Al-Risala · July 2022

مشکل میں آسانی

Al-Risala, July 2022, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الانشراح میں موجودہ دنیا میں جاری فطرت کے ایک اٹل قانون کا بیان ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر خاتمہ ایک نئے امکان کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کا بیان یہ ہے: ”پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے“ (5-94:4)۔

قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک راز کو کھولا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی اکیلا نہیں آتا، اس کا حل بھی ساتھ آتا ہے۔ اس دنیا میں ہر ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کے ساتھ ایڈوانٹج (advantage) موجود ہے۔ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ (minus point) کے ساتھ پلس پوائنٹ شامل ہے۔ اس دنیا میں ہر نقصان کے ساتھ فائدہ کا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔ مشکلات اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی مصیبت یا برائی نہیں، مشکلات انسانی زندگی کے لیے ایک ترقیاتی کورس ہے۔ مشکلات انسانی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔ مشکلات کے درمیان انسان کو وہ سبق اور وہ تجربہ حاصل ہوتا ہے جو اس کے ذہنی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔ مشکلات انسان کے ذہن کو جگاتی ہیں۔ مشکلات انسان کو سنجیدہ بناتی ہیں۔ مشکلات انسان کو حقیقت پسند بنانے کا ذریعہ مشکلات سے گزرنے کے بعد انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو احتیاط، ضبط نفس، ڈسپلن، احساس ذمہ داری اور اعتراف کہا جاتا ہے۔ جو لوگ مشقت کے کورس سے نہ گزریں وہ سطحی انسان بن کر رہ جائیں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے اعلیٰ درجہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں کوئی حالت یکساں طور پر باقی نہ رہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر تاریکی اپنے ساتھ روشنی لے آتی ہے۔ لیے آدمی کو چاہیے کہ اس کو کوئی سٹ بیک (setback) پیش آئے تو وہ نہ گھبرائے اور نہ مایوس اگر وہ اپنے ہوش وحواس کو برقرار رکھے تو بہت جلد وہ دوبارہ اپنے حق میں ایک نیا امکان پالے وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ ترقی اور کامیابی کی منزل پر پہنچ جائے گا۔

آئیزک نیوٹن (1643-1727) کو ایپل شاک کا تجربہ پیش آیا۔ اس تجربے نے اس کو قوت کشش (gravity) کے انکشاف تک پہنچایا۔ یہ انکشاف انسانی تاریخ میں ایک عظیم دریافت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح بڑھاپا کسی انسان کے لیے ایک ایسا شاک ہے، جو اس کی پوری سوچ کو جگا دیتا ہے۔ اس سے آدمی اگر سبق سیکھے تو وہ انسان کو جنت تک پہنچادے گا۔ حدیث میں آیا ہے: طُوْبَى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ عَمَلُہُ(الزھد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 1340) ۔ اس کے لیے خوش خبری ہے، جس کی عمر لمبی ہو، اور اس کے عمل اچھے ہوں۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لیے ایک کسٹم میڈ یونیورس موجود ہے۔ انسان کے لیے آکسیجن کا انتظام ہے، جس کے بغیر اس کی زندگی محال تھی۔ اس کے لیے پانی اور غذائی اشیا فراہم ہورہی ہیں۔ اس طرح کی چیزیں زمین پر اپنے آپ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار چیزیں ہیں، جس کو انسان اپنی عقل اور تجربہ کے ذریعے دریافت کرتا ہے۔ مثلاً کمپیوٹر اور بجلی جیسی سائفنسی ایجادات۔ مثلاًسائفَن صفائی کی ایک سادہ تکنیک ہے، جو واش روم میں کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر اس کی گندگی کو پوری طرح صاف کر دیتا ہے۔ سائفن جیسی تکنیک جس کی مدد کے لیے زمین میں ایک طرف گریویٹیشنل پل کا نظام موجود ہے، اور دوسری طرف فضائی دباؤ (atmospheric pressure) ہے، جس کی وجہ سے انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ آلودگی سے پاک زندگی گزار سکے۔ Siphon: a tube used to convey liquid upwards from a reservoir and then down to a lower level of its own accord. Once the liquid has been forced into the tube, typically by suction or immersion, flow continues unaided. پیڑ پودے سے لے کر سائن (siphon) اور کمپیوٹر تک ہر چیز خالق کی اعلیٰ منصوبہ بندی کی سورج کی روشنی اور چڑیوں کا چہچہانا اور زمین پر اور سمندروں میں قسم قسم کے جاندار، وغیرہ۔ اس قسم کی ان گنت حیات بخش چیزیں اس کائنات میں ہیں، دنیا کا ہر انسان بلا استثنا ہر لمحہ جزئی یا کلی طور پر ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جدید دور میں جس سائنسی برانچ کے ذریعہ ان حقائق کی اسٹڈی کی جاتی

ہے، اس برانچ کو ایکولوجی (Ecology) کہتے ہیں۔ یعنی وہ سائنسی طریقہ مطالعہ جس میں کسی ماحول میں رہنے والے جاندار مخلوقات (بشمول انسان) اور بے جان مخلوق (پیڑ، پودے، پہاڑ وغیرہ) کے ایک دوسرے پر اثرات اور تعلقات کی تحقیق کی جاتی ہے:

Ecology, also called bioecology, bionomics, or environmental biology, study of the relationships between organisms and Ecology is the study of organisms and how they interact with the environment around them. اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ تخلیقات انسان کو اس کے خالق کی یاددہانی کراتی ہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کائناتی نشانیوں کے ذریعہ اللہ رب العالمين کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ خدا اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کی کارفرمائی کا مشاہدہ کرے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیے ایک زندہ عقیدے کا معاملہ بن جائے۔ مگر انسان ان نشانیوں کے درمیان بے خبری کی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھاہوجاتا ہے، اور پھر بڑھاپا اس کے لیے ایک شاکنگ تجربہ بن کر یاد دلاتا ہے کہ خالق کے کتنے انوکھے انعامات ہیں۔ مگر وہ اس کے ذریعے خدا کو جاننے کے معاملے میں اندھا بہرا بنا رہا۔ بعد بڑھاپا آخری وارننگ کے لیے آتا ہے۔ حدیث میں ہے:مَنْ عُمِّرَ سِتِّينَ سَنَةً، أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً، فَقَدْ عُذِرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 9251)۔ یعنی جس کو ساٹھ سال یا ستر سال کی عمر دی گئی، اس کے لیے عمر کے معاملے میں عذر پورا کر دیا گیا۔

جو خدائی نشانیوں (آیات) کے باوجود اس زمین پر بے خبر بنا رہے، اس کے بعد اس کے لیے قیامت کا دھماکہ ہے، جو انسان کو آخری طور پر جگاتا ہے۔ لیکن اس وقت انسان کا جاگنا اس کے کچھ کام نہیں آتا۔ (19 اگست 2020)

Printed page