نظریہ ارتقا پر شبہات
Al-Risala, January 2022, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں 2003 میں کسی قدیم انسان کا ایک تجر ڈھانچہ (fossilized ماہرین کی ایک انٹرنیشنل ٹیم نے گہرائی کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا۔ کے جو نتائج سامنے آئے ہیں، اُس سے معلوم ہوا کہ یہ ڈھانچہ 18 ہزار سال پرانا ہے۔ اس مطالعے کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (8 مارچ 2010) میں چھپا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ۔ یہ دریافت اچانک انسانی ارتقا کے بارے میں سائنسی نظریات کے خلاف ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ انسانی ارتقا کا عمل اُس سے زیادہ پیچیدہ ہے، جیسا کہ پہلے سمجھ لیا گیا تھا: Almost overnight, the find threatened to change science's understanding of human evolution. It would mean contemplating the possibility that not all the answers to human evolution lie in Africa, and that human development was more complex than thought (p. 23)
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دریافت نظریہ ارتقا کے لیے بڑا چیلنج (big challenge) نہیں، بلکہ یہ نظریہ ارتقا کی ایک بڑی تردید ہے۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی ارتقاء کا نظریہ اُس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنا کہ اس کو سمجھ لیا گیا تھا۔ اصل یہ ہے کہ انسانی زندگی کا واقعہہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ نظریہ ارتقا کے ذریعہ اس کی توجیہ ہو سکے:
Human development is complex enough to be explained by the evolution theory. حقیقت یہ ہے کہ ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی علمی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان وہ صرف اس لیے پھیل گیا کہ اُنھیں یہ نظر آیا کہ یہ اُن کے لیے ایک ورک ایبل (workable) نظریہ ہے۔ تاہم اس نظریے کا ثابت شدہ واقع ہونا، ابھی تک اہل علم کے درمیان اختلافی مسئلہ بنا ہوا ہے۔