اللہ کی مدد
Al-Risala, July 2022, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (47:7)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔
اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ ( مسند احمد، حدیث نمبر (2669)۔ یعنی اللہ کی حمایت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حمایت کرو، تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے ۔ وفى رواية: احْفَظِ اللَّهَ يُكْرِمْ مَا بِكَ (الإبانة لابن بطة، حديث نمبر (1504)۔ یعنی، اللہ کی حمایت کرو، اللہ تم کو عزت عطا کرے گا۔ اللہ کی مدد یا اللہ کی حمایت کا مطلب ہے، اللہ کے مشن کو اپنا مشن بنانا، اور اپنی جان و مال کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر خدائی مشن کی حفاظت و اشاعت کرنا۔ اصل یہ ہے کہ واقعات کو ظہور میں لانے والا خدا ہے۔ مگر وہ واقعات کو اسباب کے پردہ میں ظہور میں لاتا ہے۔ یہی معاملہ دین کا بھی اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ باطل کا زور ختم ہو اور حق کو دنیا میں استحکام حاصل ہو۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کچھ ایسے افراد درکار ہیں جو اس خدائی عمل کا انسانی پردہ (human face) بنیں۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کو یہاں خدا کی نصرت کرنا کہا گیا ہے۔ مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے دین کی مدد کے معاملے میں خدا کی مدد کی حقیقت کیا ہے۔ غالباً 1948 کا واقعہ ہے۔ اس کو میں نے اپنی کتاب قرآن کا مطلوب انسان میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ضلع اعظم گڑھ کے روواں نامی بستی کے باہر ایک باغ کے پاس کھلے میدان میں جماعت اسلامی کا ضلعی ماہانہ اجتماع ہو رہا تھا۔ ظہر کا وقت تھا۔ اذان ہو چکی تھی، ایک بڑے درخت کے نیچے فرش بچھا ہوا تھا، جہاں کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ نماز کے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک حادثہ پیش آیا۔ اجتماع کے قریب ایک بڑا سا گڑھا تھا، جس
کے عین کنارے سے راستہ گزرتا تھا۔ اس راستہ پر ایک بیل گاڑی جا رہی تھی۔ جیسے وہ گڑھے کے کنارے پہنچی، اس کا ایک پہیہ پھسل گیا، اور پوری گاڑی کروٹ ہو کر گڑھے میں اس طرح گر گئی کہ ایک پہیہ اوپر کھڑا تھا، اور دوسرا نیچے دبا ہوا تھا۔ جیسے ہی ہم میں سے کچھ لوگوں کی نظر اس پر پڑی، وہ اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑے۔ گاڑی سامان سے لدی ہوئی تھی۔ بیل بھی گاڑی میں پھنسے ہوئے تھے۔ بظاہر سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ چند لوگ اس مسئلہ کو حل کیسے کرسکیں گے۔ مگر یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا، بلکہ فی الفور اقدام کرنے کا وقت تھا۔ مدد کے لیے آنے والے فوراً بچاؤ کے کام میں لگ گئے۔ نیچے سے زور لگایا، اور کچھ نے اوپر سے پکڑ کر گاڑی کو اٹھانا شروع کیا۔ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا، جو گاڑی کو نیچے سے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ یکا یک ہم نے دیکھا کہ گاڑی اٹھا کر اوپر رکھ دی گئی ہے ۔ چند آدمی جو اس کام میں لگے تھے، ان سب کا متفقہ احساس تھا کہ گاڑی ہم نے نہیں اٹھائی، بلکہ وہ تو کسی اور نے اٹھا کر رکھ دی ہے۔ نیچے ہاتھ دینے والوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اوپر سے کوئی اس کو کھینچے چلا جارہا ہے، اور جو لوگ اوپر تھے ان کو ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا گاڑی نیچے سے اٹھتی چلی آرہی ہے۔
یہ واقعہ واضح (illustrate) کرتا ہے کہ خدا کی مدد کا مطلب کیا ہے۔ یہ میری زندگی کا ایک حقیقی تجربہ تھا۔ اس سے میں نے دریافت کیا کہ خدا کی نصرت کیسے آتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ یعنی کام کو انجام دینے والے بظاہر ہیومن فیس (human face) ہوتے ہیں، لیکن باعتبار حقیقت وہ منصوبہ أصلاً فرشتوں کے ذریعے انجام پاتا ہے کیوں کہ یہ فرشتے ہیں، جو اللہ کے حکم سے ساری دنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔ اب اگر کچھ انسان زمانی مواقع کے اعتبار سے خدا کے منصوبہ کو دریافت کریں، اور اس کے لیے جد و جہد کریں تو عین اسی وقت یہ ہوگا کہ خدا کے فرشتے خصوصی طور پر وہاں آکر اس انسان کی مدد کریں یہی مطلب ہے انسان کی جانب سے خدا کی نصرت کا، اور خدا کی جانب سے انسان کی مدد کا۔
موجودہ زمانے میں دو مختلف آئیڈیالوجی ابھری۔ سیکولر آئیڈیالوجی اور مذہبی آئیڈیالوجی۔ سیکولر آئیڈیالوجی سے مراد وہ آئیڈیالوجی ہے جو خالصتاً انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں مذہبی آئیڈیالوجی ہے، یعنی انسانی اضافوں سے پاک خدائی دین، جو پیغمبر کی رہنمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہر ہ ہے کہ سیکولر آئیڈیالوجی اب اپنی مایوسی کے آخری دور میں پہنچ رہی ہے۔ اس کے برعکس، تمام قرائن (clues) بتا رہے ہیں کہ مذہبی آئیڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
جدید مادی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کر لیا کہ بہت جلد ہمارے سیّارۂ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اس آئیڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر اس کتاب میں مصنف نے یقین کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سوویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادی خواہشیں اپنا مکمل فل فل مینٹ (fulfillment) پالیں گی۔ مگر اکیسویں صدی کا آغاز اس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ کے ساتھ وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی (pollution) نے سیارۂ زمین پر ایسے حالات پیدا کیے، جب کہ یہ دنیا انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اس خطر ناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ ناقابل تبدیلی (irreversible) ہو چکی ہے۔
یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گوئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز (18 نومبر 2007) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شایع کی تھی۔ اس رپورٹ کے عنوان کے لیے اُس نے بامعنی طور پر ان الفاظ کا انتخاب کیا تھا— قیامت اب زیادہ دور نہیں: