Al-Risala · November 2022

اہلِ کتاب سے استفادہ

Al-Risala, November 2022, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کورسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ مفسرین نے اہل الذکر سے اہل کتاب مراد لیے ہیں، یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھنے والے ہیں۔ مگر تو سیعی معنی کے اعتبار سے اس سے مراد موجودہ زمانے کے جدید تعلیم یافتہ یہودی اور مسیحی علما ہیں۔ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ اہل کتاب وہ باتیں جانیں گے، جن سے مسلم علما زیادہ باخبر نہ ہوں گے، اور ان کے لیے موقع ہوگا کہ وہ اہل کتاب کی جدید تحقیقات سے اپنے دینی علم میں اضافہ کریں۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں یہوداور مسیحی قوموں کے لیے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وہ اپنے قدیم وطن سے نکل کرڈ آئسپورا (diaspora) میں چلے گئے۔ پھر ان کو موقع ملا کہ وہ مغرب کے جدید علوم کو سیکھیں۔ جدید علوم سے باخبر ہونے کی بنا پر انھوں نے سائنسی دریافتوں کو جانا، اور ان کو اپنی مذہبی کتابوں کی شرح کے لیے استعمال کیا۔ مگر مسلم اہل علم اس سے بے خبر ہے۔ مثلاً جدید سائنسی دریافت کے نتیجے میں بالواسطہ انداز میں خدائی حقیقتیں قابل فہم ہوگئیں۔ دریافتیں نیوٹرل انداز میں تھیں ۔ چنانچہ یہودی علما اور عیسائی علما نے انطباقی انداز میں خدا کے وجود پر بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالات لکھیں ۔ ان میں سے ایک کتاب یہ ہے:

The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare Their Affirmative Views on Religion (John Clover Monsma, G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250)

خدا کی سائنسی شہادت پر یہ کتاب یہودی اور عیسائی اہل علم کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اسی طرح علم الانسان (Anthropology) اور علم الآثار (Archaeology)، وغیرہ جدید ان کے ذریعے جدید سائنسی اصول کی روشنی میں انسان کی قدیم تہذیب اور تاریخ، وغیرہ کا

مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان ڈسپلنز کی روشنی میں یہودی اور عیسائی علما نے وہ تاریخی حقائق دریافت کیے ہیں، جو بائبل اور قرآن کے مشترک موضوعات تھے۔ مثلاً پیغمبر ابراہیم کا بیان، پیغمبر موسیٰ اور فرعون کا واقعہ، حضرت مسیح کی زندگی، یہاں تک کہ قرآن کے تاریخی استناد(historicity) پر بھی انھوں نے تحقیق کی، وغیرہ۔ ان تحقیقات کے ذریعے یہودی اور عیسائی علما نے مذہبی شخصیات اور واقعات کے تاریخی استناد کو ثابت کرنے کا کام کیا ہے۔ ان یہودی اور مسیحی علما کی سائنسی تحقیقات کی بنا پر اب مذہبی تاریخ دیگر تاریخی حقیقتوں کی طرح ثابت شدہ حقیقتیں بن چکی ہیں۔

بائبل اور قرآن میں بنیادی موضوع مشترک ہیں، مثلاً خدا کا وجود اور انبیاء کے حالات، اس بنا پر اہل کتاب کی یہ تحقیقات بالقوہ طور پر (potentially) اسلام کی تائید کا کام ہیں۔ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پوٹینشل کو ایکچول بنائیں تا کہ اسلام کی صداقت جدید علمی معیار پر ثابت شدہ حقیقت بن کر انسانوں کے سامنے آسکے۔ فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (وفات 1998ء) کی کتاب "بائبل، قرآن اور سائنس" اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔ اس کے انگریزی ترجمے کا ٹائٹل یہ ہے : The Bible, The Quran and Science by Dr. Maurice Bucaille چوں کہ جدید علوم سے بے خبری کی بنا پر مسلم اہل علم اس میدان میں پیچھے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ یہودی اور کرسٹچن علما کی دریافتوں سے اسی طرح استفادہ کریں جس طرح وہ کوئی دوسرا دینی علم حاصل کرتے ہیں۔ تاکہ خدا کا دین وقت کے مسلمہ علمی معیار پر مدلل ہوکر انسانوں کے مائنڈ کو ایڈریس (address) کرے۔

Printed page