Al-Risala · September 2022

اعلیٰ شکر

Al-Risala, September 2022, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے (الاعراف، 17)۔ ہدایت اور گمراہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے ۔ ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔ اس کے مقابلے میں، گمراہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہو جائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے، لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکرِ خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اسی لیے حدیث میں اس فتنے کو دجّال یا دجّالیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خدا کی نعمتوں کے اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا۔ پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ انعام پر مُنعم کا اعتراف کرنا، ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ لیکن اعتراف کے لیے ہمیشہ کسی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جب آپ کھانے کی کوئی چیز کھاتے ہیں، تو آپ کو فوڈ آئٹم کی صورت میں شکر، یا اعتراف کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس مل جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ چیز کھانے کے لیے عطا کی۔

لیکن ایک شخص جو جدید علم نباتات (Botany) اور جدید علمِ زراعت (Agriculture) اور جدید علمِ باغبانی (Horticulture) سے واقف ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ کسی فوڈ آئٹم کی معنویت کو ہزاروں گنا زیادہ اہمیت کے ساتھ دریافت کر سکے۔ اس طرح اس کا احساس شکر، عام انسان کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ جب وہ کہے گا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے کھانے کے لیے یہ فوڈ آئٹم دیا، تو وہ ایک عظیم اہتزاز (super thrill) کے جذبے کے تحت، وہ الفاظ بولے گا جس کا تجربہ پہلے کسی انسان کو نہیں ہو سکتا تھا۔ پہلا شخص جس حقیقت کو صرف ذائقہ لسانی کی سطح پر جانے گا، دوسرا شخص اس کو وسیع تر علم سائنس کی سطح پر دریافت کرے گا۔ پہلے شخص کا اعتراف اگر ایک سادہ اعتراف ہوگا، تو دوسرے شخص کا اعتراف ایک ہمالیائی اعتراف بن جائے گا۔

Printed page