Al-Risala · May 2022

یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دور شد

Al-Risala, May 2022, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا کا ایک فطری قانون یہ ہے کہ یہاں ابتدائی تیاریوں کے بغیر آگے کا کام نہیں کیا ابتدائی تیاری کی حقیقت کو نوبل انعام یافتہ مشہور انگریز ادیب اور مفکر جارج برنارڈشا (وفات 1950ء) کے قول سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس نے سولہویں صدی کے انگریزی مصنف اور شاعر ولیم شیکسپیئر سے اپنا مقابلہ کرتے ہوئے کہا ہے — میرا قد شیکسپیئر سے بہت چھوٹا ہے، مگر میں اس کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں:

"He was much taller than me, but I stand on his shoulders."

(George Bernard Shaw, by Gilbert K. Chesterton, 1909 Edition)

برنارڈشا،ولیم ولیم شیکسپیئر (وفات 1616ء) کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد 1856ء میں پیدا ہوا۔ شیکسپیئر نے اپنے زمانہ میں انگریزی زبان کو جہاں پایا تھا، اس پر اس نے اپنی کوششوں سے مزید حتیٰ کہ اس کو ترقی کے ایک نئے مرحلہ میں پہنچادیا۔ شیکسپیئر کے بعد سیکڑوں اہل قلم پیدا ہوئے جو اس کو مزید آگے بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ انگریزی زبان اس اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ تک پہنچ گئی جہاں سے برنارڈشا کو موقع ملا کہ وہ اپنی قلمی سفر کا آغاز کر سکے۔

اگر پچھلے لوگوں نےبرنارڈشا کے لیے آغاز فراہم نہ کیا ہوتا تو برنارڈ شاہ کے لیے ناممکن تھا کہ وہ ادبی ترقی کے اس بلند مقام پر پہنچے جہاں وہ اپنی کوششوں سے پہنچا۔ یہی فطری اصول زندگی کے تمام معاملات میں جاری ہے۔ جب قوم کے پچھلے لوگ ابتدائی منزلیں طے کر چکے ہوں، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ قوم کے بعد کے لوگ آگے کی منزلوں پر اپنا سفر جاری کریں۔

اگر پچھلے لوگوں نے اپنے حصہ کا کام نہ کیا ہو تو بعد والوں کو سب سے پہلے ابتدائی تیاری کا کام کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ قانون فطرت کے مطابق، سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے آپ کو آغاز کرنا ہے، نہ کہ وہاں سے جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ جس مکان کی زمینی بنیادیں اور دیواریں ابھی تیار نہ ہوئی ہوں اس مکان کی چھت اور اوپری منزلیں کس چیز کے اوپر کھڑی کی جائیں گی۔

اسلام کا فکری انقلاب دیگر ادیان پر آج بھی غالب ہے مسلمان تصادم اور ٹکراؤ کا راستہ ترک کردیں: مولانا وحیدالدین خاں بمبئی، 10 نومبر (جاوید جمال الدین)۔ اسلامی اسکالر اور ماہنامہ "الرسالہ" دہلی کے مدیر اعلیٰ مولانا وحیدالدین خاں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تصادم اور ٹکراؤ کے طریقے کو ترک کردیں اور شرانگیزی کی جانب توجہ نہ دیں۔ مولانا آج (10 نومبر کو) جنوبی بمبئی میں واقع پائیل ہال میں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت منعقد کیے گئے ایک جلسے میں "حضرت محمد: پیغمبر انقلاب" کے موضوع پر خطاب کررہے تھے۔ (تقریر کی چند باتیں درج ذیل ہیں):

نیا مسئلہ: انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی عبادت گاہ کے سامنے سے کسی دوسرے فرقے کا جلوس گزرتا ہے اور جلوس میں مشتعل انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں تو اس وقت اشتعال نہ ہوں اور ایسی باتوں کو نظر انداز کردیں۔ کیوں کہ ٹکراؤ سے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔ کامیاب انقلاب: حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق مولانا نے کہا کہ آپ نے جو فکری انقلاب پیدا کیا وہ تمام ادیان پر غالب ہوگیا اور آج بھی اس کا غلبہ ہے۔ اس کے برخلاف دنیا میں جتنے بھی سیاسی انقلاب برپا ہوئے سب کے سب ناکام ہوئے۔

توحید کی تعلیم: مولانا موصوف نے کہا کہ حضرت محمد نے تمام پیغمبروں کی طرح توحید کی تعلیم دی اور مشرکین کو بتایا کہ تم جن چیزوں کی عبادت کرتے ہو وہ بذات خود مخلوق ہیں۔ محمد اور تاریخ: اپنی تقریر کے دوران مولانا نے ایک شخص کا ذکر کیا، جس نے ایک عرصہ قبل گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اگر محمد کو تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی ۔ اور مولانا نے اس کے جواب میں برملا کہا تھا" وہی کمی رہ جائے گی جو محمد سے پہلے موجود تھی۔ مستقبل روشن: مولانا کے مطابق، ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل کافی روشن ہے، بشرطیکہ وہ جذباتی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے مثبت تعمیری سوچ اپنائیں۔

(روزنامہ انقلاب، 11 نومبر 1991)

Printed page