سب کچھ خدا کا عطیہ
Al-Risala, September 2022, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
1938 میں عرب میں پٹرولیم کی دریافت ہوئی۔ اس کے بعد عربوں کی زندگی کا نقشہ بدل گیا۔ ایک عرب بدو کا واقعہ ہے، وہ پہلے معمولی خیمے میں رہتا تھا۔ اُس کی زندگی کا انحصار تمام تر اونٹ کے اوپر تھا، پھر اچانک اٗس کے پاس پٹرول کی دولت آ گئی۔ اس کے ایک دوست نے اس کے لیے سوئٹزرلینڈ میں جدید طرز کا ایک شان دار مکان خریدا۔ عرب بدو ہوائی جہاز سے سفر کر کے وہاں پہنچا اور اپنے خوب صورت مکان کو دیکھا تو اس کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ اُسی کا مکان ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔
وہ اپنے مکان کی دیوار اور اس کے فرنیچر کو ہاتھ سے چھو کر دیکھتا تھا کہ وہ سچ مچ اپنے مکان میں ہے، یا وہ خواب میں کوئی تصوراتی محل دیکھ رہا ہے۔ بہت دیر کے بعد جب اس کو یقین ہوا کہ یہ ایک حقیقی مکان ہے اور وہ اٗسی کا اپنا مکان ہے تو وہ خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ سجدے میں گر پڑا اور دیر تک اِسی حالت میں پڑا رہا۔
یہ کیفیت جو ایک عرب بدو کے اوپر گزری، یہی کیفیت ہر انسان کے اوپر بہت زیادہ بڑے پیمانے پر گزرنا چاہیے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا کی صورت میں ہر انسان کو وہی چیز ملی ہوئی ہے، جو عرب بدو کو سوئٹزرلینڈ کے مکان کی صورت میں ملی۔ سوئٹزرلینڈ کا مکان عرب بدو کے لیے جتنا عجیب تھا، اس سے بے شمار گنا زیادہ عجیب موجودہ کائنات ہے جو کوئی قیمت ادا کیے بغیر ہر انسان کو ہر لمحہ ملی ہوئی ہر انسان کا کیس مزید اضافے کے ساتھ وہی ہے۔ جو مذکورہ عرب بدو کا کیس تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان، کامل طور پر عاجز اور محروم انسان ہے۔ اس فطری حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو (35:15)۔ پھر اس کو موجودہ دنیا کی صورت میں سب کچھ دے دیا جاتا ہے۔ فطرت اپنے تمام خزانوں کے ساتھ تاحیات اس کی خدمت گزار بن جاتی ہے۔ انسان کا پیدا ہونا ایک حیرت ناک عجوبہ ہے۔ انسان اگر اپنے بارے میں سوچے تو وہ ایک ایک چیز پر دہشت زدہ ہو کر رہ جائے گا۔ ایک ایسا انسان جو زندگی رکھتا ہے، جس کے اندر دیکھنے اور
سننے کی صلاحیت ہے، جو سوچتا ہے اور چلتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے اور اس کو اپنے حسب منشا عمل میں یہ سب اتنی زیادہ صفات ہیں جو انسان کو اپنے آپ بلا قیمت ملی ہوئی ہیں۔ اس پر سوچے تو وہ شکر کے احساس میں ڈوب جائے۔
پھر یہ دنیا جس کے اندر انسان رہتا ہے، وہ حیرت ناک حد تک ایک موافق انسان دنیا ہے۔ زمین جیسا گرہ ساری وسیع کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔ یہاں پانی ہے، یہاں سبزہ ہے، یہاں ہوا ہے، یہاں دھوپ ہے، یہاں کھانے کا سامان ہے اور دوسری ان گنت چیزیں خالق کے یک طرفہ عطیے کے طور پر موجود ہیں۔ یہ چیزیں زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔
اگر آدمی اس حقیقت کو سوچے تو وہ مذکورہ عرب بدو کی طرح، شکر کے احساس سے، سجدے میں گر پڑے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان دنیا کی چیزوں کو فار گرانٹڈ (for granted) طور پر لیے رہتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہے، اُس کو ہونا جو کچھ اُس کو ملا ہوا ہے، وہ اُس کو ملنا ہی چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اپنے شعور کو زندہ کرے۔ وہ بار بار سوچ کر اس حقیقت کو سمجھے کہ وہ سرتا پا ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ مکمل طور پر خدا کے دینے سے ملا خدا اگر نہ دے تو اُس کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ جو چیزیں انسان کو بظاہر اپنے آپ مل رہی ہیں، اُن کو وہ اس طرح لے، جیسے کہ وہ ہر وقت براہ راست خدا کی طرف سے بھیجی جارہی ہیں۔ وہ ملی ہوئی چیزوں کو دی ہوئی چیزوں کے طور پر در یافت کرے۔
خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ بظاہر اسباب کے تحت ملنے والے سامان حیات کو بلا اسباب خدا کی طرف سے ملا ہوا سمجھے، وہ معمول (usual) کو خلاف معمول (unusual) کے طور پر دیکھ سکے، وہ غیب کو شہود کے درجے میں دریافت کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں خدا کا دیدار نصیب ہوگا اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے پڑوس میں بنائی جانے والی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔