Al-Risala · November 2022

چیلنج کی صورتِ حال

Al-Risala, November 2022, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ : الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6412 )۔ یعنی عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: دو نعمتیں ہیں جن میں بہت سے لوگ دھوکے میں رہتے ہیں ۔ تندرستی اور فرصت ۔

اس حدیث میں ایک قانونِ فطرت کو بیان کیا گیا ہے ۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان جس کو چیلنج کی صورت حال کا سامنا نہ ہو وہ غفلت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ انسان کی زندگی میں جب آرام و راحت کی صورت حال پیش آجائے تو ایسا انسان جمود (stagnation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ فکری طور پر ڈل (dull) ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف، جب انسان چیلنج کی صورت حال میں رہتا ہے تو اس کی سوئی ہوئی فطری صلاحیتیں بیدار رہتی ہیں۔ چیلنج کی حالت انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایک عام انسان سپر انسان (superman) بن اس کے اندر نا موافق صورتِ حال کو مثبت طور پر بیچ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا انسان ہر عسر کے اندریسر تلاش کر لیتا ہے۔

برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (1975-1889ء) نے 12 جلدوں میں ایک ضخیم کتاب لکھی اس کتاب کا نام اسٹڈی آف ہسٹری (A Study of History) ہے۔ اس کتاب میں اس نے پوری دنیا کی 19 عظیم تہذیبوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ میں فطرت کا ایک نظام قائم ہے ۔ جس کو اس نے چیلنج ۔ رسپانس میکینزم کا نام دیا ہے ۔ کے تحت ایک چیلنج پیش آتا ہے۔ اس کے بعد قوم کے اندر ہلچل پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ہلچل اس قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ غیر ترقی یافتہ قوم ترقی یافتہ قوم بن جاتی ہے ۔ یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔ یہ معاملہ قوم کا بھی ہے، اور فرد کا بھی۔

اس کوراقم الحروف کے ایک تجربے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک صاحب نے مجھ سے ایک بار

کہا کہ محمد کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا ہی رہ جائے گی۔ اس کو میں نے مثبت چیلنج کے طور پر لیا۔ اس طرح مجھے یہ موقع ملا کہ میں وہ کتاب لکھوں جس کا نام اسلام دور جدید کا خالق ہے۔ اسی طرح ایک مثال یہ بھی ہے کہ میرے پاس ایک نوجوان عالم دین رہتے تھے۔ ایک اہم صفت یہ تھی کہ وہ میرے اوپر خوب تنقید کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے جاب کے لیے یو اے ای (UAE) چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا: انا ناقد اكبر ناقد في الهند (میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد پر نقد کرنے والا ہوں)۔ ان کی تنقید وں سے میرے ذہن کے بند گوشے کھلتے تھے، نئی نئی باتیں ذہن میں آتی تھیں، وغیرہ۔ چیلنج کی صورت حال انسانی نیچر کے مطابق ہے۔ اس کے برعکس، آرام وراحت کا راستہ انسان کی نیچر کے مطابق نہیں ہے۔ میں ایک مرتبہ احمد آباد کے سفر میں ایک فیکٹری دیکھنے گیا۔ امپورٹڈ مشینیں اس فیکٹری میں لگی ہوئی تھیں۔ فیکٹری کے نوجوان مالک نے بات چیت کے دوران ایک جملہ بولا تھا: اپنی تو لیمیٹیشن (limitation) آجاتی ہیں مینجمنٹ سائیڈ پر۔ اس جملے نے میرے مائنڈ کو ٹریگر کیا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح ہر انسان کے لیے اس کی ترقی کی لیمیٹیشن (limitation) آجاتی ہے، جب اس کے لیے چیلنج کا ماحول باقی نہ رہے۔

کسی انسان کی زندگی میں چیلنج کا ماحول کیسے پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان دو صفتوں یعنی کامل سادگی اور مکمل قناعت کا حامل ہو، اس کی زندگی میں یہ انقلاب آتا ہے۔ مکمل سادگی کامل عزم کی علامت ہے۔ ایک بامقصد زندگی کی علامت ہے۔ عدم قناعت اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے اندر گہرائی کا فقدان ہے، اور قناعت اس بات کی علامت ہے کہ آدمی گہری غور وفکر کا مالک ہے۔ اس بنا پر وہ مادی چیزوں کے بجائے معنوی چیزوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کو پانے کا طریقہ ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر یعنی یہ کسی آدمی کے اچھے اسلام میں سے ہے کہ وہ بے فائدہ چیز کو ترک کرے۔ میں، وہ غیر متعلق چیزوں کو ترک کر دے تا کہ وہ سادہ زندگی، اونچی سوچ کا طریقہ اختیار کر سکے۔

Printed page