Doomsday not Far
Al-Risala, July 2022, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صورتِ حال ایک طرف سیکولر آئیڈیا لوجی کو منسوخ کر رہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اس معاملے میں مذہبی آئیڈیا لوجی زیادہ درست اور مبنی بر حقیقت مذہبی آئیڈیا لوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارہ زمین اس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاں انسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کر سکے ۔ یہاں کے ناقص اسبابِ یقینی طور پر کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں رکاوٹ ہیں۔
اس معاملے میں درست اور مطابق واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگر یہ چیزیں بطورِ انعام ہوتیں تو وہ اپنی ذات میں کامل ہوتیں ۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور ان چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طور پر نہیں دی گئیں ۔ یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اس دنیا کا معیاری ورژن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اِس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوں۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور سماجی رہنما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں ، مگر ساری
کوششوں کے باوجود انھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ برعکس طور پر یہ ہوا کہ ساری دنیا میں انارکی اور کرپشن اور استحصال (exploitation) اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس معاملے میں مزید اضافہ ہوا۔ حتی کہ تمام قرائن کے مطابق، اب یہ ناممکن ہوچکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔ جدید تر قیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اس کے سوا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔ یہ ضمیر کبھی ختم نہ یہ ضمیر جس طرح پہلے لوگوں کے اندر موجود تھا، اُسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً ناممکن ہوچکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف بے انصافیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue) ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے کیے کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اور انصاف کو قائم کرے۔ یہ صورتِ حال اس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومِ الحساب (Day of Judgement) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہوجائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیں ہوا تھا۔ پیغمبرانہ آئیڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں — قبل از موت دورِ حیات، اور بعد از موت دورِ حیات۔ اب یہ آخری طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اُس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے ناکافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ دنیا بلاشبہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے۔ یہ مطلوب دنیا ایک زیرِ تعمیر دنیا (world in the making) ہے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔