30 جنوری 1986
Al-Risala, November 2022, pp. 32–35
By Maulana Wahiduddin Khan
آج اتفاقاً لال قلعہ (دہلی) کی طرف جانا ہوا۔ اس عظیم قلعہ کو پانچویں مغل حکمراں شاہ جہاں (1592-1666ء) نے بنوایا تھا۔ قلعہ کی وسیع عمارتیں اور 75 فٹ اونچی دیواریں سرخ پتھروں سے بنی ہوئی ہیں۔ ان کو دیکھ کر عجیب تاثر قائم ہوتا ہے۔
تین سو سال پہلے یہ قلعہ دنیا کی ایک طاقتور سلطنت کا مرکز تھا۔ ”سلطان دہلی کو اس وقت کتنی بڑی حیثیت حاصل ہوگی‘‘ لال قلعہ کو دیکھ کر میری زبان سے یہی جملہ نکلا۔ مگر عجیب بات ہے کہ
لال قلعہ بننے کے بعد ہی مغل سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کی وجہ افراد کی کمی تھی۔ کے پاس پتھر کافی مقدار میں تھے، جن سے وہ ایک عظیم قلعہ بنا سکیں، مگر ان کے پاس جاندار افراد نہ تھے جن سے وہ ایک عظیم سیاسی نظام بنا سکیں۔
اس کے بعد شاہی خاندان میں اقتدار کی لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ شاہی افراد ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ صوبائی حاکموں میں مرکز سے بغاوت کا رجحان پیدا ہو گیا۔ اس صورت حال سے انگریزوں نے فائدہ اٹھایا۔ وہ دھیرے دھیرے پورے ملک پر قابض ہو گئے۔
لال قلعہ کو دیکھ کر یہ سب باتیں ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: قوم کے افراد میں اگر جان نہ ہو تو پتھروں کی دیواریں قوم کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتیں۔ جس قلعہ کو مغل حکمرانوں نے اپنے ابدی اقتدار کی علامت سمجھا تھا وہ ان کے اقتدار کا قبرستان بن کر رہ گیا طاقت کا اصل راز جاندار افراد ہیں اور یہی وہ متاع ہے جو دنیا میں ہمیشہ سب سے کم پائی گئی ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر غور کرو۔ اس سے واضح ہے کہ قرآن کا ایک حصہ سطور (lines) میں ہے اور اسی کا دوسرا حصہ بین السطور (between the lines) میں۔ بین السطور والے قرآن کو صرف غور کر کے پایا جا سکتا ہے۔ اگر قرآن کا ایک حصہ غیر ملفوظ طور پر اس کے بین السطور میں نہ ہوتا تو قرآن پر غور کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔
مجھ پر ایک تجربہ گزرا۔ یہ تجربہ ایک مثال ہے جو اس معاملے کو واضح کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے دو قسم کے پانی بنائے۔ ایک میٹھا اور دوسرا کھاری (فاطر، 35:12)۔ طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ زمین میں مختلف پھل پیدا ہوتے ہیں۔ سب کو ایک پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ مگر سب برابر نہیں۔ ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے (الرعد، 13:4)۔ ان آیتوں پر غور کرتے ہوئے اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں ان میں ایک ایسا مفہوم پا رہا ہوں جو لفظوں میں لکھا ہوا نہیں۔ یعنی اللہ کی ایک نئی صفت۔ میرے ذہن میں آیا کہ انسان کسی
چیز کے مزے کو چکھ کر جانتا ہے۔ آدمی اگر چیز کو زبان سے نہ چکھے تو وہ اس کے مزے کو نہ جان سکے۔ خدا کھانے پینے سے ماورا ہے۔ خدا نے کبھی کسی چیز کو نہیں چکھا ۔ پھر اس کو چیزوں کا مزہ کیسے یہ غور کرتے ہوئے اچانک مجھ پر خدا کی ایک نئی صفت منکشف ہوئی۔ یہ صفت کہ وہ چکھے بغیر چیزوں کے مزے کو جانتا ہے۔ خدا اس انوکھی طاقت کا مالک ہے کہ وہ چیزوں کو انسان کی طرح زبان سے نہ چکھے، اس کے باوجود وہ پوری طرح جانے کہ کس چیز کا مزہ کیا ہے اور کس چیز کا مزہ کیا۔ 1 فروری 1986 3 ستمبر 1984 کو مسٹر مسعود احمد بنارسی سے میری ایک گفتگو ہوئی تھی۔ گفتگو کا موضوع سکھوں کا آزاد صوبہ (پنجابی صوبہ) تھا۔ میں نے کہا کہ آزاد پنجابی صوبہ کبھی نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس سے سخت اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال میں سکھوں کا آزاد پنجابی صوبہ ضرور بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میرا یہ اندازہ صحیح نہیں نکلا تو میں آپ کو ایک لاکھ روپے ادا کروں گا۔ نے اپنے قلم سے میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے :
Within three years Punjab will have an independent Khalistan. Bet Rs. one lakh. آج ہندوستان ٹائمس (1فروری 1986) میں، میں نے مسٹر خشونت سنگھ کا ایک مضمون اس مضمون کو پڑھ کر مجھے وہ واقعہ یاد آیا جو اوپر نقل کیا گیا ہے۔ مسٹر خشونت سنگھ کے مضمون کا عنوان ہے: بیوقوفوں کی ایک قوم (A Nation of Fools)۔ اس مضمون میں مسٹر خشونت سنگھ نے اس پوری سیاست کو احمقانہ سیاست بتایا ہے۔ انہوں نے پنجاب کی تازہ سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
I disapprove of their actions. This is no kar seva but kursee-seva. (Gurcharan Singh) Tohra (d. 2004) wants to stick to his kursee, they want it for themselves. انہوں نے پنجاب کی سیاست پر اردو کا حسب ذیل شعر چسپاں کیا ہے :
جنوں کا دور ہے کس کس کو جائیں سمجھانے ادھر بھی عقل کے دشمن، ادھر بھی دیوانے
آج کا نپور کے دو صاحبان ملنے کے لئے آئے۔ ایک ندوی عالم تھے اور دوسرے تاجر تھے۔ وہ دونوں تبلیغی جماعت کے چلہ میں گجرات جا رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اس وقت امت میں دو قسم کے کام چل رہے ہیں۔ اصلاحی اور دوسرا مطالبا تی۔ پہلے کو داخلی اندازِ کار اور دوسرے کو خارجی اندازِ کار کہہ سکتے ہیں۔ وسنت سے جہاں تک میں سمجھا ہوں، صرف داخلی اندازِ کار ہی صحیح اندازِ کار ہے۔ خارجی اندازِ کار کی تصدیق قرآن نہیں کرتا۔
پھر میں نے کہا کہ داخلی اندازِ کار کا اصول اگر مسلمانوں کی کسی جماعت میں پایا جاتا ہے تو وہ صرف تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت، احتجاج اور مقابلہ اور تجاویز کا طریقہ اختیار نہیں کرتی جو موجودہ زمانہ میں دوسری مسلم جماعتیں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ تمام تر مسلمانوں کی داخلی اصلاح پر زور دیتی ہے۔ اور داخلی اصلاح ہی بلاشبہ اصل قرآنی کام ہے۔
میں نے کہا کہ مستقبل میں اگر کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو صرف داخلی اندازِ کار سے نکل سکتا خارجی اندازِ کار سے قطعا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ خواہ اس قسم کی تحریکیں ایک ہزار سال تک چلتی رہیں۔