ناپ تول میں فرق کرنا
Al-Risala, July 2022, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی کچھ آیتوں میں زندگی کی ایک حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کے الفاظ یہ ہیں: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ - اَلَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ۔ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَّزَنُوہُمۡ يُخْسِرُونَ (83:1-3)۔ یعنی، خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ قرآن کی ان آیتوں میں ناپ اور تول کی مثال سے ایک سماجی برائی کی نشاندہی کی گئی قرآن میں اس کو تطفیف کے لفظ میں بتایا گیا ہے۔ اس میں اس کردار کا ذکر ہے جس کا یہ حال ہو کہ اس کو جب اپنے لیے لینا ہو تو وہ بھر پور طور پر لے۔ اور جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ کمی کر کے دوسروں کو دے۔ یہ تفریق ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو آدمی کو تباہی کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتی۔ اس معاملے کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ مثلاً خود اپنی تعریف سننے کا حریص ہونا مگر دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنے میں بخل کرنا۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خوب ہوشیار ہونا مگر دوسروں کے مفاد کو سمجھنے کے لیے نادان بن جانا۔ معاملات میں اپنے لیے رعایت چاہنا اور دوسروں کو رعایت دینے کے لیے تیار نہ ہونا۔ اپنی ذات کے معاملہ میں حساس ہونا اور جب معاملہ دوسروں کا ہو تو بے حس بن جانا۔ اپنے لیے انصاف چاہنا اور دوسروں کے ساتھ بے انصافی پر راضی یہ تو جاننا کہ مجھے کیا پسند ہے، مگر دوسروں کی پسند اور ناپسند کے بارے میں بے خبر رہنا۔ عزت خطرہ میں ہو تو اس کو برداشت نہ کرنا مگر دوسروں کی عزت پر حملہ ہو تو اس کے بارے میں بے حس بن جانا، وغیرہ۔
اپنے اور غیر میں اس قسم کا ہر فرق تطفیف ہے۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہو وہ کبھی ترقی کے اعلی درجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس قسم کا مزاج آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش میں مستقل اور جس آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش رک جائے اس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے اعلیٰ مراحل طے کرنے سے محروم رہے اور آخر کار وہ اسی حال میں مر جائے۔