شکر سب سے بڑی عبادت
Al-Risala, September 2022, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ مثلاً صحیح البخاری (حدیث نمبر 6490)، صحیح مسلم (حدیث نمبر 2963) جامع الترمذی (حدیث نمبر 2513)، سنن ابن ماجه (حدیث نمبر 4142)، وغیرہ۔ مسند احمد (حدیث نمبر 10246) کے الفاظ یہ ہیں: اُنْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ - قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ - یعنی، تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور تم اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے، کیوں کہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہیں سمجھو گے۔
اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے ۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَصَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ، وَ نَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ، كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ نَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، لَنْ يَكْتُبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا (مسند الشاميين للطبرانی، حدیث نمبر 505)۔ یعنی، دو صفتیں ہیں جو کسی کے اندر ہوں تو اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ جو اپنے دین کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے، اور دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکر ادا کرے، اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے ۔ اور جو اپنے دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس سے بڑھ کر ہے پھر وہ اس پر افسوس کرے جو مادی برتری اللہ نے اس کے مقابل کو دی تو اللہ اس کو ہر گز شاکر و صابر نہیں لکھے گا۔ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کسی بندے سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طور پر دریافت کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا ہوا ہو ۔ اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال
میں اس کا سینہ شکر خداوندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔
مگر یہ کوئی آسان بات نہیں۔ اپنے آپ کو شکر کے جذبے سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کا شعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو۔ وہ اس کا مسلسل اہتمام کرے۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جو اس کے جذبہ شکر کو مجروح کرنے والا ہو۔ وہ سب کچھ برداشت کرلے مگر وہ اپنے جذبہ شکر کا انحطاط (erosion) کبھی برداشت نہ کرے۔ موجودہ دنیا میں فطری طور پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نابرابری قائم رہتی ہے ۔ اس بنا پر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مادی اعتبار سے کوئی اس سے کم ہے اور کوئی اس سے زیادہ ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس سے زیادہ ہے تو اس کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوگا اور اس کا جذبہ شکر دب کر رہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کو ایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ (comparison) اس سے کرے جو مادی اعتبار سے بظاہر اس سے زیادہ ہے۔ اس کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ (comparison) ان لوگوں سے کرے جو مادی اعتبار سے اس سے کم ہیں۔ اس کا جذبہ شکر زندہ رہے گا۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہو سکے گا۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تمام لوگ مادی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ زیادہ ہوتا ہے اور کوئی کم، کوئی پیچھے ہوتا ہے اور کوئی آگے ، کوئی طاقت ور ہوتا ہے اور کوئی کمزور ۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے، مگر وہ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کو زندہ رکھے ۔ وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھر بھی اس کے شکر کے جذبہ میں کوئی کمی نہ آئے۔ وہ بے اعترافی کی صورت حال سے گزرے، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچار ہو، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرزِ فکر پر قائم رکھے۔ شکر وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے سینہ کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے، حتیٰ کہ انتہائی غیر موافق صورت حال میں بھی۔