Al-Risala · November 2022

مکمل اسلام، ربانی اسلام

Al-Risala, November 2022, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں کُو نُوا رَبَّانِيّينَ (3:79) تو آیا ہے، یعنی اللہ والے بنو۔ مگر نفوذ وا شرائع الاسلام (اسلامی شریعت کو امپوز کرو) کہیں نہیں آیا ہے۔ یہ تصور بلا شبہ قرآن و سنت میں ایک اجنبی تصور ہے۔ یعنی یہ کہ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے، اور اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ اس کو زندگی کے ہر شعبہ حیات میں پوری طرح نافذ کریں۔ کسی پیغمبر نے دین کا یہ تصور پیش نہیں کیا، اور نہ کسی پیغمبر نے یہ کہا کہ میرا کام خدا کے دین کو زندگی کے تمام شعبوں میں کامل طور پر نافذ کرنا ہے۔ حالاں کہ تمام پیغمبروں کا اصل دین ایک تھا۔ آپ اس قسم کے کسی مسلم رہنما کی تحریر پڑھیے یا اس کی تقریر سنیے، تو لمبی تقریر اور لمبی تحریر کے باوجود ان کی باتوں میں اصل اسلام حذف ہوگا۔ اللہ سے محبت کی بات، اللہ سے خوف کی بات، آخرت کے مواخذہ کی بات، جنت کے شوق کی بات، ذاتی تزکیہ کی بات، دعوت الی اللہ کی بات، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتیں ان کے طویل کلام میں حذف ہوں گی۔ البتہ ساری دھوم اس بات پر ہوگی کہ فلاں طاقت اسلام کی دشمن ہے، فلاں طاقت اسلام کے خلاف سازش کر رہی ہے، فلاں قوم کے اندر اسلاموفوبیا کا مزاج پیدا ہو گیا ہے، فلاں حکومت اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وغیرہ۔ ایسا کیوں ہے کہ ان لوگوں کی باتوں میں مثبت اسلام غائب ہو جاتا ہے، اور دشمنان اسلام کے تذکرے کی دھوم ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تحریک کے لیے صحیح نقطۂ آغاز کو دریافت ہی نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ ایک ایسے مقام سے اپنے عمل کا آغاز کرتے ہیں جو اس دنیا میں کبھی اپنی منزل تک پہنچنے والا ہی نہیں۔

جب وہ اس بات کو اپنا نشانہ بناتے ہیں کہ اسلام کو مکمل نظریہ حیات کے طور پر نافذ کرنا ہے تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی پولیٹیکل اتھارٹی ہے جو ان کے کام میں مستقل رکاوٹ اس لیے وہ فوراً پولیٹیکل اتھارٹی سے ٹکراؤ شروع کر دیتے ہیں تاکہ خود پولیٹیکل سیٹ پر قبضہ کیوں کہ ان کے مفروضہ نظریے کے مطابق ان کو نظر آتا ہے کہ پولیٹیکل سیٹ پر قبضہ کیے بغیر

وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت کا دستور انھیں اجازت دے کہ تم نان پولیٹیکل میدان میں اپنا کام جاری رکھو، تو ان کو دکھائی دے گا یہ تو ناقص اسلام ہے۔ ہم اپنے نظریے کے خلاف ناقص اسلام پر کیسے راضی ہو سکتے ہیں۔ اس طرح ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کا مفروضہ مکمل اسلام ان کو کبھی حاصل نہیں ہوتا، اور جو اسلام ان کو حاصل ہوتا ہے، وہ نامکمل دکھائی دیتا ہے۔

اگر دین کا یہ تصور درست ہو کہ دین ایک جامع نظام حیات کا نام ہے، اور دین کو زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کرنا اہل دین کا مشن ہے تو یہ دین کا ایک ایسا تصور ہے جو سرے سے قابلِ عمل یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی اپنا مشن یہ بنائے کہ مجھے سورج کو مغرب سے نکالنا ہے، اور اس کو مشرق میں غروب کرنا ہے، تو ایسا مشن کبھی واقعہ نہیں بنے گا۔ یہی حال اس تصور دین کا ہے کو مکمل اسلامی نظام کہا جاتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ حضرت آدم سے لے کر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تک انسانی تاریخ میں پیغمبروں کی رہنمائی میں دینی تحریک کا تسلسل جاری رہا۔ مگر اس پوری مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں کامل نظام کی حیثیت سے نافذ اور قائم ہو جائے ۔ حتی کہ خاتم النبیین کے زمانے میں بھی نہیں۔ انبیاء اور انبیاء کے متبعین کی پوری تاریخ میں کوئی نہیں بتا سکتا ہے کہ اس قسم کا مفروضہ کامل نظام کبھی عملاً جاری و نافذ رہا ہے۔

عمر بن الخطاب (وفات 23 ہجری) اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے۔ انھوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا: اِنَّ اَخَر مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرَّبَا ، وَ اِنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبِضَ وَ لَمْ يُفَسِّرُهَا لَنَا، فَدَعُوا الرَّبَا وَ الرَّيْبَةَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2276)۔ یعنی سب سے آخر میں جو آیت نازل ہوئی، وہ آیتِ رباتھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور آپ نے ہمارے لیے اس کی تفسیر نہیں بیان کی۔ پس تم ربا بھی چھوڑ دو، اور جس میں ربا کا شبہ ہو، اس کو بھی چھوڑ دو۔ اس طرح کے دوسرے بہت سے احکام ہیں، جن میں ہم کو بنیادی اصول تو ملتا ہے، لیکن ہم کو ان کی تفصیل نہیں ملتی۔ مثلاً خلیفہ کے انتخاب کا کوئی ایک متعین قرآن وسنت میں موجود نہیں۔ حالت میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دین اصلاً انفرادی پیروی کا موضوع ہے، نہ کہ اجتماعی نفاذ کا موضوع۔

Printed page