9 جنوری 1986
Al-Risala, May 2022, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلمان بزرگ نے ایک ہندی کتاب کا ذکر کیا۔ جو بچوں کے نصاب میں داخل انہوں نے بتایا کہ اس میں تغلق بادشاہ پر ایک مضمون ہے۔ اس مضمون میں یہ الفاظ ہیں: ’’تغلق تھا تو مسلمان، مگر تھا بڑا دیالو‘ مذکورہ مسلمان بزرگ نے شکایت کی کہ نصاب کی کتاب میں اس طرح کی باتیں شامل کر کے نہایت منصوبہ بند طریقے سے بچوں کا ذہن بگاڑا جا رہا ہے کہ مسلمان وحشی اور خونخوار ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں بلکہ خود مسلم قوم پر ہے۔ اپنی یہی تصویر بنائی ہے تو دوسرے لوگ اس کے سوا مسلمانوں کو اور کیا سمجھیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے ایک بڑے ملی شاعر نے فخر کے ساتھ کہا ہے:
تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجرِ ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا پھر جب خود آپ کا نمائندہ یہی کہہ رہا ہو تو دوسرے لوگ اس کے سوا کچھ اور کیسے کہہ سکتے ایک اور صاحب ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ انگریز مؤرخین نے نہایت ہوشیاری کے
ساتھ ذہنوں کو بگاڑا ہے۔ مثلاً ہندوستان کی ایک انگریزی تاریخ میں تین دور کے لیے اس طرح مختلف الفاظ لکھے گئے ہیں:
Advent of Aryans Invasion of Muslims Influence of the British یعنی آریہ کی آمد، مسلمانوں کا حملہ اور برطانیہ کے اثرات۔