Al-Risala · November 2022

ڈائری 1986

Al-Risala, November 2022, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

پروفیسر علی اشرف (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا: میں ہر مہینہ باقاعدہ الرسالہ پڑھتا ہوں۔ اس سے پہلے 1980ء میں آپ کی تمام کتابیں خرید کر پڑھ چکا بعض کتابیں ایک سے زیادہ بار بھی پڑھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تحریروں میں جو فکر پیش کیا ہے اس سے مجھے صد فی صد اتفاق اب تک کے مطالعے میں مجھے آپ کی صرف ایک بات کھٹکی ہے اور وہ آپ کا وہ مضمون ہے، جس کا عنوان ہے: حسنین: تاریخ کے دو علامتی کردار (ظہور اسلام، صفحہ 90)۔ اس مضمون کو پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گویا آپ یہ تلقین کر رہے ہیں کہ انسان کو برائی (evil) کے مقابلے میں کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کو برائی کے مقابلے میں اپنا سر جھکا کر بیٹھ جانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ مجھے برائی کے خلاف اقدام کرنے پر اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسے اقدام پر اعتراض ہے جب کہ اقدام سے نقصان ہو جائے مگر برائی وہیں کی وہیں باقی رہے۔ میں نے کہا کہ میرا اختلاف برائی کے خلاف اقدام سے نہیں ہے بلکہ میرا اختلاف ایسا اقدام سے ہے جو نتیجہ خیز ہونے والا نہ ہو۔ قبل از وقت اقدام یا تیاری کے بغیر اقدام ہمیشہ بے فائدہ اور اقدام کی یہی وہ قسم ہے جس سے مجھے اختلاف ہے۔ برائی کے خلاف عملی اقدام صرف اس وقت کرنا چاہیے جب کہ اقدام کے ضروری اسباب فراہم ہو گئے ہوں۔ بصورت دیگر برائی کے خلاف نصیحت اور تلقین کی سطح پر کام کیا جانا چاہیے، نہ کہ عملی اقدام کی سطح پر۔ پروفیسر علی اشرف صاحب نے میری اس وضاحت سے اتفاق کیا۔

مسز شکیلہ خاں (پیدائش 1940ء) 1980 سے الرسالہ پڑھتی ہیں، اور اس کے ساتھ ان کے

شوہر آر یو خان بھی۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ کے کئی پرچے منگاتی ہوں اور ان کو دوسروں تک پہنچاتی ہوں ۔ میں جانتی ہوں کہ الرسالہ بہت اچھی چیز ہے، مگر کبھی بہت اچھی چیز بھی لوگوں کو اچھی دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ گنبد کھڑا کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ اینٹیں اس کی نیو میں دفن ہونے پر راضی ہوں۔ انہوں نے اپنے بارے میں تاثر کے ساتھ کہا کہ میں وہ نیو (foundation) بننا چاہتی ہوں جس پر کوئی گنبد کھڑا ہو سکے۔ انہوں نے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت حقیقت پسند (realist) ہیں۔ نے کہا کہ ہمارے گھر میں ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ میں بہت جھنجھلائی۔ میرے شوہر نے سمجھایا کہ اس وقت ہم صرف صبر ہی کر سکتے ہیں۔ جو کچھ ہو سکتا ہے وہ بعد کو ہو سکتا ہے ۔ ان کا یہ جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ”بعد کو سب کچھ ہوگا مگر اس وقت کچھ نہیں ہوسکتا “۔ اسی طرح ایک بار وہ اپنے ایک رشتے دار کے یہاں گئیں۔ وہاں انہیں کچھ دن ٹھہر نا تھا۔ وہاں لوگوں کے رہنے سہنے کے طریقے انہیں غلط نظر اس پر انہیں غصہ آیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ لوگوں سے لڑ جائیں۔ ان کے شوہر نے کہا کہ یہ تمہارا گھر نہیں ہے، یہ دوسرے کا گھر ہے۔ یہاں تم کو برداشت کر کے رہنا ہوگا۔ اس گھر میں کچھ نہیں بدلے گا، اگر بدلوگی تو تم بدلوگی۔ اسی طرح انہوں نے اپنے شوہر کی ایک بات ان الفاظ میں نقل کی: ”اگر اپنی غلطی کو درست ثابت (justify) کروگی تو کبھی ترقی نہیں کروگی۔ ترقی کرنے کے لیے اپنی غلطی کو ماننا پڑتا ہے۔ 29 جنوری 1986 27 جنوری 1986 کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز (تغلق آباد) میں مسٹر اصغر علی انجینئر کی ایک تقریر تھی۔ اس کا عنوان تھا :

Printed page