Al-Risala · November 2022

Islam and Contemporary Problems

Al-Risala, November 2022, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر اصغر علی انجینئر ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں حالات بدل گئے

ہیں، اس لیے اسلام کی ازسرِ نو تعبیر (بالفاظ دیگر نظرثانی) ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن منزل (goal) کی بات نہیں کرتا بلکہ صراط کی بات کرتا ہے۔ صراط کا مطلب ان کے نزدیک پر اس گویا اسلام میں کوئی حکم آخری طور پر طے شدہ نہیں ہے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ صراط کے معنی پر اس کسے ہیں۔ انہوں نے اس کی کوئی لغوی دلیل نہیں دی۔ حالانکہ دلیل کے بغیر مجرد بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔

ایک گھنٹے کی تقریر میں انہوں نے کوئی ایک بھی ایسی واضح مثال نہیں دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حالات میں ایسا فرق ہو گیا ہے کہ اب اسلامی حکم میں تبدیلی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہو گیا ہے کہ اسلام کے نکاح و طلاق کے قانون پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسلام میں فری انکوائری کے اصول کو رائج کرنے پر زور دیا۔ یہ ایک بڑا عجیب تضاد ہے۔ مقرر موصوف نے جو مثال پیش کی اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم معاشرہ میں عمل (practice) غیر اسلامی ہو گیا مگر اس کی بنیاد پر وہ اسلام کے اصولوں کے بارے میں فری انکوائری کی وکالت کر رہے ہیں۔ کہ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ معاشرتی خرابی اصول پر عدم پابندی سے ہوئی ہے۔ تو فری انکوائری اس بات پر ہونی چاہیے کہ اصول اور عمل میں مطابقت کیسے پیدا کی جائے، نہ یہ کہ اصولوں پر فری انکوائری کا عمل کیا جائے۔

Printed page