الفاظ، الفاظ، الفاظ
Al-Risala, July 2022, pp. 18–25
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ بولتے ہیں، وہ مسلسل طور پر بولتے ہیں، ان کے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ الفاظ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں نہ کوئی تجزیہ (analysis) ہوتا ہے، نہ کوئی وزڈم (wisdom)، نہ کوئی گہری معنویت۔
یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس الفاظ کا کبھی ختم نہ ہونے والا ذخیرہ ہوتا ہے، لیکن یہ الفاظ حکمت سے خالی ہوتے ہیں۔ آپ ان کی باتوں کو گھنٹوں سنتے رہیے، لیکن ان کی باتوں میں آپ کو کوئی حکمت یا کوئی لرننگ کی بات نہیں ملے گی۔ حتیٰ کہ آپ اس سے بھی بے خبر رہیں گے کہ انھوں نے کیا ان کی باتوں میں آپ کو کوئی ٹیک اوے (takeaway) نہیں ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حافظہ (memory) ہوتا ہے، مگر ان کے پاس دانش مندی (wisdom) نہیں ہوتی۔ پاس گہرامطالعہ نہیں ہوتا۔
فارسی کا ایک مثل ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ کرے، اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو، وہ نفرت اور تعصب سے خالی ہو، وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگے۔ اس کے اندر وہ صفت موجودہ ہو، جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقّاً، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً، وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِساً عَلَيْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر مبہم (ambiguous) نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ (تفسیر الرازی، جلد 13، صفحہ 37)۔ اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔
شرح مشکوۃ المصابیح عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
ہر عمل کا ایک ظاہری نقشہ (form) ہوتا ہے۔ مگر کوئی عمل صرف اپنے نقشہ یا خارجی صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر عمل کی قیمت اس داخلی کیفیت یا اس قلبی محرک کے اعتبار سے ہوتی ہے جو عمل کے وقت آدمی کے اندر پایا جائے۔ مثلاً ہجرت یا ترک وطن اگر کسی دنیوی مقصد کے لیے ہو تو آدمی کو صرف اس کا مطلوب دنیوی مقصد حاصل ہوگا۔ اور اگر اس کی ہجرت کسی دینی مقصد، مثلاً حق کی اشاعت کے لیے ہو تو ایسی صورت میں آدمی کو حق کی اشاعت کا انعام دیا جائے گا۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے آیا، بہت سفید کپڑوں والا اور بہت سیاہ بالوں والا۔ اس کے اوپر سفر کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اور ہم میں سے کوئی شخص اس کو پہچانتا نہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملا دیے۔ دونوں ہاتھ آپ کے دونوں زانو پر رکھ دیے۔ اور کہا کہ اے محمد، مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اگر اس کی استطاعت
آنے والے آدمی نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ ہم کو اس آدمی پر تعجب ہوا کہ وہ پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ آنے والے نے کہا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا: یہ کہ تم ایمان رکھو اللہ پر اور فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور تم ایمان رکھو تقدیر پر، اس کے خیر پر اور اس کے شر پر۔ آنے والے نے کہا کہ آپ نے درست آنے والے نے کہا کہ اب مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا آنے والے نے کہا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھا جانے والا اس معاملہ میں پوچھنے والے سے زیادہ باخبر نہیں۔ آنے والے نے کہا کہ پھر اس کی نشانیوں کے بارے آپ نے فرمایا، یہ کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے۔ اور تم دیکھو کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن والے مفلس، بکریوں کو چرانے والے، عمارتوں پر فخر کر رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آنے والا چلا گیا۔ کچھ دیر وہاں ٹھہرا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے عمر، کیا تم جانتے ہو کہ یہ آنے والا کون تھا۔ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبریل تھے۔ وہ آئے تا کہ تم کو تمہارا دین سکھائیں (مسلم)۔
یہ حدیث کسی تشریح کے بغیر واضح ہے۔ اس میں احسان کی بابت جو کچھ کہا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ عبادت وہ ہے جب کہ عبادت کے ساتھ گہری معرفت شامل ہو جائے۔ اندر خدا کی موجودگی (presence) کا اتنا شدید احساس ہو گویا کہ وہ اس کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ اگر کسی کے اندر یہ اعلیٰ معرفت موجود نہ ہو تو دوسرے درجہ میں یہ ہونا چاہیے کہ اس کو بالواسطہ معرفت کا درجہ حاصل ہو۔ اگر قلبی احساس کے اعتبار سے اس کو خدا کی قربت حاصل نہیں ہے تو وہ سوچ کے اعتبار سے اس کا تصور اپنے ذہن میں قائم کرے۔
اس حدیث میں اللہ رب العالمین کی موجودگی (presence of God) کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ ایک ہے، کیفیت کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت، اور دوسرا ہے، علم کے درجے میں یہ سوچ پیدا ہونا کہ میں اگرچہ اللہ کا مشاہدہ نہیں کر سکتا، لیکن اللہ خود اپنے مقام سے مجھ کو
دیکھ رہا ہے۔ وہ مجھ سے کامل طور پر باخبر ہے۔
اسی طرح قیامت کا معاملہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اس حدیث میں قیامت کی ابتدائی نشانی بتایا وہ علامتیں اگر ظاہر ہو جائیں تو انسان کو کم سے کم یہ کرنا ہے کہ وہ قیامت کے معاملے میں چوکس ہو جائے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ قیامت کے بارے میں سوچنے لگے۔
مذکورہ حدیث (0002) کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی قدر اختلاف کے ساتھ روایت کیا اس میں ہے کہ "اور جب تم دیکھو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بہرے اور گونگے زمین کے بادشاہ ہیں۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کے بارے میں خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت (31:34) تلاوت فرمائی: بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا، باخبر ہے (متفق علیہ)۔ اس روایت میں قیامت کی پیشگی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ لوگوں کا شاندار عمارتیں بنا کر ان پر فخر کرنا اور عوام کا بادشاہ بن جانا۔ یہ دونوں نشانیاں دراصل صنعتی دور کی پیشین گوئی ہیں۔ جدید صنعتی ترقیوں کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا ہے جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جا سکتا ہے۔ اس انقلاب نے ہر ایک کے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ وہ اپنے لیے پر فخر عمارتیں کھڑی کر سکے۔ جدید انقلابات کے نتیجہ میں وہ چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ڈیمو کریسی کہا جاتا ہے۔ اس نے پہلی بار یہ کیا کہ عوام کو حاکمیت کا حق دے دیا، جبکہ اس سے پہلے وہ شاہی خاندان کا حق سمجھا جاتا تھا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے اور نماز قائم کرنا۔ اور زکاۃ ادا کرنا۔ اور حج کرنا۔ اور رمضان کے روزے رکھنا (متفق علیہ) اسلام کے پانچ ارکان جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ایک
ظاہری فارم (form) ہے۔ شہادت کی ظاہری صورت زبان سے کلمہ کے الفاظ کی ادائیگی ہے۔ طرح نماز اور زکاۃ اور حج اور روزہ کی ظاہری صورتیں ہیں جو کہ معلوم ہیں۔ اسی کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کی ایک اسپرٹ یا داخلی کیفیت ہے۔ کلمہ کی داخلی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کوشعوری دریافت کے درجہ میں اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی معرفت حاصل ہوجائے۔ اسی طرح نماز کی حقیقت عجز اور خشوع ہے۔ زکاۃ کی حقیقت دوسرے انسانوں کے حق میں نفع بخشی ہے۔ حقیقت سارے اہل ایمان کا ایک فکری مرکز سے جڑ جانا ہے۔ روزہ کی حقیقت صبر ہے۔ یہ پانچ چیزیں گویا پانچ روحانی قدریں (spiritual values) ہیں۔ انہیں پانچ خصوصیات کے مجموعے سے وہ زندگی بنتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہا جاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی 70 سے زیادہ ان میں سے اعلیٰ چیز یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ آدمی راستے کی تکلیف دہ چیز ہٹا دے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ ایک آدمی کو جب ایمان کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کی زندگی کے ہر بڑے اور چھوٹے شعبہ میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اللہ کی نسبت سے اس کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سینہ اللہ کی صفات کمال کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ انسان کے لیے اس کا خیر خواہی کا جذبہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ وہ نامعلوم راہ گیروں کی راہ کی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے لگتا ہے۔ کی حساسیت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو اور صرف اس وقت مطمئن ہو جب کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرلے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔ اور مہاجر (وطن چھوڑنے والا) وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے (البخاری)۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ ہے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مسلمانوں میں کون بہتر ہے۔ فرمایا کہ وہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں (مسلم)۔
ایک شخص جب سنجیدہ طور پر اور شعوری فیصلے کے ساتھ اسلام کو اختیار کرتا ہے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اب وہ ایک با اصول انسان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے ماتحت سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ اس سے آزاد۔ یہ تبدیلی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کا استعمال ذمہ دارانہ طور پر کرے۔ اپنی زبان سے دوسروں کو دکھ پہنچانا یا اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرنا اس کو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے کہ یہ دوسروں کے خلاف اقدام نہیں ہے بلکہ خود اپنے خلاف اقدام کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایسا ہر فعل اس کو خدا کی پکڑ کا مستحق بنا دے گا۔ ہجرت محض ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر مطلوب روش کو چھوڑ کر مطلوب روش اختیار کرنے کا نام ہے۔ ہجرت کا انعام اسی شخص کو ملے گا جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (مکمل) ایمان والا نہیں جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ میں اس کے لیے اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو جاؤں (متفق علیہ)۔ ایمان کا یہ فطری نتیجہ ہے کہ آدمی کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک عظیم نعمت ہے جو کسی آدمی کو گمراہی کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں جو اس کو جہنم کے راستوں سے ہٹا کر جنت کے راستوں پر گامزن کرتا ہے۔ ہدایت کی یہ نعمت کسی آدمی کو براہ راست آسمان سے نہیں ملتی بلکہ پیغمبر خدا کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سچا مومن یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کے پیغمبر کا اس کے اوپر عظیم ترین احسان ہے۔ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے بعد سب سے زیادہ اس کے رسول سے محبت کرے۔ اس کے سینہ میں پیغمبر خدا کی محبت کا لازوال چشمہ جاری ہو جائے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس آدمی کے اندر ہوں وہ ایمان کی لذت کو پالے گا۔ جس کے لیے اللہ اور رسول تمام دوسری چیزوں سے زیادہ محبوب جو کسی بندے سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے۔ جو کفر کی طرف دوبارہ لوٹنے کو اتنا ہی ناپسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے، جب کہ اللہ نے اس کو اس سے بچا لیا
ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اس سچائی کی معرفت ہو جائے کہ اس دنیا میں خدا کا انکار سب سے بڑی محرومی ہے، اور خدا کا اقرار سب سے بڑی طاقت۔ ایسا ایمان جب کسی انسان کو دریافت کے درجہ میں حاصل ہوتا ہے تو وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب خدا اور رسول بن جاتے ہیں ۔ اور اس کے لیے سب سے ناپسندیدہ چیز یہ ہو جاتی ہے کہ وہ دوبارہ سچائی سے محروم ہو کر اس صورت حال سے دوچار ہو جائے جس میں وہ پہلے مبتلا تھا۔ اس احساس کی خارجی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ انسانوں سے اس کی محبت اور خیر خواہی تمام تر اسی ایمانی محبت کے تابع ہو جاتی ہے۔
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھا جو اللہ کو اپنا رب بنانے پر راضی ہو گیا۔ اور اسلام کو اپنا دین بنانے پر اور محمد کو اپنا رسول بنانے پر (مسلم)۔ انسان پیدائشی طور پر سچائی کا متلاشی ہے۔ کسی انسان کی تلاش جب اس کو ایمان تک پہنچاتی ہے تو یہ واقعہ اس کے لیے سب سے بڑی طلب کو پالینے کے ہم معنی ہوتا وہ خدا کو اور خدا کے رسول کو اور خدا کے دین کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اس طرح اتار لیتا ہے جیسے کہ اس کو کوئی بے حد لذیذ چیز مل گئی ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس
کے قبضے میں میری جان ہے۔ کوئی بھی یہودی یا نصرانی جو میرے پیغام کو سنے پھر وہ مر جائے اور وہ اس پر ایمان نہ لایا ہو جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ آگ والوں میں سے ہوگا۔ پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی کے لیے نجات کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرے ۔ اب پچھلے مذاہب کی آسمانی کتابیں صرف گزری ہوئی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ خود انسانوں کے لیے خدا کے دین کا ماخذ ۔ کیوں کہ پچھلے نبیوں کی تعلیمات اب صرف محرف (distorted) صورت میں باقی ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین ہر قسم کی تحریف سے مکمل طور پر دین خداوندی کے غیر محرف ایڈیشن کی موجودگی میں اس کا محرف ایڈیشن اپنے آپ غیر معتبر ہو جاتا ہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا پھر وہ محمد پر ایمان لایا۔ اور وہ مملوک غلام جو اللہ کا حق ادا کرے اور اسی کے ساتھ اپنے آقاؤں کا بھی۔ آدمی جس کے پاس ایک باندی ہو جس سے وہ تمتع کرتا تھا پھر اس نے اس کی تربیت کی اور اچھی اور اس نے اس کی تعلیم دی اور بہتر تعلیم دی۔ پھر اس نے اس کو آزاد کیا اور اس سے نکاح کر لیا (متفق علیہ)۔
آدمی ایک کام کو جائز اور درست سمجھ کر اس میں مشغول ہو۔ تو وہ اس سے پوری طرح مانوس ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی نئی نیکی کو دریافت کرنا اور اس کو عملاً اختیار کرنا بظاہر ایک مشکل کام بن ایسی حالت میں جو آدمی اپنے مانوس دائرہ سے نکل کر ایک اور نیکی کو دریافت کرے اور اس کو اپنی زندگی میں شامل کرے اس نے گویا حق کے راستے میں دوہری منزلیں طے کیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے آدمی کے لیے دوہرا انعام مقرر کیا گیا ہے۔