10 جنوری 1986
Al-Risala, May 2022, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے کہ خدا کے 99 نام ہیں۔ لوگ ان ناموں کو یاد کر کے ان کا ورد کرتے ہیں۔ نام محض نہیں، وہ دراصل خدا کی صفتیں ہیں۔ خدا ایک ہے، اس لیے اس کا نام بھی حقیقتاً ایک مگر اس کی صفتیں بے شمار ہیں۔ ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ کے 99 سے زیادہ نام ہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 3712)۔
میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خدا کی بعض ایسی صفتیں دریافت کی ہیں جو میری اپنی دریافت ہیں، جن کو میں نے اس سے پہلے کتابوں میں نہیں پڑھا تھا۔ مثلاً میں ایک بار وسیع خلا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں خدا کی ایک نئی صفت دریافت کر رہا ہوں۔ اس صفت کو self-confidence کہہ سکتے ہیں۔ وسیع خلا میں اتنے بے شمار اجرام کو متحرک کرنا ایک بے حد نازک کام تھا۔ خدا نے اتنی بڑی کائنات بنائی اور دوسری طرف انسان کو آنکھ دے دی کہ وہ دیکھے کہ کیا وہ اس میں کوئی بدنظمی یا انتشار پاتا ہے؟ غیر معمولی سیلف کانفیڈنس کے بغیر اتنا بڑا اقدام نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح میں نے ایک روز خدا کی ایک اور صفت دریافت کی۔ اور وہ ہے: ہےپرفکشنسٹ ہونے کے باوجود امپرفکشن سے ڈسٹرب نہ ہونا۔
میرا اپنا یہ خیال ہے کہ مجھے دھوئیں سے چکر آ جاتا ہے۔ شور سے میرا ذہن منتشر ہو جاتا گندگی کا دیکھنا میں برداشت نہیں کر پاتا۔ اسی لیے موجودہ دنیا مجھے وحشت خیز چیز معلوم ہونے لگی مگر خدا کامل اختیار کے باوجود انسانوں کی تمام خرافات کو گوارا کیے ہوئے ہے۔ خدا حد درجہ
معیار پسند ہونے کے باوجود مسلسل طور پر غیر معیاری چیز کو دیکھتا ہے اور وہ ڈسٹرب نہیں ہوتا۔ عجیب قدرت والا ہے خدا۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھیں الرسالہ کے بارے میں یہ شکایت تھی کہ اس میں مسلمانوں پر تنقید ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں پر تنقید کرنا اغیار کو خوش ہونے کا موقع دینا اس لیے ان کا مشورہ تھا کہ مسلمانوں پر کھلی تنقید نہ کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قوم پرستی کہا جاتا ہے۔ معاملہ میں حساس ہونے کے بجائے قومی معاملہ میں حساس ہونا ہے۔ حقیقت کا مجروح ہونا آپ کو البتہ قومی فخر مجروح ہو تو آپ تڑپ اٹھتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے اس مشورے کو قبول نہیں کر سکتا۔