Al-Risala · January 2022

نینڈر تھل مین

Al-Risala, January 2022, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریہ ارتقا کے حامیوں نے بہت سے ’’قدیم انسان‘‘ دریافت کیے ہیں۔ مثلاً پلٹ ڈاؤن مین، نینڈر تھل مین (neanderthal man)، پیکنگ مین، جاوا مین وغیرہ۔ قدیم انسان کی یہ تمام صورتیں فاصل کی بنیاد پر بنائی گئی ہیں جو زمین میں کھدائی سے برآمد ہوئی ہیں۔ نظریہ ارتقا زندگی کی مختلف قسموں کے لیے جس عمل کو فرض کرتا ہے اس کے مطابق درمیانی انواع حیات (intermediate species) کا وجود بھی لازماً ہونا چاہیے۔ مگر ایسی انواع ابھی تک گم شدہ کڑیوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈارون نے تسلیم کیا تھا کہ درمیانی انواع حیات کے نمونے ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ تاہم ڈارون کے بعد قدیم فاصلز کی بنیاد پر بہت سی عجیب و غریب انسانی شکلیں بنائی اور یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی سلسلۂ حیات کی قدیم ارتقائی کڑیاں ہیں۔ انھیں میں سے ایک نینڈر تھل مین ہے جو جرمنی کی نینڈر نامی وادی کی طرف منسوب ہے۔ اس قسم کی ہڈیاں اور ڈھانچے 1856 سے 1908 تک ایشیا ، یورپ، شمالی افریقہ کے تقریباً 50 مقامات پر ملے۔ پروفیسر بول (Marcellin Boule) نے ان ٹکڑوں کا مشاہدہ کرکے ان کی جو تعبیر کی، اس کو عام طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کو ابتدائی انسانی سلسلے کی ایک کڑی مان لیا گیا— گم شدہ کڑیوں میں سے ایک کڑی معلوم کرلی گئی۔

نینڈر تھل مین کی تصویریں کتابوں میں چھپنے لگیں۔ حتیٰ کہ اس کے مجسمے بن گئے۔ مگر بعد کو علمائے حیاتیات نے جو تحقیقات کیں، اس نے بتایا کہ پروفیسر بول نے اندازہ کرنے میں کئی اہم غلطیاں کی تھیں۔ 1955 میں ولیم اسٹرابس (جانسن ہاپکنس یونیورسٹی) اور اے ۔ (لندن) نے نینڈر تھل مین کے بنائے گئے ڈھانچہ کا از سر نو جائزہ لیا۔ یہ رپورٹ مکمل طور پر کوارٹرلی ریویو میں چھپ چکی ہے:

Quarterly Review of Biology XXXIII (1957)

محققین لکھتے ہیں کہ نینڈر تھل مین کا ڈھانچہ، جو کہ 50-40 سال کی عمر کے ایک آدمی کا ڈھانچہ لگتا ہے، وہ گٹھیا کی بیماری نے آدمی کے نچلے جبڑے اور اس کی گردن اور پورے ڈھانچہ کو متاثر کیا۔ اس آدمی کے سر کا آگے کی طرف جھکاؤ جو پروفیسر بول نے نوٹ کیا تھا، وہ کم از کم جزئی طور پر، اس کی بیماری کے سبب سے تھا۔ حقیقتاً اس آدمی کا ڈھانچہ ویساہی تھا جیسا آج ایک اوسط فرانسیسی آدمی کا حتیٰ کہ جدید تحقیقات نے یہ بھی بتایا ہے کہ نینڈرتھل کے دماغ(brain) کا سائز بھی تقریباً وہی تھا جو آج ایک اوسط یورپی شخص کا ہوتا ہے۔ اس کے بال درست کر کے اور موجودہ لباس پہنا کر کھڑا کر دیا جائے تو آج کے مہذب انسان سے وہ کچھ بھی مختلف معلوم نہیں ہوگا۔ حال میں نینڈرتھل مین کے جومیڈ فالسز ملے ہیں وہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ وہ ابتدائی کڑی نہیں بلکہ آج کے ایک انسان کی نینڈرتھل انسان، لفظ انسان کے تمام مفہوم کے اعتبار سے مکمل انسان تھا۔ F. Clark Nowell, Early Man, New York, Time-Life Book, 1968, pp. 123-24 امریکاکے ایک کمپیوٹر اسپیشلسٹ مسٹر ڈیوڈ (David Coppedge) جو ناسا (NASA) میں ایک بڑی پوسٹ پر تھے، اُن کو سروس سے نکال دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ تخلیق کے بارے میں انٹیلی جنٹ ڈیزائن (intelligent design) کے تصور کو مانتے تھے۔ بی سی نیوز (12 مارچ 2012) کے مطابق، ان کا خیال تھا کہ ـــ تخلیق میں ضرور ایک بالاتر طاقت کا ہاتھ ہے کیوں کہ زندگی اتنی زیادہ پیچیدہ ہے کہ وہ تنہا ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں نہیں آسکتی: a higher power must have had a hand in creation because life is too complex to have developed through evolution alone. www.nbcnews.com/id/wbna46701591 (accessed on 03.11.21)

ایک امریکی اسکالر جان ویسٹ (John West) نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ کار ریمارک ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مشتبہ ثابت کرتا ہے، جب کہ ماڈرن طبقے کا یہ حال ہے کہ اس نے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف عملاً ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے جو ڈارون سے اختلاف کرے۔

Printed page