Al-Risala · July 2022

20 جنوری 1986

Al-Risala, July 2022, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اخبار میں آزادی سے پہلے کی ایک رپورٹ پڑھی کہ 1945 میں جنرل شاہ نواز خان (1914-1983)، کرنل پریم سہگل (1992-1917)، اور کرنل گربخش سنگھ ڈھلوں (2006-1914) گرفتار ہوئے تھے۔ ان پر برطانوی راج کے خلاف بغاوت کا الزام تھا۔ اس کے بعد مقدمہ چلا جس میں وہ رہا ہو گئے۔ لال قلعہ سے رہائی کے بعد صبح سویرے وہ لاہور اسٹیشن پہنچے۔ یہ 1946 کا واقعہ اس روز لاہور اسٹیشن پر اتنی زبردست بھیڑ تھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ لاہور اسٹیشن کی طرف جانے والی تمام سڑکیں ان لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں جو سہگل، ڈھلوں اور شاہ نواز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔ جب گاڑی پلیٹ فارم پر رکی تو عوام نے نعرہ لگایا: لال قلعہ سے آئی آواز سہگل ڈھلوں شاہ نواز تینوں ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ریل کے ڈبے سے باہر آئے۔ دوسرے ہی لمحے آزاد ہند فوج کے ان جیالوں کو پھولوں کے ہاروں سے اس طرح لاد دیا گیا کہ وہ پھولوں کے تین ڈھیر دکھائی سہگل، ڈھلوں، شاہ نواز، ہندوستان میں ہندو، سکھ، مسلم اتحاد حاصل کرنے کے مضبوط ارادے کے علامت تھے۔ "ہندو مسلم سکھ اتحاد آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں جتنا با معنی لگتا تھا آج وہ اتنا ہی بے معنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے سب کا نشانہ خارجی اقتدار تھا۔ کے بعد سب کا نشانہ داخلی مخالفت بن گیا۔ جو لوگ خارجی نشانہ پر متحد تھے وہ داخلی نشانہ پر آتے ہی ایک

دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ صرف جدا نہیں ہوئے بلکہ آپس میں لڑنے لگے ۔ اس دنیا میں وہی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو انقلاب سے پہلے بھی تعمیری نشانہ دیتی ہو اور وہ انقلاب کے بعد بھی لوگوں کو تعمیری نشانہ دے ۔ ایسی تحریک صرف وہی ہو سکتی ہے جو آخرت کی بنیاد پر اٹھائی جائے ۔ 21 جنوری 1986 20 جنوری 1986 کی صبح کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 439 کے ذریعے دہلی سے حیدر آباد گیا اور 21 جنوری کی شام کو فلائٹ نمبر 539 سے واپسی ہوئی ۔ دہلی سے حیدر آباد جاتے ہوئے جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے ۔ اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ کہا ۔ کیپٹن مصطفی جہاز کے پائلٹ ہیں :

Printed page