He shall be hanged
Al-Risala, May 2022, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
مجسٹریٹ نے فیصلہ دیکھا تو اس نے کہا کہ میں اس کو سولی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ ’’اس کو لٹکا دیا جائے‘‘ مگر یہ نہیں بتایا کہ کیسے ۔ اب میں اس کو سر کی طرف سے لٹکاؤں یا پاؤں کی طرف سے۔ اس طرح کے واقعات مختلف ملکوں کی عدالتوں میں پیش آئے۔ قانون کے الفاظ زیادہ مکمل کیے گئے ۔ دانیال لطیفی صاحب سے میں نے کہا کہ ان الفاظ کو لکھ دیجیے۔ دانیال لطیفی صاحب کو ایک کیسٹ ’’جدید امکانات‘‘ دیا گیا تھا۔ آج شام کو ان کا ٹیلی فون آیا کہ انہوں نے اس کیسٹ کو دو بار سنا۔ ان کو یہ کیسٹ بہت پسند آیا۔ اس باران کو ’’حل یہاں ہے‘‘ پڑھنے کے لیے دی گئی ہے۔
ابو الطیب احمد بن الحسین المتنبی (وفات 965ء) عربی زبان کا ایک نامور شاعر ہے۔ کے اشعار حکمت اور فلسفۂ حیات کے لیے مشہور ہیں۔ آج دہلی میں ایک بزرگ سے ملاقات
ان سے میں نے یہ کہا کہ زندہ قوم کے افراد میں اعتراف کی صفت ہوتی ہے، اور زوال یافتہ قوم کے افراد میں اعتراف کی صفت کا فقدان ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے کچھ مثالیں دیں۔ خاموشی سے سنتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے متنبی کا ایک شعر پڑھا جو یہ تھا ــ اگر تم شریف کو عزت دو تو تم اس کو اپنا غلام بنالو گے۔ اور اگر تم کمینہ آدمی کو عزت دو تو وہ سرکشی کرے گا: إِذَا اَنْتَ اَكْرَمْتَ الْكَرِیْمَ مَلَكْتَهُ وَ اِنْ اَنْتَ اَكْرَمْتَ اللَّئِیْمَ تَمَرَّدَا 3 جنوری 1986 مسٹر بھیکا رام (پیدائش 1942ء) یوپی اسمبلی میں ایم ایل اے ہیں۔ وہ آج صبح کو ہمارے دفتر ان کے ہمراہ ان کے ساتھی نذر الاسلام صاحب بھی تھے۔ ان سے بڑی مفید باتیں ہوئیں۔ مسٹر بھیکا رام نے کہا کہ میرے نزدیک مذہب کی اصل تعلیم یہ ہے کہ سب انسان برابر ہر قسم کی اونچ نیچ ختم ہو اور ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان نفرت نہ رہے۔ کہا کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے اور اگر اس ملک میں سچا اسلام پیش کیا گیا ہوتا تو آج ہمارا ملک مسلمان یہاں وہ سب جھگڑے موجود ہی نہ ہوتے جو اب دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ ہندی زبان میں اسلام کا مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو ’انسان اپنے آپ کو پہچان‘ کا ہندی ترجمہ بطور تحفہ دیا۔ میں نے مسٹر بھیکا رام سے مزید پوچھا کہ اپنا کوئی خاص تجربہ (انوبھو) بتائیے۔ کہا کہ لالچ اور ذاتی فائدہ کو چھوڑ کر سبھی لوگوں کے بارے میں سوچنا، سب کے فائدے کو سامنے رکھ کر سوچنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ آپ لالچ کو تیاگ دیں، تبھی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ 4 جنوری 1986 ایک مسلمان لیڈر دہلی آئے اور مجھ سے ملے (نام بتانا مناسب نہیں)۔ ان کے پاس انگریزی زبان میں تیار شدہ ایک میمورنڈم تھا۔ اس کی ایک نقل انہوں نے مجھے دی۔ یہ میمورنڈم وہ وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس میمورنڈم میں مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا تذکرہ اس کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمان چونکہ معاشی دوڑ میں ملک کے اکثریتی فرقہ سے پیچھے ہو گئے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس وقت تک خصوصی رعایت دی جائے جب تک کہ وہ
معاش کے میدان میں اکثریتی فرقہ کے برابر نہ ہو جائیں۔
مذکورہ لیڈر صاحب کو میں پہلے سے جانتا تھا۔ مجھ کو معلوم ہے کہ ان کا اپنا بزنس ہے اور ان کے پاس کرائے کے مکانات ہیں۔ ان سب سے انھیں (1986ء میں) کم از کم دس ہزار روپے ماہوار آمدنی ہوتی ہے۔ جب کہ انھیں لیڈر صاحب کے ایک سگے بھائی ہیں جو مہینہ میں بمشکل پانچ سو روپے کماتے ہوں گے۔ میں نے لیڈر صاحب سے کہا کہ آپ کے فلاں سگے بھائی معاش کے اعتبار سے آپ سے پیچھے ہو گئے ہیں۔ اس لیے آپ ایسا کریں کہ اپنی آمدنی کا نصف حصہ ہر ماہ اپنے بھائی کو دیتے رہیں، یہاں تک کہ وہ معاشی اعتبار سے آپ کے برابر ہو جائیں۔ یہ سن کر مذکورہ لیڈر ہنسنے لگے۔ ان کی ہنسی کو دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں نے کہا: آپ پر تعجب ہے کہ جو رعایت آپ اپنے سگے بھائی کے ساتھ نہیں کر سکتے ہیں، جو کہ مسلمان بھی ہے، اسی رعایت کا مطالبہ آپ مسلمانوں کے لیے ایک نان مسلم وزیر اعظم سے کرنے جا رہے ہیں۔ ہماری مسلم قیادت آج سب سے زیادہ جس چیز سے بے خبر ہے وہ یہ کہ موجودہ دنیا ر عایتوں کی دنیا نہیں، بلکہ مقابلے کی دنیا ہے۔ رعايتوں کو تلاش کرنے والا اس دنیا میں اپنے لیے کچھ نہیں پا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ مسلمانوں کو مذکورہ قسم کے جھوٹے نعروں میں نہ الجھائیں، بلکہ انھیں صاف طور پر بتائیں کہ تم مقابلہ کی دنیا میں ہو۔ یہاں تم اہلیت کا ثبوت دے کر پا سکتے ہو۔ اگر تم اہلیت کا ثبوت نہ دے سکو تو یہاں تم کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔