Al-Risala · January 2022

پلٹ ڈاؤن مین

Al-Risala, January 2022, pp. 28–33

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریہ ارتقا کا دعویٰ ہے کہ انسان اور حیوان دونوں ایک ہی نسل سے ہیں۔ حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نوع ہے، نہ کہ کوئی علاحدہ نوع۔ اس دعویٰ کے سلسلے میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ ہے تو بیچ کی وہ انواع کہاں ہیں جو مفروضہ ارتقائی عمل کے مطابق ابھی موجودہ انسان کے مقام تک نہیں پہنچی تھیں۔ وہ ابھی حیوان اور انسان کے درمیان تدریجی ارتقا کے مراحل طے کر رہی تھیں۔

اس نظریہ کے حامیوں کے پاس اس کے جواب میں قیاس و گمان کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ ڈارون نے اپنی کتاب میں بار بار ہم بخوبی قیاس کر سکتے ہیں (We may well suppose)“ کا جملہ استعمال کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یقینا ایسا ہوا ہے، اگرچہ ابھی ہمیں اس کے تمام نمونے حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ اس فرضی یقین کی بنیاد پر ایک پورا شجرۂ نسب تیار کر لیا گیا ہے جو انسان کی نسل کو بندر کی نسل تک جا ملاتا ہے۔ بندر اور انسان کے درمیان کی یہ کڑیاں تمام کی تمام مفروضہ کڑیاں ہیں مگر بالکل غلط طور پر ان کو گم شدہ کڑیاں (missing links) کہا جاتا ہے۔

ان خیالی قسم کی گم شدہ کڑیوں کی تلاش پچھلے ایک سوسال سے جاری ہے۔ بار بار دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلاں گم شدہ کڑی ہاتھ آ گئی ہے۔ انھیں میں سے ایک کڑی وہ ہے جس کو پلٹ ڈاؤن مین (Piltdown Man) کہا جاتا ہے۔

پلٹ ڈاؤن مین کو تقریباً آدھی صدی تک ”عظیم دریافت“ کہا جاتا رہا۔ یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہ ماقبل تاریخ کا وہ انسان ہے جو ایک طرف انسانی اوصاف کا حامل تھا اور دوسری طرف وہ بندر (چمپینزی) کی بھی کچھ خصوصیات اپنے اندر رکھتا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں باقاعدہ اس کے حوالے شامل ہو گئے۔ وہ کالجوں کے نصاب میں پڑھایا جانے لگا۔ مثال کے طور پر آرایس لل (R. S. Lull) کی مشہور کتاب عضویاتی ارتقا (Organic Evolution) سات سو صفحات پر مشتمل ہے اور ٹیکسٹ بک کی حیثیت سے رائج ہے۔ اس میں انسان اور حیوان کے درمیان جن معلوم کڑیوں کا ذکر کیا گیا

ہے وہ حسب ذیل چار بیس:

1. Ape-man of Jawa. 2. Piltdown man 3. Neanderthal Man 4. Cro-magnon Man مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پلٹ ڈاون میں ایک مکمل فریب تھا۔ اس سلسلہ میں سائنس دانوں کے تحقیقی نتائج مختلف کتابوں اور مقالات میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کو جاننے کے لیے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ یا’’پلٹ ڈاون فورجری‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کافی ہے۔ کو آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: 1. Bulletin of the British Museum (Natural History), Vol. 2, 2. J.S. Weiner, The Piltdown Forgery (1955)

3. Ronald Millar, The Piltdown Man (1972)

4. Reader's Digest, November 1956 5. Popular Science (Monthly) 1956 چارلس ڈاسن (Charles Dawson) نامی ایک انگریز متحجر ہڈیوں(Fossil Bones) کے جمع کرنے کا بہت شوقین تھا۔ 1912ء کا واقعہ ہے کہ وہ کچھ ہڈیوں کو لے کر برٹش میوزیم پہنچا اور یہ خبر دی کہ یہ ٹکڑے اسے جنوبی انگلینڈ کے ایک مقام پلٹ ڈاون (Piltdown) میں ایک کھوہ کے اندر کنکریوں کے درمیان پڑے ہوئے ملے ہیں۔ برٹش میوزیم کے ایک نامور عالم ڈاکٹر آرتھر اسمتھ وڈورڈ (A.S. Woodward) نے اس میں خصوصی دلچسپی لی اور بتائے ہوئے مقام پر پہنچ کر کھدائی کے ذریعہ مزید ٹکڑے حاصل کیے۔ اس طرح ہیں سے کچھ زیادہ ہڈیوں اور دانت کے ٹکڑے جمع کرکے ان کا مطالعہ شروع کیا گیا۔

ان حاصل شدہ ٹکڑوں میں سب سے زیادہ نمایاں ایک جبڑے کا ٹوٹا ہوا حصہ تھا جو واضح طور پر ایک بندر کا جبڑا معلوم ہوتا تھا۔ مگر اس میں ایک خاص چیز بندر سے مختلف تھی۔ یہ اس میں لگے ہوئے داڑھ کے دو دانت تھے جن کی اوپر کی سطح ہموار (flat) تھی۔ جو کہ صرف کسی انسانی دانت ہی

میں ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قیاسی کر لیا گیا کہ یہ جبڑا کسی قدیم انسان کا ہے۔ اور اس کے بعد نہایت آسانی سے اس کو ارتقا کی ایک گم شدہ کڑی قرار دے دیا گیا۔ تلاش کرنے والوں نے جلد ہی پلٹ ڈاؤن کے آس پاس وہ کھوپڑی بھی حاصل کر لی جو دوسرے سابق کے اس انسان کے سر پر قدرت نے پیدا کی تھی۔ مذکورہ بالا کھوہ میں ماقبل تاریخ کے زمانے کے کچھ جانوروں کے آثار ملے جن سے یہ متعین ہو گیا کہ ’’پلٹ ڈاؤن مین‘‘ قدیم برفانی دور کا انسان ہے جو پانچ لاکھ سال پہلے زمین کے اوپر گزر چکا اس تحقیق نے دوسری معلوم کی ہوئی گم شدہ کڑیوں کے مقابلہ میں اس کو قدیم ترین معلوم انسان کی حیثیت دے دی۔ چارلس ڈاسن عظیم اعزازات کا مستحق قرار دیا گیا۔ کیوں کہ اس نے سائنس کی ایک پیچیدہ گتھی کو حل کرنے میں مدد دی تھی۔

پتھر میں تبدیل شدہ یہ انسانی ہڈیاں جو حاصل ہوئی تھیں وہ پورے انسانی ڈھانچہ کے صرف بعض اجزاء تھے۔ مگر ماہرین نے ان کی روشنی میں قوت تخیل (power of imagination) سے کام لے کر پانچ لاکھ سال پہلے کے انسان کا ایک پورا ڈھانچہ تیار کر لیا جو اپنی بے ڈھنگی پیشانی اور بندر نما جبڑوں کے ساتھ چالیس سال تک سائنس دانوں کا مرکز توجہ بنا رہا۔ مگر 1950ء میں یکا یک پلٹ ڈاؤن مین کی حیثیت کو سخت دھکا لگا۔ جب طبقات الارض کے ایک عالم ڈاکٹر کنتھ آکلے (Kenneth Oakley) نے ایک کیمیاوی طریقے کو استعمال کر کے اس کی تاریخ معلوم کی۔ یہ ایک اصول ہے کہ کوئی ہڈی جتنے دنوں تک زمین میں دفن پڑی رہے گی وہ اسی کے بقدر زیادہ مقدار میں ایک مخصوص عنصر کو جذب کرتی ہے جس کا نام فلورین (Fluorine) ہے۔ کے تجربے سے معلوم ہوا کہ حاصل شدہ ہڈیوں میں جتنی فلورین پائی جاتی ہے، اس کے لحاظ سے اس کی عمر صرف پچاس ہزار سال ہونی چاہیے، نہ کہ پانچ لاکھ سال۔

بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پلٹ ڈاؤن مین کی کھوپڑی کے متعلق آکلے کا اندازہ بالکل صحیح مگر اس کی بنیاد پر اس نے جبڑے کی عمر بھی جو اسی قدر فرض کر لی تھی، وہ صحیح نہیں تھی۔ جبڑا در حقیقت موجودہ زمانے کے ایک بندر کا تھا جو فرضی طور پر مذکورہ کھوپڑی کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔

آکلے کی مذکورہ دریافت نے پلٹ ڈاؤن کو دوبارہ ایک معما بنا دیا کیوں کہ پانچ لاکھ سال پہلے کے ایک ڈھانچے کو گم شدہ کڑی فرض کیا جا سکتا تھا مگر ایک ایسا جاندار جو صرف پچاس ہزار سال پہلے موجود رہا ہو اس کا گم شدہ کڑی ہونا بالکل نا قابل قیاس تھا۔

اس کے بعد 1953ء کی ایک شام کولندن کی ایک دعوت میں آکلے کی ملاقات آکسفرڈ یونیورسٹی میں انسانیات کے ایک پروفیسر ڈاکٹر وینر (J. S. Weiner) سے ہوئی۔ ڈاکٹر آکلے کی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد گھر آ کر اس نے سوچنا شروع کیا کہ آخر اس کی حقیقت کیا ہے۔ سب سے زیادہ حیرانی اس کو پلٹ ڈاؤن مین کے دانت کے بارے میں تھی۔ بندر نما جبڑے میں انسانی دانت جو اس طرح ہموار ہیں جیسے کسی نے ریتی سے ......“ یہ سوچتے ہوئے اچانک ایک نیا خیال اس کے ذہن میں آیا، ”ایسا تو نہیں ہے کہ کسی نے ریتی سے گھس کر ان دانتوں کو چکنا کر دیا ہو۔ ‘‘ اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب وہ اپنے سامنے تحقیق کا ایک نیا میدان پا رہا تھا۔

وینر نے اپنے ایک ساتھی سر ولفرڈ لی گر وز کلارک (Sir Wilfred Le Gros Clark) کی معیت میں چمپینزی (بندر کی ایک قسم) کا ایک داڑھ کا دانت لیا، اس کو ریتی سے گھس کر ہموار کیا اور اس کے بعد اسے رنگ کر دیکھا تو وہ پلٹ ڈاؤن کے دانت کے بالکل مشابہ تھا۔ اس کے بعد وہ دونوں برٹش میوزیم گئے تا کہ پلٹ ڈاؤن مین کے جبڑے حاصل کر کے اس کے متعلق اپنے قیاس کی تحقیق کریں۔ لوہے کا ایک مقفل بکس جو خاص طور پر فائر پروف بنایا گیا تھا، اس کے دروازے کھولے اور اس کے اندر سے پلٹ ڈاؤن کے ڈھانچے کے”مقدس‘‘ ٹکڑے نکالے گئے تا کہ سائنسی طریقوں کے مطابق ان کا گہراتجزیہ کیا جائے۔ اکسرے مشین اور دوسرے جدید قسم کے آلات حرکت میں آ گئے۔ ایک مخصوص قسم کا کیمیاوی طریقہ بھی استعمال کیا گیا جو نائٹروجن کی کمی کو معلوم کر کے یہ بتاتا ہے کہ اس پر کتنا وقت گزر چکا ہے۔

ویز کا قیاس صحیح تھا۔ ان مشاہدات سے معلوم ہوا کہ پلٹ ڈاؤن مین کے جبڑے کی ہڈی

کوئی پرانی ہڈی نہیں تھی بلکہ عام قسم کے ایک بندر سے حاصل کی گئی تھی۔ ہڈی کا قدرتی رنگ چونکہ فاسلز (fossils) ہونے کے بعد بدل جاتا ہے، اس لیے فریب دہندہ نے نہایت ہوشیاری سے اس کو مہوگنی رنگ میں رنگ دیا تھا۔ رنگ کو عین مطابق بنانے کے لیے چند مخصوص اجزاء استعمال کیے گئے تھے۔ گہرے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ دانت کی سطح پر ایسے خراش موجود ہیں جو بلا اشتباہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ دانت مصنوعی طور پر رگڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کناروں میں غیر فطری قسم کی تیزی بھی تھی جو کہ صرف ریتی سے رگڑنے ہی کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ 1953ء میں مندرجہ بالا تینوں محققین (آکلے، ویز، کلارک) نے اعلان کیا کہ جبڑا اور دانت بالکل فرضی ہیں— اس کے بعد ویز نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اتنا بڑا فریب جو گھڑا گیا اس کا مصنف کون تھا۔ اس نے تمام ممکن تفصیلات جمع کرنا شروع کیں، ملک بھر کے سفر کیے تاکہ پلٹ ڈاؤن کے واقعہ سے متعلق جو افراد ہیں ان سے گفتگو کرے، جو لوگ مر چکے تھے وہ ان کے عزیزوں اور دوستوں سے ملا۔ اخبار کے قدیم فائلوں سے اس سلسلے کی تمام رپورٹیں پڑھ ڈالیں۔ اس گہرے مطالعے کے بعد پلٹ ڈاؤن کے واقعہ سے تمام افراد بالکل بری نظر آئے۔ ایک شخص (چارلس ڈاسن) اس سے مستثنیٰ تھا۔ جو اس واقعہ کا ہیرو تھا۔ تمام معلومات اشارہ کر رہی تھیں کہ اس بے بنیاد بات کا اصل مصنف ڈاسن ہی ہے۔

چارلس ڈاسن ایک کامیاب قانون داں تھا۔ وہ انگلینڈ کے اس مخصوص خطے کا باشندہ تھا جہاں متحجرات (fossils) کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ڈاسن کو متحجرات سے بہت دل چسپی پیدا ہو گئی اس کا یہی مشغلہ بن گیا کہ وہ متحجر ہڈیاں جمع کیا کرتا تھا۔ پلٹ ڈاؤن مین کے واقعہ سے پہلے وہ دور قدیم کے متعدد جانوروں کے ڈھانچے حاصل کر کے لندن کے عجائب خانے میں بھیج چکا تھا۔ بعد کو ڈاسن کو وہ مذاق سوجھا جس نے 40 سال سے زیادہ مدت تک اہل علم کو فریب میں ڈاسن کے ایک ملاقاتی نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ آواز دیے بغیر ڈاسن کے کمرے میں چلا اس نے دیکھا کہ ڈاسن کچھ تجربات میں مشغول ہے۔ وہ مختلف برتنوں میں کھاری اجزاء اور

رنگین عرق ڈال کر ہڈیوں کو اس میں ڈبوئے ہوئے تھا۔ ڈاسن نے اس کو دیکھ کر گھبرائے ہوئے انداز میں وضاحت کی کہ وہ متحجر ہڈیوں کو رنگ رہا تھا تا کہ یہ معلوم کرے کہ قدرتی طور پر ان کا جورنگ ہے وہ کیسے بنتا ہے۔ اس قسم کے اور واقعات معلوم ہوئے جنھوں نے اس خیال کی تصدیق کر دی کہ اس گھڑے ہوئے فریب کا مصنف ڈاسن ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب کہ اس سے بہت پہلے ڈاسن 1916 میں 52 برس کی عمر میں اپنی شہرت کے وقت مر چکا تھا۔

ڈاسن نے اپنے جھوٹ کو مکمل کرنے کے لیے ایک اور تدبیر کی۔ اس نے پتھر کے کچھ اوزار پیش کیے اور بتایا کہ یہ اسے پلٹ ڈاؤن کے مقام پر ملے ہیں۔ چنانچہ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ یہ پتھر کے وہ اوزار ہیں جن سے پانچ لاکھ سال پہلے کا ناقص انسان کام لیا کرتا تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے ان کو بھی بالکل جعلی ثابت کر دیا۔ ڈاسن نے اسی قسم کا ایک پتھر کا اوزار ہیری موریز (Harry Morris) کو مور یز ایک بینک کلرک تھا اور پتھر کے پرانے نمونے جمع کرنے کا شائق تھا۔ بعد کو مور یز اپنی تحقیق سے اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ پتھر کا اوزار بالکل جعلی ہے۔ مور یز نے اس پتھر کو اپنی مخصوص الماری میں دوسرے نمونوں کے ساتھ رکھ چھوڑا تھا۔ جب وینز کو اس کی اطلاع ملی تو اس کا شوق بڑھا مگر اس سے بہت پہلے مور یز کا انتقال ہو چکا تھا۔

وہ پتھر کہاں ہے؟ وینز کو یہ سوال پریشان کرنے لگا۔ مور یز کے مرنے کے بعد اس کی الماری دو ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی۔ تاہم وینز نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ الماری کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس کے اندر بارہ خانے ہیں جن میں بہت سے نمونے لیبل لگے ہوئے رکھے ہیں۔ آخری خانے میں پلٹ ڈاؤن کا پتھر کا اوزار تھا اس پر مور یز کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ الفاظ درج تھے: “Stained by C. Dawson with intent to defraud”. یعنی اس کو ڈاسن نے بالکل جعلی طور پر خود اپنے ہاتھ سے رنگا تھا تا کہ دنیا کو دھوکا دے کہ یہ بہت پرانے زمانے کا اوزار ہے۔ ایک نوٹ میں مور یز نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہائیڈروکلورک ایسڈ پتھر کے بھورے رنگ کو ختم کر کے اس کو معمولی سفید رنگ کے پتھر میں تبدیل کر دیتا ہے۔

Printed page