Captain Mustafa is in command
Al-Risala, July 2022, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈین ایئر لائنز میں ، میں نے بہت سفر کیے ہیں ۔ مگر " کیپٹن مصطفی " جیسا لفظ پہلی بار سننے میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اب اس ملک کی اعلیٰ سروسوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے وہ تاریک ماضی سے نکل کر روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
جن لوگوں کے پاس مسلمانوں کے بارے میں صرف ” نکالے جانے “ کی خبریں ہیں ، انہیں ” داخل کیے جانے “ کی خبروں کا بھی اظہار کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو تصویر کا دوسرا رخ معلوم ہو سکے ۔ ہندوستان کے مسلم لیڈر ملک کے اندر اور ملک کے باہر صرف ایک ہی بات کرنا جانتے ہیں اور وہ تعصب اور امتیاز ہے ۔ وہ تصویر کے دوسرے رخ کا مطلق ذکر نہیں کرتے ۔ قرآن کے الفاظ میں یہ لوگ مطففین ہیں اور خدا کے قانون میں مطففین کے لیے ہلاکت ہے ، نہ کہ نجات ۔ اس سفر میں حیدر آباد میں ایک تجربہ گزرا جس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ تھے : اس دنیا میں آدمی کو مستقبل کی خاطر ماضی کو بھولنا پڑتا ہے ۔ یہاں آدمی کو سبھی کچھ چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ دوبارہ یہاں رکنا پڑتا ہے تاکہ از سر نو آگے بڑھنے کا راستہ کھلے ۔ یہاں دینا پڑتا ہے تاکہ دوبارہ اضافہ کے ساتھ مل سکے ۔ یہاں چپ رہنا پڑتا ہے تاکہ آدمی کو بولنے کے لیے الفاظ مل سکیں ۔ کھو کر پانے کی جگہ ہے ۔ یہاں دے کر لیا جاتا ہے ۔
اس سفر میں میرا ایک اور تاثر یہ ہے: یہ ممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر بلا استحقاق قبضہ کر لیں مگر یہ ناممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر اپنے بلا استحقاق قبضہ کو باقی رکھ سکیں۔
ایک مقام کے مسلمان نے بتایا کہ ان کے یہاں عید گاہ کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی اور اس موقع پر بستی میں شیرینی تقسیم ہونے والی تھی۔ مذکورہ مسلمان نور محمد نے اپنے ایک ہندو پڑوسی سے کہا کہ تم بھی چلو اور اپنے حصے کی شیرینی حاصل کرو۔ ہندو نے عذر کیا۔ بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم لوگ مسجد اور عید گاہ کی نیو میں گائے کی سینگ ڈالتے ہو اور اس کا بال اس کے اندر دفن ایسی حالت میں ایک ہندو کیسے وہاں جا سکتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ عید گاہ کا مطلب ہم کو بتایا گیا ہے'' عید گائے‘‘۔ یعنی جس کی بنیاد میں گائے دفن کی جائے وہ عید گاہ ہے۔ مسلمان نے بتایا کہ مسجد میں اذان ہورہی تھی۔ موذن نے کہا کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘۔ یہ سن کر ایک ہندو بولا: میاں جی، اکبر بادشاہ تو کب کا مر گیا، ابھی تک تم لوگ اسی کو پکارے جا رہے ہو۔ یہ باتیں بظاہر بہت لغو معلوم ہوتی ہیں۔ مگر اس کی ذمہ داری کم از کم 50 فیصد خود مسلمانوں پر مسلمانوں نے اسلام کا حقیقی تعارف اس ملک کی بڑی آبادی کے سامنے پیش نہیں کیا، مگر اپنی جھوٹی سیاست سے ہزاروں انسان کے دلوں میں نفرت پیدا کی۔ اسی کی وجہ سے ان کے درمیان ایسے قصے مشہور ہوئے۔ جب دو قوموں میں نفرت ہو تو اسی طرح جھوٹی باتیں ایک دوسرے کے خلاف پنپنے لگتی ہیں۔
1947 سے پہلے کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔ ایک کانگریسی مسلمان نے ایک مضمون شائع یہ مضمون اصلاً ادب کے موضوع پر تھا۔ مگر اس میں ضمناً انگریزی تہذیب کا بھی مذاق اُڑایا گیا مضمون نگار نے لکھا تھا کہ انگریزی زبان ایسی بری زبان ہے کہ اس میں جا کر سیدھے الفاظ بھی بگڑ جاتے ہیں۔ مثلاً الہ آباد انگریزوں کی زبان میں آل بیڈ (Allahbad) بن جاتا ہے اور لالہ ان کی زبان میں پاپی(Poppy) (Poppy) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
دوسروں کے بوائق (شر) سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ اپنے بوائق سے دوسروں کو محفوظ رکھا جائے۔ اس معاملہ میں شکایت اور احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی واحد سب سے بڑی وجہ ان کا جھوٹا فخر ہے۔ زمانہ میں مسلمان دوسروں سے پیچھے ہو گئے ۔ وہ دورِ جدید میں ترقی کی بنیاد کھو بیٹھے۔ مگر شاعروں اور خطیبوں نے انہیںں جھوٹے فخر کی غذا دے کر مدہوشی میں مبتلا کر دیا۔ ظفر علی خان نے مولانا حالی کے خلاف بہت سی نظمیں لکھی تھیں۔ ایک بار انہوں نے لکھا :
ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدانِ پانی پت کی طرح پائمال ہے حالی چونکہ پانی پت کے رہنے والے تھے اسی لیے ردیف و قافیہ ملا کر ان کے خلاف ایک شعر تیار ہو گیا۔ انہی ظفر علی خاں کا ایک شعر ہے :
چلے ہم لکھنؤ سے بارہ بنکی مسلمان سیر ہیں ہندو چھٹنکی حقیقت کے اعتبار سے معاملہ اس شعر کے بالکل برعکس ہے۔ مگر بارہ بنکی اور چھٹنکی ( چھٹانک بھر، معمولی، حقیر) کا قافیہ شاعر کے لیے کافی ہو گیا کہ وہ حقیقتِ واقعہ کے خلاف ایک بات ثابت کر کے لوگوں سے خراجِ تحسین حاصل کر سکے۔