12 جنوری 1986
Al-Risala, May 2022, pp. 39–43
By Maulana Wahiduddin Khan
تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک عالم سے اپنی گفتگو نقل مذکورہ عالم نے ان سے یہ شکایت کی کہ تبلیغی جماعت کے لوگ جہاد کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے جہاد کو نہیں چھوڑا ہے۔ البتہ قتال سے ہم الگ رہتے آپ نے خود کتاب ’’نورالأنوار‘‘ (جلد 1، صفحہ 172-170) میں ہم کو یہ پڑھایا ہے کہ: جہاد حسن لذاته ہے، قتال حسن لغيره هے اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ جہاد ہے، نہ کہ قتال۔ دعوت کا جو کام ہم کر رہے ہیں وہ عین جہاد ہے، اگرچہ وہ قتال نہیں۔ پھر آپ کو ہمارے اوپر کیا
پچھلی ڈائری دیکھ رہا تھا۔ اس میں 2 نومبر 1979 کی تاریخ کے ساتھ حسب ذیل تحریر یہ میں نے جمعیۃ بلڈنگ (پرانی دہلی) میں لکھی تھی:
آج مولانا محمد شعیب کوٹی اور مسٹر غلام نبی شاہین کشمیری سے گفتگو ہوئی۔ یہ دونوں جماعت اسلامی کے سیاسی فکر سے اتفاق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس وقت بظاہر لوگوں کو دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم دنیا میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کا فکر غالب ہے۔ مگر بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ یہ فکر مغلوب ہو جائے گا اور الرسالہ کا فکر مسلم دنیا میں غالب فکر کی حیثیت حاصل کر لے آپ لوگوں کو آج میری یہ بات بہت عجیب معلوم ہوگی۔ مگر، ان شاء اللہ، آپ لوگ یہ دیکھنے کے لیے زندہ رہیں گے۔ اگرچہ میں شاید اس وقت مر چکا ہوں گا۔
پھر میں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا جو فکر ہے اس کے اندر صرف وقتی قدر ہے۔ وہ دائمی قدر کا حامل نہیں ہے۔ انیسویں صدی عیسوی کی دنیا میں جو سیاسی افکار اٹھے اور مسلمانوں کے اندر نو آبادیاتی غلبہ کے نتیجے میں دوسرے اسباب سے جو رد عمل پیدا ہوا، اس کے ماحول میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کا فکر بنا۔ یہ فکر مخصوص سیاسی دور کی پیدا وار ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی پیدا وار۔ انہوں نے اسلام کو سیاسی انقلاب کے روپ میں پیش کر دیا۔
اسلام کی سیاسی تعبیر بنیادی طور پر اپنے زمانے کے سیاسی حالات کا رد عمل ہے۔ اور یہ زمانہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ آج کا انسان فطرت کی زمین پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کی ساری اہمیت سیاسی حالات کی زمین پر ہے۔ آنے والا انسان جو فطرت کی زمین پر کھڑا رہنا چاہے گا، اس کے لیے فکری تسکین صرف الرسالہ کے پیغام میں ہوگی اور اس وقت کے آنے میں شاید دس سال سے زیادہ نہیں لگیں گے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مجھ پر بعض لمحاتی تجربے گزرتے ہیں۔ یہ تجربے انتہائی لطیف اور انتہائی حد تک نا قابل بیان ہوتے ہیں۔ ان کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ الفاظ صرف اصل تجربہ کی علامت ہوں گے، نہ کہ اصل تجربہ کا بیان۔ مثلاً میری سابقہ ڈائری میں 22 مارچ، 1980 کی تاریخ کے ساتھ ایک تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے:
آج میں اپنی کتاب’’عظمت قرآن‘‘ کا دیباچہ لکھ رہا تھا۔ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ
مجھے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اس کو لکھ رہا ہوں اور خدا کی خصوصی تائید اتر رہی ہے، جس کو میں سکینت کہا گ ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3614)۔
اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میرے اندر کا غم کچھ الفاظ کی صورت میں ٹپک پڑتا ہے۔ عمل بالکل بے اختیارانہ ہوتا ہے۔ یعنی میں سوچ سمجھ کر یہ الفاظ نہیں بولتا۔ بلکہ یہ الفاظ اپنے آپ ایک بے حد درد انگیز کیفیت کے ساتھ زبان پر آجاتے ہیں۔ مثلاً ایک مرتبہ یہ فقرہ میری زبان پر آگیا: ’’ لوگ جنت کا نام لیتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال بتاتے ہیں کہ انھیں جنت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ 22 فروری 1985 کا ایک لمحاتی تجربہ میری ڈائری میں ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے: ’’ آج دن میں ایک عجیب تجربہ گزرا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ہر آن ختم ہو رہا ہوں اور ہر آن دوبارہ زندہ ہو رہا ہوں۔ جیسے کہ ہر آن میں اپنے موجودہ لمحہ میں ختم ہو رہا ہوں اور ہر آن اپنے اگلے لمحہ میں دوبارہ موجود ہو رہا ہوں۔ 15 جنوری 1986 ایک بزرگ نے قرآن کی تفسیر لکھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ شعر کہا:
روز قیامت ہر کسے با خویش دارد نامه من نیز حاضرم شوم تفسیر قرآں در بغل ایک معروف عالم دین نے اپنی سیرت کی کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے:
’’... سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ (کتاب) خدا کے یہاں قبول اور مصنف کے لیے ذریعۂ مغفرت اور وسیلۂ شفاعت ہو تو وہ سمجھے گا کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اسی کو یہ کہنے کا حق ہوگا: شادم از زندگی خویش که کارے کردم میرا مزاج اس معاملے میں سراسر مختلف ہے۔ میرے ذہن میں کبھی بھی یہ خیال نہیں آتا کہ قیامت کے دن جب خدا پوچھے گا کہ تو کیا لایا یا تو میں کہہ دوں گا کہ فلاں کتاب لکھ کر لایا ہوں۔ اس قسم کی باتیں مجھے خدا کا کمتر اندازہ (underestimation) معلوم ہوتی ہے۔ سے بہت برتر ہے کہ اس کے یہاں ہم اپنی کتاب پیش کریں۔ درخت کی ایک پتی بھی انسانوں کی
لکھی ہوئی تمام کتابوں سے زیادہ عظیم ہے۔ اس طرح آخرت کی غیر فانی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ کوئی فانی عمل اس کی قیمت دلا سکے۔
میری زبان سے تو جب بھی دعا نکلتی ہے یہی نکلتی ہے کہ خدایا میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا میرے نامۂ اعمال سے میرے تمام کاموں کو حذف کردے اور صرف اپنی رحمت کو اس میں لکھ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو آدمی کو نجات دینے والی ہو۔ 16 جنوری 1986ء مولانارومی کا شعر ہے:
دین حق را چار مذہب ساختند رخنہ در دین نبی انداختند (خدا کے سچے دین کو لوگوں نے چار دین بنادیا اور اس طرح پیغمبر کے دین میں رخنہ ڈال دیا) اسی طرح کے اشعار اقبال کے یہاں بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ شعر: حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ امت روایات میں کھو گئی اسی طرح کی سخت باتوں کے باوجود مسلمان کے یہاں رومی اور اقبال بہت زیادہ مقبول اس کے مقابلے میں راقم الحروف نے اپنی کتاب ’’تجدید دین‘‘ اور بعض دوسری تحریروں میں اس طرح کی باتیں کہیں تو مسلمان بے حد خفا ہوگئے۔
اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رومی اور اقبال اس بات کو شعر کی زبان میں کہتے ہیں اور میں اس کو علمی تجزیہ کی زبان میں کہتا ہوں۔ شعر کے اسلوب میں کوئی بات ثابت نہیں شعر کے ردیف وقافیہ میں کوئی بات نہ فی الواقع غلط ثابت ہوتی ہے اور نہ صحیح۔ وہ تو صرف ردیف وقافیہ ہوتا ہے اور بس۔
اس کے برعکس، میرے تجزیاتی مضامین ان باتوں کو ثابت شدہ حقیقت بنا رہے ہیں۔ صحیح صحیح ہوجاتا ہے اور غلط غلط۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کو پڑھ کر ناراض ہوجاتے ہیں۔ رومی اور اقبال کے اشعار کو گنگنانے سے ان کے عقیدے متزلزل نہیں ہوتے۔ جبکہ میرے مضامین پڑھ کر ان کو محسوس ہوتا
ہے کہ ان کے روایتی عقیدے کی دیوار منہدم ہورہی ہیں۔ حتیٰ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں رومی اور اقبال پسند کیے جاتے ہیں اور ٹھیک اسی قسم کی بات میں کہتا ہوں تو مجھ سے ناراض جاتے ہیں۔ "دورِ جدید میں مسلمان سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پٹرول ڈالر کی طاقت ظاہر نہ ہوئی ہوتی تو آج مسلمان ایک قسم کے بین الاقوامی اچھوت بن چکے ہوتے۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری لیڈروں پر ہے۔ 19 ویں صدی عیسوی میں جب مغربی اقوام نے مسلم قوتوں پر غلبہ حاصل کیا تو مسلمانوں نے اس اعتبار سے کچھ بھی نہ سوچا کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جس سے مسلح ہو کر مغرب کی قومیں دنیا پر چھا گئی ہیں۔ مسلم لیڈر نفرت اور منفی رد عمل کے سوا اس وقت کسی اور چیز کا ثبوت نہ دے سکے۔
اس زمانے میں ایسے شعرا اور خطبا پیدا ہوئے جن کی مقبولیت کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اسی میں ایک مثال اکبر الہ آبادی (1921-1846ء) ان کے اشعار کی کثیر تعداد ایسی ہے، جو مغرب سے نفرت اور استہزا پر مبنی ہے۔ انہوں نے مغرب کی انتہائی مفید چیزوں کا بھی مذاق اڑایا۔ مثلاً ان کا ایک شعر ہے: حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پانی پینا پڑا ہے پائپ کا اسی طرح ان کا ایک شعر ہے:
بچوں کے کبھی قتل سے بد نام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی اسی قسم کی منفی باتیں جنھوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے دو سو سال دور کر دیا۔ کی ہر چیز کو نفرت کی نظر سے دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ جاگے تو اس وقت جاگے جب کہ دنیا ان سے بہت آگے جا چکی تھی۔ ایک فارسی شاعر کے الفاظ میں میں ایک لمحہ کے لیے غافل ہوا اور راہ سے سو سال دور ہو گیا: