Al-Risala · September 2022

شکر کا احساس

Al-Risala, September 2022, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کر لپ سروس کے طور پر الحمد للہ کہیں تو یہ حیوانی درجے کا کیوں کہ یہ مشاہدہ اور ذائقہ پر مبنی ہے، اور مشاہدہ اور ذائقہ کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔

اعلیٰ درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آ جائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں۔ خدا نے ایک برتر عمل (process) کے ذریعے ایک عظیم واقعہ برپا کیا۔ وہ تھا غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرنا۔ اس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میں آئیں۔ پھر آپ یہ سوچیں کہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی (energy) کا ذریعہ نہیں ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اُس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظام ہضم (digestive system) رکھ دیا۔ یہ نظام ہضم ایک خودکار نظام ہے۔ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظام ہضم ان غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طور پر زندہ خلیات(living (living cells) میں تبدیل کر دیتا ہے، پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا گہرا احساس پیدا ہوگا، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ خود کو عاجز پائیں گے۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا۔ اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے تو آپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبہ شکر درکار ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہے: وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (34:13)۔ انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا شکر ہے۔ صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

Printed page