5 جنوری 1986
Al-Risala, May 2022, pp. 34–37
By Maulana Wahiduddin Khan
شاہ واصف امام صاحب (پٹنہ) اپنے کسی کام سے دہلی آئے تھے۔ وہ آج مجھ سے ملنے کے لیے ہمارے مرکز (نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی) میں آئے۔ وہ دو سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں اور اردو اور انگریزی دونوں رسالوں کی ایجنسی بھی چلا رہے ہیں۔ ان کو میں نے دو کتابیں ہدیۂ دیں _ ’’حقیقت کی تلاش‘‘ اور ’’حل یہاں ہے‘‘۔
ان سے میں نے پوچھا کہ ’’الرسالہ‘‘ سے آپ کو کیا ملا۔ انہوں نے اس کے جواب میں جو کچھ
کہا وہ انھیں کے الفاظ میں یہ تھا: ’’الرسالہ کے مطالعہ سے پہلے میں کسی شہر کو دیکھ کر اس کے بنانے والے انسانوں کی عظمت میں گم ہو جاتا تھا۔ لیکن الرسالہ کے مطالعہ کے بعد یہ حال ہے کہ میں شہر بنانے والے انسانوں کے خالق کی عظمت میں گم رہتا ہوں۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم ہے جس نے انسان کو یہ صلاحیت دی‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں شاہ واصف امام ہوں، اب میں سمجھتا ہوں کہ میں رب کا بندہ ہوں۔ یہ اللہ کا فضل خاص ہے کہ آج ہزاروں لوگ ہیں جن کے اندر الرسالہ پڑھنے کے بعد اس قسم کا ذہن بنا ہے۔ اللہ تعالیٰ الرسالہ کی آواز کو مزید پھیلائے اور اس کو دنیا کی ہر زبان میں پہنچانے کا انتظام فرمائے۔
تقریباً روزانہ ایسے خطوط آتے ہیں یا ایسے افراد سے ملاقات ہوتی ہے جو اس قسم کے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے قائدین نے اگرچہ ابھی الرسالہ کی آواز کو اہمیت نہیں دی ہے، مگر غیر قائدین میں الرسالہ کی آواز بہت بڑے پیمانے پر پھیلی ہے اور روزانہ پھیل رہی ہے۔ تاہم اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ حق کی بے آمیز دعوت کے ساتھ ہمیشہ یہی صورت حال پیش آئی ہے۔ 6 جنوری 1986 ایک مسلمان بزرگ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ انھوں نے بیٹھتے ہی کہا: ’’مطلقہ عورت کے نفقہ کے سلسلے میں ہندوستان کی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ شریعت میں جارحانہ مداخلت ہے۔ آپ اس کے خلاف کیوں نہیں لکھتے‘‘۔ موصوف کی مراد شاہ بانو بیگم۔ محمد احمد اندوری کے مقدمہ سے تھی۔ میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے اپنے جملے کو صحیح کیجیے۔ یہ جملہ میرے نزدیک صحیح نہیں۔ اصل بات جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون (شاہ بانو بیگم) ہندوستانی عدالت میں گئیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے فلاں ملکی قانون کے تحت میرے شوہر سے گزاره (maintenance) دلوایا جائے۔ عدالت نے معاملے کی تفصیلی سماعت کے بعد مسلم خاتون کے دعویٰ کو تسلیم کیا اور خاتون کے اپنے مطالبے کے مطابق فیصلہ دیا کہ مدعا علیہ ان کو 180 روپے ماہوار ادا کرے۔ اس کو آپ عدالت کی جارحیت نہیں کہہ سکتے، کیونکہ جارحیت کرنے والا وہ ہوتا ہے جو اقدام
اس معاملے میں عدالت نے اپنی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ وہ کوئی اقدام کر سکتی اس معاملے میں اگر جارحیت ہوئی ہے تو وہ سراسر مسلم خاتون کی طرف سے ہوئی ہے ۔ خاتون ( شاہ بانو بیگم ) تھیں جنہوں نے بطور خود عدالت میں جا کر مقدمہ پیش کیا اور عدالت سے کہا کہ وہ ان کو ملکی قانون کے تحت مذکورہ رقم دلوائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں عدالت کو جارح قرار دینا اپنی غلطی کو دوسرے کے اوپر ڈالنا اگر آپ کو اسلام کا درد ہے تو آپ مسلم مردوں اور مسلم عورتوں کی اصلاح کیجیے ۔ ان کے اندر یہ ذہن بنائیے کہ وہ اپنے ذاتی جھگڑوں کو عدالت میں نہ لے جائیں ، بلکہ کسی کو ثالث (mediator) بنا کر آپس میں بیٹھ کر سلجھائیں ۔ مدینہ کے منافقین اپنے جھگڑے یہودیوں کی عدالت میں لے جاتے تھے تو قرآن نے خود منافقین کو ملزم ٹھہرایا ، نہ کہ یہودی عدالت کو (4:60) ۔ 7 جنوری 1986 پاکستان کے ایک صاحب ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔ وہ مکتبہ اسحاقیہ (کراچی) کے انہوں نے بتایا کہ میں نے انڈین ایئر لائنز میں سفر کیا۔ میں نے دیکھا کہ پاکستانی لوگ فیاضی کے ساتھ جہاز کے اندر شراب خرید رہے ہیں ۔ حالاں کہ پاکستان میں شراب پر پابندی ہے ۔ یہی حال ان تمام مسلم ملکوں کا ہے جہاں اسلامائزیشن کی نام نہاد تحریک چل رہی ہے۔ پر اور تقریروں میں اسلام کی دھوم ہے ، مگر عملاً پورا معاشرہ اسلام کے خلاف چل رہا ہے ۔ ہے کہ جب تک معاشرے کے افراد میں آمادگی پیدا نہ ہو جائے اسلامی قانون کا نفاذ ایک بے نتیجہ کام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مطابق ، اسلامی کام کا آغاز قلب و دماغ پر اسلام کے نفاذ سے ہوتا ہے ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993 ) ، نہ کہ حکومت اور پارلیمنٹ کے ذریعہ نفاذِ اسلام کا قانون بنا کر اسے بزور نافذ کرنے کی کوشش کرنا ۔
ایک صاحب ملنے کے لیے آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک عالم آئے تھے ۔ انہوں نے سورہ العصر کی تفسیر بیان کی ۔ اس میں انہوں نے کہا کہ اللہ نے اس سورہ میں یہ فرمایا ہے :
لوگوں کو بتا دو کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نے محمد کو دے دیا۔ اب جس کو لینا ہے وہ تمہارے پاس آکر لے۔ میرے پاس اب کچھ نہیں"۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے خدا کی کتاب میں کیا کیا تحریفات کی ہیں۔ وہ قرآن کے ’’متن‘‘ میں تو کوئی اضافہ نہ کر سکے، مگر انہوں نے قرآن کے حاشیے میں وہ سب کچھ لکھ دیا جو پچھلی امتوں نے ’’متن‘‘ میں لکھا تھا۔
مسلمانوں نے اگر قرآن کے متن میں کوئی تحریف نہیں کی تو اس کا انھیں کوئی انعام ملنے والا نہیں، کیونکہ متن میں تحریف سے تو ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پھر وہ متن میں تحریف کرتے تو کیسے کرتے۔ وہ صرف حاشیے میں تحریف کر سکتے تھے اور یہ کام انہوں نے اتنے ہی بڑے پیمانے پر کیا ہے جتنا پچھلی قوموں نے اس سے پہلے متن میں کیا تھا۔