Al-Risala · November 2022

کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے

Al-Risala, November 2022, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ العصر میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو حقیقی تعمیر کے لیے ٹائم مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔ مینجمنٹ کے بغیر کسی کے لیے حقیقی ترقی کو پانا ممکن نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود کوشش کرنا ہے، خواہ وہ دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ انسان کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔ سورہ العصر کا ترجمہ یہ ہے: زمانہ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ قرآن کی اس سورہ میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کے بارے میں انسان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ سورہ العصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے، لوگو، اس شخص پر رحم کرو، جس کا اثاثہ گھل رہا ہے (ارْحَمُوا مَنْ يَذُوبُ رَأْسُ مَالِهِ)۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ اگر اپنی مہلت عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے (تفسیر کبیر امام رازی، جلد 32، ص 278)۔

انسان ہر لمحہ زندگی سے موت کی طرف جا رہا ہے۔ ہر لمحہ انسان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے۔ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس قانون کو دوبارہ الٹی طرف چلایا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی مقرر عمر اگر 80 سال ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو ہرنیا دن، آنے والا سال اس کی عمر میں کمی کا اعلان ہے۔ گویا کہ اس کی عمر کا سفر اس طرح ہورہا ہے: اسی کاؤنٹ ڈاؤن (الٹی گنتی) کو قرآن کی مذکورہ سورہ میں خسران کہا گیا ہے۔ یعنی عمر برف کی طرح پگھلتی جارہی ہے۔ انسان اگر اپنی عمر کومذکورہ چار قسم کے عمل کے لیے استعمال نہ کرے تو وہ ابدی گھاٹے میں ہے۔

Printed page