24 جنوری 1986
Al-Risala, July 2022, pp. 39–40
By Maulana Wahiduddin Khan
برادرم جناب محسن عثمانی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک صاحب کا تاثر بیان یہ تاثر انہی کے الفاظ میں یہ تھا ــ دوسرے علما کی تحریروں سے اسلاف پر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وحید الدین خاں کی تحریروں سے اسلاف پر بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے“۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہیے ۔ بلکہ اس طرح کہیے ــ دوسرے علما کی تحریریں اسلاف تک پہنچا کر چھوڑ دیتی ہیں اور وحید الدین کی تحریریں آدمی کو آگے خدا تک لے جاتی ہیں“۔ دورِ زوال میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ قومیں خدا سے کٹ کر اپنے افراد پر اٹک جاتی ہیں۔ اپنے بزرگوں میں جینے لگتی ہیں ۔ بزرگوں کا تذکرہ، بزرگوں کی عظمت سے فخر کا جذبہ لینا، بزرگوں کی کہی ہوئی باتوں سے وابستہ ہو جانا، یہی بعد کے لوگوں کا دین ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب ان کے سامنے براہِ راست خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے اور ان کو براہِ راست قرآن و سنت کی طرف بلایا جاتا
ہے تو ایسے لوگ اس قسم کی باتوں سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ ایسا دین ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں اپنی تحریروں میں اپنی ذات کی طرف نہیں بلاتا بلکہ خدا کی طرف پھر لوگوں کو کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ اس میں کوئی غلطی ہے۔ کیا خدا کی طرف بلانا بھی ایسی چیز ہے جس میں کوئی غلطی ہو؟