Al-Risala · September 2022

صبر و شکر

Al-Risala, September 2022, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

اکتوبر 1988 میں میرا کابل کے لیے ایک سفر ہوا۔ میں نظام الدین ویسٹ نئی دہلی اپنے آفس سے ایر پورٹ کے لیے روانہ ہوا تو سڑک کے دونوں طرف سرسبز درختوں کی قطاریں مسلسل چلی جارہی اس کو دیکھ کر مجھے شارجہ کا ایک صحرائی منظر یاد آیا۔ 1984 کے شارجہ کے سفر میں الشیخ علی الحویتی (قاضی شارجہ) مجھے اپنے رہائشی مکان پر لے گئے تھے جو شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع یہ سفر پورا کا پورا صحرا کے رتیلے میدان میں طے ہوا تھا۔ دہلی کا سفر سرسبز ماحول میں تھا تو شارجہ کا یہ سفر صحرائی ماحول میں۔ اس دنیا میں ’’درخت‘‘ اس لیے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر شکر کرے، اور ’’صحرا‘‘ اس لیے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر صبر کرنا سیکھے۔ آدمی دونوں قسم کی چیزوں کو دیکھتا ہے مگر وہ ان سے نہ شکر کا سبق لیتا ہے اور نہ صبر کا۔

مومن انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ صحابی رسول صہیب رومی (وفات 38ھ) کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے۔ اور ایسا مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اس کو آرام ملتا ہے تو (وہ اللہ کی حمد کرتا ہے، اور) شکر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ اور اگر اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ (اللہ کی حمد کرتا ہے، اور) صبر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے: عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ ( وفي رواية لاحمد: حَمِدَ رَبَّهُ وَ ) شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ، ( و فى رواية لاحمد: وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَ ) صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2999؛ مسند احمد، حدیث نمبر 1487)۔ The affair of the believer is truly strange. Every situation proves good for him and this is special to a believer alone. If he finds himself in a pleasant situation, he is thankful to God, and that is good for him. If he is faced with unpleasant situation he keeps patience and again that is good for him.

اللہ کی حمد وہی کر سکتا ہے جو منفی نفسیات سے خالی ہو۔ مومن کے ساتھ دوطرفہ خیر کا یہ معاملہ کسی پراسرار سبب سے نہیں ہوتا، وہ مکمل طور پر ایک معلوم سبب کے تحت پیش آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مومن اس انسان کا نام ہے جس کو دریافت کی سطح تک خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ کے اندر ایک ذہنی انقلاب آ جاتا ہے۔ اس کے اندر شعوری بیداری کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس قابل ہو جاتا ہے کہ معاملات اور تجربات کو حقیقت کی نظر سے دیکھے۔ وہ وقتی جذبات سے بلند ہو کر معاملہ کی گہرائی کو سمجھ سکے۔

مومن اپنی اس حقیقت شناسی کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ جس تجربہ سے بھی گزرے وہ اس کو مثبت نتیجہ میں تبدیل کر سکے۔ وہ ہر واقعہ میں خدا کی کارفرمائی کو دیکھے۔ وہ ذاتی تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکے۔ مومن کی یہی وہ صفات ہیں جو اس کے اندر یہ بامعنی صلاحیت پیدا کر دیتی ہیں کہ اس کو جب خوشی اور راحت کا تجربہ ہو تو وہ سرکش نہ بن جائے۔ وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ اسی اعترافِ خداوندی کا نام شکر ہے۔ شکر بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے۔ تاہم دنیا کی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ خوش گوار تجربے نہیں ہوتے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ناخوش گوار تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس وقت مومن کی شعوری بیداری اس کو اس سے بچا لیتی ہے کہ وہ اس پر شکایت یا فریاد کرنے لگے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق سمجھتا وہ ناخوش گوار تجربہ کو ایک فطری عمل سمجھ کر اس سے یہ یقین حاصل کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی چیز حالات یقیناً بدلیں گے اور وہ جلدہی مجھ کو زیادہ بہتر زندگی عطا کریں گے، خواہ آج کی دنیا میں یا آج کے بعد بننے والی دوسری ابدی دنیا میں۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔ ناخوش گوار صورت حال کورضامندی کے ساتھ قبول کرنا اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں دے سکتا۔

Printed page