ڈائری 1986
Al-Risala, July 2022, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
میری ڈائری میں 2 جولائی، 1983 کی تاریخ میں ایک لمحاتی تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے: آج میں صبح کے وقت دہلی میں اپنے کمرہ کے باہر سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک میرے اوپر وہ تجربہ گزرا، جو گویا ایک حدیث قدسی کی تصدیق تھی۔
یہ قدسی حدیث الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ حدیث کی کئی کتابوں میں بیان کی گئی مثلاً صحیح البخاری، مسند احمد وغیرہ۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَأَكُونَ أَنَا سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ، وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7833)۔ بندہ برابر نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، پس میں اس کا سمع ( کان ) بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اور اس کا دل بن جاتا ہوں، جس سے وہ سمجھتا ہے۔ اس حدیث میں انہی ایمانی کیفیات کو الفاظ کی شکل میں بتایا گیا ہے جو ایک مومن بندے پر اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ایک لمحہ کے لیے میرا دیکھنا میرے لیے، بلا تشبیہ، خدا کا دیکھنا بن گیا ہے۔ مگر یہ تجربہ میرے لیے خدا کی ذات پر یقین میں اضافہ کا ذریعہ بن گیا۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں اپنے عاجز مطلق ہونے اور تیرے قادر مطلق ہونے کا اقرار کرتا ہوں اور تیری ساری صفات پر کامل یقین رکھتا ہوں۔ یہ رمضان 1403ھ کی 21 تاریخ تھی۔ اس دن شام کو میں نے افطار کرتے ہوئے ٹھنڈا شفاف پانی جب میرے حلق سے گزرا تو مجھ پر ایک عجیب لمحاتی احساس طاری ہوا۔ محسوس ہوا کہ پانی کا گھونٹ میرے لیے ہدایت میں تبدیل ہو گیا۔ پانی کا حلق سے اترنا میرے لیے ہدایت اترنے کے ہم معنی بن گیا۔ پانی اور ہدایت میرے اندر تھوڑی دیر کے لیے ایک ہو گئے۔ ایک صاحب سے ان تجربات کا ذکر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ڈاکٹر سی وی رمن
(وفات 1970ء) والا معاملہ ہے۔ نوبل انعام یافتہ سائنس داں ڈاکٹر رمن سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں کی دریافتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اکثر اتفاقاً ہوئی ہیں۔ سائنس داں تجربات کرتا رہتا ہے کہ اتفاق سے کوئی چیز سامنے آجاتی ہے اور وہ ایک نئی دریافت بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر رمن نے جواب دیا— ہاں، مگر ایسا اتفاق صرف سائنس دانوں ہی کو پیش آتا ہے: